Daily Mashriq


عالمی یوم صحت

عالمی یوم صحت

آج سات اپریل ہے اور آج پاکستان سمیت دنیا بھرمیں صحت کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس موضوع پر بات کرتے وقت ہمیں قربان علی بیگ سالک کا ضرب المثل کے درجے پر فائز شعر یاد آجاتا ہے

تنگدستی اگر نہ ہو سالک

تندرستی ہزار نعمت ہے

لیکن عالمی یوم صحت کے موضوع پر بات کرتے وقت ضروری نہیں کہ ہم اس شعر میں بیان کئے گئے خیال یا مضمون کو حرف بحرف درست تسلیم کرلیں۔ انسان تنگدست ہو یا متمول دونوں صورتوں میں تندرستی کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں۔ اگر آپ تندرست ہیں تو تنگدستی کو پھونک مار کراڑا ہی نہیں سکتے حرف غلط کی طرح مٹا بھی سکتے ہیں۔ تندرست و توانا لوگوں کے آگے تنگ دستی ہیچ معنی نہیں رکھتی کیونکہ تندرست ، توانا اور باہمت لوگ زمین پر لات مار کر مٹی کو سونا بنا سکتے ہیں اور اگر ان کا عشق جوان ہو تو کوہ بے ستون کا سینہ چیر کر اپنی شیریں کے لئے دودھ کی نہریں نکال سکتے ہیں ۔ فرہاد کے پاس دھن دولت کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ تنگدست بھی تھا اور تہی دامن بھی، اس نے تندرستی تیشہ اور جذبہ عشق کے بل بوتے پر سرزمین فارس پرحسن اور عشق کی ایسی داستان رقم کردی جو شیریں کو بیاہ کر زرو جواہر میں تولنے والے خسرو پرویز کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی۔ القصہ یہ کہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں تندرستی یا اچھی انسانی صحت ، زندگی کے لطف کو دوبالا کرنے کے لئے جزو لاینفک کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسانی صحت کی مختلف قسمیں ہیں اور ہر قسم کے مختلف مدارج سامنے آتے ہیں۔ جسمانی صحت، دماغی یا ذہنی صحت اور روحانی صحت ، صحت کی وہ قسمیں ہیں جو راقم السطورکسی تحریری یا کتابی حوالے کے بغیر ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر گنوا رہا ہے۔ کہتے ہیں جان ہے تو جہان ہے۔ یعنی اگر کوئی بندہ تندرست و توانا ہے تو وہ دنیا جہان کی نعمتیں حاصل کرکے انہیں اپنے استعمال میں لا سکتا ہے۔ جان ہے تو جہان ہے کی اس ضرب المثل جان سے مراد اچھی صحت یا تندرستی ہی ہے۔ اور اگر پوچھیں تو جان مجموعہ ہے ذہنی،بدنی، اور روحانی تندرستی کا جو لوگ جلال الدین رومی کے بقول

زندگی آمد برائے بندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی

کے اصول پر کاربند رہتے ہیں وہ روحانی طور پر مطمئن اور خوش وخرم رہتے ہیں۔ ایسے خوش نصیب لوگوں کو عبادت گزار ایماندار متقی اور پرہیز گار کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے اور یہ سارے نام روحانی طور پر آسودہ حال یا روحانی تندرستی یا اچھی صحت کے حامل افراد کا طرہ امتیاز سمجھے جا تے ہیں ۔ زندگی کو درپیش مختلف پریشانیاں تفکرات غم و اندوہ کی بارش انسان کو مختلف النوع ذہنی عارضوں میں مبتلا کردیتی ہیں اور یوں ان عارضوں میں مبتلا افراد مختلف النوع نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں۔ انسانی ذہن یا سوچ کا تعلق انسانی دماغ سے وابستہ ہے۔ اور دماغ کو اللہ تعالیٰ نے ہڈیوں سے بنی مضبوط کھوپڑی کے بکسے یا صندوق میں بند کرکے وجود آدم کی چوٹی جیسے بلند و بالا مقام پر رکھا۔ ذہن انسانی جسم کے ہر ہر حصے پرحکمرانی کرتا ہے۔ دور نہ جائیے آپ ہمارے کالم کی یہ سطور اس لئے پڑھ رہے ہیں کہ اس کے پڑھنے کی رغبت آپکو آپکا ذہن دے رہا ہے۔ لیکن یہ بات کبھی بھی نہ بھولئے گا کہ اس کار ثواب میں آنکھوں کی بینائی یا بصارت بھی کارفرما ہے ، وہ ہاتھ بھی جس میں آپ مشرق اخبار تھامے ہوئے ہیں ، اور اس دل کی ہر دھڑکن بھی ہے جس میں چاہت اور بیزاری کی پلس اور منفی قوتیں موجود ہیں۔ گویا کسی کام کو انجام دینے کے لئے جسمانی، ذہنی اور روحانی صحت کا ہم آہنگ ہونا ضروری ہے اور اگر خدا نخواستہ انسانی صحت کے ان اجزاء میں سے کوئی ایک جز بھی علیل ہوجائے تو ہم کوئی کام بھی ڈھنگ سے نہیں کر سکتے۔ ہمیں افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑتا ہے کہ ہم طرح طرح کی معاشرتی ناہمواریوں کا شکار ہوکر ذہنی روحانی اور جسمانی عارضوں کا شکار رہنے لگے ہیں۔ اگر ہم اچھی اور صحت افزاء خوراک کو جزو بدن بنانے کے علاوہ پاک اور صاف فضا میں سانس لیں، مہنگائی، رشوت ستانی، ناانصافی، جیسی بہت سی قباحتوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اپنے بدن ، ذہن اور روح کو مختلف النوع بیماریوں سے محفوظ نہ رکھ سکیں، اگر چہ ایسا کرنا کسی فرد واحد کا کام نہیں ، لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ

فرد قائم ربط ملت سے ہے ، تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میںاور بیرون دریا کچھ نہیں

ہماری انفرادی کوششیں اجتماعی یا قومی سطح کی کوششوں میں ڈھل سکتی ہیں، صرف ہماری سوچوں کے د ھاروں کو ایک اور صرف ایک سمت میں رواں رہنا چاہئے، ایک عزم کی ضرورت ہے، جسے بالجزم بنانے میں دیر نہیں لگتی، شرط صرف اتنی سی ہے کہ ہم میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ جوان ہو، حضور نبی پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھ کو شفا مرحمت فرماتے ہیں،اور ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان ہی لوگوں کی مدد فرماتے ہیں جن کو اپنی حالت کے بدلنے کا خیال ہو، کہتے ہیں پرہیز علاج سے بہتر ہے، وقت پر مکمل نیندلینا، چہل قدمی کرنا، ورزش کی عادت اپنانا ، مناسب تفریح، فضائی ، ماحولیاتی اور آبی آلودگی سے بچنے کی ترکیب کرنا اور اپنے معالج سے چیک اپ کرواتے رہنے کے علاوہ ، کوئی بھی دوائی ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کرنا، پانی ابال کر پینے کے لئے ڈھانپ کر رکھنا اور اس کا استعمال کرنا، فلٹر شدہ پانی پینا ، دوائی کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھنا جیسے سیدھے سادے اور عام فہم اصول ہیں جن پر عمل کرکے ہم عالمی یوم صحت منانے کے مقاصد حاصل کرسکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں