Daily Mashriq


گرمی بڑھ رہی ہے میدان سیاست میں بھی

گرمی بڑھ رہی ہے میدان سیاست میں بھی

نواز شریف کہتے ہیں کہ ووٹ کی عزت کے راستے میں جو آئے گا اسے نیست و نابود کردیں گے۔ جو نہیں جانتے وہ جان لیں کہ پیچھے ہٹنے والا بندہ نہیں ہوں۔ ہر ظلم کا مقابلہ کروں گا۔ زرداری کا کردار شرمناک ہے۔ سینیٹ الیکشن میں زرداری عمران گندے کھیل کا حصہ ہیں۔ بلاول بھٹو کہتے ہیں میاں صاحب مولا جٹ بن کر ججوں کو ڈرانا چاہتے ہیں ۔ لاہور کی سڑکوں سے کرپشن کی بو آتی ہے۔ زرداری نے کہا‘ صلح نہیں جنگ کے تحت تخت رائے ونڈ ہلا دیں گے۔ یاد کریں جب آپ کے وزیروں کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں ہم نے بچایا پھر آپ نے آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں۔ آگے بڑھنے سے قبل میاں شہباز شریف کا بیان بھی پڑھ لیجئے۔ وہ کہتے ہیں آرمی چیف سے ملاقات ہوئی تھی۔ سیدھی سی بات ہے ان کے کام کی تعظیم کرنی چاہئے۔ آرمی چیف اور شہباز شریف کی ملاقات کا قصہ یہ ہے کہ جن دنوں وزیر اعظم عباسی نجی دورے پر امریکہ میں عزت کروا رہے تھے شہباز شریف ان ( وزیر اعظم) کے پیغام پر آرمی چیف سے ملے۔ ملاقات واحد نہیں تھی 72گھنٹوں میں 3ملاقاتیں ہوئیں۔ اسلام آباد سے خاتون صحافی نسیم زہراء نے ان ملاقاتوں پر ٹیویٹ کیا۔ آئی ایس پی آر اور اپنے چینل کی انتظامیہ کے دبائو پر انہوں نے ٹیویٹ واپس لے لیا۔ فقیر نے ان ملاقاتوں پر ایک تفصیلی کالم لکھا۔ ریاست کے دو اہم اداروں سے متعلق لوگوں نے شدید دبائو ڈالا کہ کالم کے مندرجات ( ملاقاتوں والے حصہ کی) کی تردید کی جائے۔ سوال کیا میرے پاس خبر تھی کالم میں خبر میں منظر کے ساتھ لکھ دی۔ دبائو میں تردید سے بہتر ہے کہ صحافت چھوڑ کر تعویذ لکھ لیا کروں۔ ان سطور کے لکھتے وقت بھی میرا موقف یہی ہے صحافی کو خبر کی صداقت پر یقین ہو تو ریاستی اداروں‘ حکومت یا کسی کے دبائو پر خبر واپس لینے یا تردید کی ذلت نہیں اٹھانی چاہئے۔

چلیں کالم کے اصل موضوع پر بات کرتے ہیں۔ جناب نواز شریف کے ارشادات عالیہ کا ابتدائی سطور میں حوالہ دیا۔ وہ کسے نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر اعظم کو چیف جسٹس سے ملاقات کے لئے انہوں نے کیوں بھیجا؟ کیا وہ اس بات سے لا علم تھے کہ وزیر اعظم عباسی کا نجی دورہ امریکہ اسٹیبلشمنٹ سے نواز شریف کے معاملات کو طے کروانے کی درخواست کے سلسلے کی کڑی تھا۔ اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر سے 9مارچ کو کس نے بات کی تھی اس انتظامی ملاقات کے لئے پھر جونہی امریکی سفیر کا پیغام ملا وزیر اعظم منہ اٹھائے امریکہ روانہ ہوگئے۔ نواز شریف کیا تردید کرنے کی پوزیشن میں ہیں کہ امریکی سفیر کے پیغام اور وزیر اعظم کے نجی دورہ امریکہ کے پس منظر سے لا علم تھے۔شہباز شریف‘ وزیر اعظم عباسی‘ چودھری منیر( یہ صاحب مریم کے سمدھی ہیں) جنرل عبدالقادر بلوچ اور جنرل عبدالقیوم یہ پانچ افراد پچھلے 8 مہینوں سے جن معاملات کو سلجھانے کے لئے بھاگ دوڑ میں مصروف ہیں وہ معاملات کیا ہیں؟ عجیب بات ہے عوامی اجتماعات میں بڑھکیں ماری جا رہی ہیں اور پس پردہ افہام و تفہیم کے لئے کوششیں بھی۔ نواز شریف اپنے ووٹ کی عزت چاہتے ہیں سر آنکھوں پر کیا گیلانی کے ووٹر انڈیا سے آئے تھے؟ معاف کیجئے گا ووٹ کی عزت تب ہوگی جب ووٹر کی عزت ہوگی۔ ووٹروں کی عزت سیاستدان کرتے ہیں نہ ریاستی ادارے سیاستدانوں کی اکثریت ووٹروں کو کمیوں سے زیادہ اہمیت دینے پر تیار نہیں ہے۔ ریاستی ادارے انہیں زعم ہے کہ یوم الست میں ساری عقل اللہ نے انہیں عطا کردی۔ مطلب یہ ہے کہ رعایا کے پاس عقل نام کی کوئی چیز نہیں۔ سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی جو صلاحیت اداروں کے پاس ہے عوام اس کا تصور ہی نہیں کرسکتے۔

نواز شریف کے خیال میں سازشیں کرنا‘ اداروں کی خوشنودی کے لئے اخلاقیات اور سیاسی اقدار کو جوتے مارنا صرف ان کا حق ہے۔ حضور یہاں سیاست نہیں سمجھوتے ہوتے ہیں اور یہ مروجہ سیاست میں سب کے لئے حلال ہیں۔ پنجابی قیادت اب مزید بے وقوف نہیں بنا سکتی لوگوںکو۔ رہی بلاول اور زرداری کی تقاریر جو اب آں غزل ہیں وہ مگر اس کے باوجود یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ 2018ء میں 1990ء اور اس سے قبل کی دہائی کی سیاست کا متحمل نہیں ہوا جاسکتا۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ جب نواز شریف اور ان کے دیگر پارٹی قائدین بد زبانیاں کریں گے تو دوسری طرف سے پھول برسانے کی مشق نہیں ہوگی۔ عددی اور ریاستی طاقت کے بل بوتے پر اس ملک میں ماضی میں جو ہوتا رہا کیا وہ سب کے سامنے نہیں۔ باوجود اس کے کہ میں صرف سیاستدانوں کو کرپٹ نہیں سمجھتا پھر بھی یہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ نواز شریف کی تازہ سیاست اور انداز تکلم دونوں دبائو بڑھاتے چلے جانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ وہ کہتے پھرتے ہیں نیب کو بلڈوز کردینا چاہئے۔ یہی نیب ان کے مخالفوں کے خلاف کارروائی کرے تو کرپشن کے خلاف جہاد ہوتا ہے۔ ان کے خلاف کارروائی ہو تو ووٹ کی عزت پامال ہوتی ہے۔ یہ عزت و بے عزتی کا تصور صرف لاہوری قیادت کے لئے کیوں ہے۔ کیا چھوٹے صوبوں کے سیاستدانوں اور لوگوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی؟ جناب نواز شریف کو کون سمجھائے کہ جو انہوں نے بویا اب کاٹ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ اور اشرافیہ سے تازہ محبتیں تکلیف دہ ہیں مگر کڑوا سچ یہ ہے کہ اگر آج یا کل نواز شریف کو موقع ملا تو وہ کسی تامل و شرمندگی کے بغیر یہی سب کچھ کریں گے جو ماضی میں کرتے رہے۔ حرف آخر یہ ہے کہ کسی ادارے کو دوسرے ادارے کی حدود میں کردار ادا کرنے کا جنون نہیں پالنا چاہئے۔ سوال مگر یہ ہے کہ اس طرح کے مواقع کون دیتا ہے؟ سیاست دانوں کو ایوان اقتدار سے نکلنے کے بعد بڑے بڑے سچ اور ضرورتیں یاد آتی ہیں لیکن اقتدار کے ماہ و سال میں وہ جمہوریت کو لونڈی جتنی عزت بھی دینے کو تیار نہیں ہوتے اور رعایا کے عوام بننے کی راہ میں ہر رکاوٹ کو حق سمجھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں