کرک ماضی سے حال تک اور آئندہ

کرک ماضی سے حال تک اور آئندہ

ضلع کرک خیبر پختونخوا کا عجیب و غریب دلچسپ اور کئی لحاظ سے منفرد ضلع ہے۔ کسی زمانے میں یہ ضلع کوہاٹ کی تحصیل کادرجہ رکھتا تھا۔ کرک بنیادی طور پر دو حصوں تھل (تھال) اور چونترہ( ستوترہ) پر مشتمل ہے۔ تھل ریگستانی اور چونترہ پتھریلا علاقہ ہے۔ صابر آباد سے لے کر تخت نصرتی تک (ضلع کرک) کے دونوں طرف اونچے اونچے پہاڑ ہیں‘ اس لحاظ سے یہ علاقہ گویا ایک وادی کی شکل میں پھیلا ہوا ہے۔ موسم بھی اس کا بڑا عجیب ہے۔ گرمیوں میں سخت گرم اور اس پر مستزاد پانی اور بجلی کی قلت وہاں کے باشندوں کی زندگی اجیرن کئے ہوئے ہے۔ کسی زمانے میں سردیوں میں سردی بھی پڑتی تھی۔
جب ہم پرائمری سکول کے بچے تھے تو پورے ضلع میں سوائے چار پانچ مراعات یافتہ خاندانوں کے غربت نے ہر گھر کے منڈیر پر ایسے ڈیرے جمائے ہوئے تھے کہ بہت اچھے اچھے خوبصورت خواتین و حضرات کا غربت کی نا آسودگیوں کے ہاتھوں رنگ و روپ بدل جاتا۔ نومبر سے اپریل تک کے مہینوں میں بہت کم گھروں میں گندم کی روٹی پکتی تھی۔ اکثر لوگ باجرے‘ چھوٹے جو اور جو (اوربشے) کی روٹی کھا کھا کر مئی میں نئے سال کی گندم کی نئی فصل کا بے چینی سے انتظار کرتے تھے۔لیکن پھر فطرت نے لالے کی خود بخود حنا بندی کرنی شروع کی۔ یہاں کے لوگ سخت محنت کش اور جفا کش تھے۔ پورے ضلع میں شاید کرک میں چند پرچون کی دکانیں‘ چائے کے کھوکھے اور چار پانچ کی بسیںتھیں اور بس یہی ہمارا شہر یعنی کرک سٹی تھا۔ البتہ انگریز کے زمانے کا تحصیل ہیڈ کوارٹر‘ تھانہ وغیرہ کی عمارتیں نمایاں تھیں۔ پھر شکر ہے پاکستان قائم ہوا۔ سکول بننے شروع ہوئے اور کرک کے حالات کے ہاتھوں جھلسے لوگوں نے کمر کس کر اپنے بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد کرک کے ابھرتے نوجوانوں نے بنوں‘ کوہاٹ اور پشاور کے کالجوں سے پڑھ کر زندگی کے سارے اہم شعبوں میں نام پیدا کرکے پاکستان کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا۔ قبیلہ خٹک کی اس نامور شاخ (بارک خٹک) نے شعبہ تعلیم اور پاک افواج میں نام پیدا کیا اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ بات تحقیقی لحاظ سے بہت دلچسپی کی حامل ہوگی اگر کوئی یہ سروے کرے کہ کرک کے کتنے غریب خاندان اپنی جفا کشی کے بل بوتے پر آج کھاتے پیتے گھرانوں میں شامل ہیں (الحمدللہ)۔ لیکن دو چیزوں نے کرک کی کایا پلٹ دی۔ ایک تو خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کے لئے جانے والے محنت کشوں کے ریال و درہم نے اور دوسرا انڈس ہائی وے نے لوگوں کو غربت سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا اور آج الحمدللہ! کرک کے دور دراز دیہاتوں تک میں غلہ‘ اناج‘ پھل‘ پھول اور سبزی و ترکاریاں وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ سکولوں‘ کالجوں کی بہتات اور خوشحال یونیورسٹی کی صورت میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع بھی میسر ہیں۔
لیکن ایک دو شعبے ایسے ہیں جس میں مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ شاید کرک بانجھ پن کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایک تو عدم اتفاق ہے اور دوسرا سیاسی طور پر ہمیشہ انتشار رہا ہے۔ چونکہ کرک میں خان ازم وغیرہ نہیں ہے (الحمدللہ) لہٰذا ہر ایک کی ضلع کرک میں جھونپڑی ہی سہی لیکن اس کی اپنی ملکیت ہوتی ہے۔ اس بناء کسی دوسرے کی خوشامد اور سر جھکائو کی روایت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ووٹ کا استعمال زیادہ آزادانہ طور پر ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ محمد اسلم خان خٹک جیسی قومی سطح کی سیاسی شخصیت کو مولانا شہید احمدؒ نے شکست دی تھی اور اسی طرح کے حالات آج تک جاری ہیں۔ کوئی ایم پی اے یا ایم این اے سوائے اسلم خٹک کے کم ہی دوسری یا تیسری بار منتخب ہوا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ عام طور پر انتخابات کے دوران علاقائی سطح کی ضد اور انائوں کی تسکین کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک آدھ کو چھوڑ کر بہت کم ایسے لوگ نمائندگی کے لئے چنے گئے جن کو ضلع کرک کے بنیادی مسائل حل کرنے کا احساس ہو ورنہ آج تک باوجود گیس و تیل اور انڈس ہائی وے کی صورت میں بہترین ذرائع مواصلات کی دستیابی کے اب بھی پینے کا صاف پانی اگر مبالغہ نہ سمجھا جائے 90فیصد لوگوں کو میسر نہیں۔ کرک ویسے تو تعلیمی ترقی کے لحاظ سے مشہور و معروف گردانا جاتا ہے لیکن اب وہاں معیاری تعلیم کے حصول کے لئے ضروری انفراسٹرکچر تو ایک طرف سائنس کے معیاری اساتذہ اور لیبارٹریز اور دیگر سہولتیں دستیاب نہیں۔ تعلیم نسواں کے حوالے سے تو حالات اور بھی نا گفتہ بہ ہیں۔لہٰذا اب جبکہ انتخابات سر پرہیں ایک دفعہ پھر کرک کے قبیلہ خٹک کی آزمائش ہے کہ اقتدار کا ہما کس کے سر پر بٹھاتے ہیں۔ جتنے بھی متوقع امیدوار ہیں سب ہمارے بھائی بند ہیں لیکن سارے اہالیان اور رائے دہندگان کرک سے دست بستہ عرض ہے کہ کوشش کریں کہ ووٹ اس امیدوار کو دیں جو کم از کم دیانتدار ہو۔قرآن کریم کی ہدایت بھی ہے کہ قیادت کے لئے ’’علم اور شخصیت‘‘ بنیادی کوائف ہیں۔

اداریہ