Daily Mashriq


چراغ سے چراغ جلتے رہنا چاہیے

چراغ سے چراغ جلتے رہنا چاہیے

ہمارا معاشرہ ہمیشہ سے مسائل کا شکار رہا ہے اتنے مسائل کہ جنہیں شمار کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ دل دکھانے والی بات یہ ہے کہ ہمارے بہت سے مسائل ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ اپنے کیے کا علاج نہیں ہوا کرتا!جی کے چیسٹر ٹن مسائل کے حوالے سے کہتا ہے کہ ’’ایسا نہیں ہے کہ انہیں حل نظر نہیں آتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہیں مسئلہ نظر نہیں آتا ‘‘ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی مسئلہ حل کرنے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ سب سے پہلے مسئلے کی نوعیت کو سمجھا جائے سب سے پہلے مسئلے کی نشاندہی کرنا بہت ضروری ہے اور ہمارے تو بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کا حل فرد واحد کے بس کی بات نہیں ہے۔ جیسے روزبروز بڑھتی ہوئی پانی کی قلت، لوڈ شیڈنگ، آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی، توڑ پھوڑ کا شکار سڑکیں،بے روزگاری، نکاسی آب کے مسائل، سٹریٹ کرائمز، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں اور اسی طرح کے دوسرے بہت سے مسائل!ہمارے اپنے پیدا کردہ مسائل میں آپس کی دشمنیاں، ،نفرتیں ، تعصب اور بد اخلاقی وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تو ہمارے اختیار میں ہے کہ ہم اپنے پڑوسی کے ساتھ خندہ پیشانی کے ساتھ ملیںنرم لہجے میں بات کریں۔اپنی طرف سے پوری کوشش کریں کہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا ہوںجب ہم دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کوشش کریں گے تو کیا معاشرے میں بہتری نہیں آئے گی۔ محبت کا دور دورہ نہیں ہوگا؟اس طرح تو چراغ سے چراغ جلتا ہے جب آپ دوسروں کے کام آتے ہیں ان کے ساتھ نیکی کے کاموں میں تعاون کرتے ہیںتو وہ بھی نہ صرف آپ کے کام آتے ہیںبلکہ ان کے دلوں میں بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے اگر ہم اپنے دفتری ماحول کا جائزہ لیںتو انسانی خدمت اور اپنے جیسے انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے حوالے سے ان کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ سائل کے ساتھ تعاون کرنے والے بھی ان دفاتر میں مل جاتے ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ آپ کسی بھی سرکاری دفتر چلے جائیںآپ کو چند بابو صاحبان چائے کی پیالیوں پر گپ شپ میں مصروف نظر آئیں گے۔ آپ کو ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے کے لیے سب سے پہلے باآواز بلند ایک درباری قسم کا سلام پیش کرنا پڑتا ہے پھر اپنے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے بلکہ انتہائی لجاجت سے اپنے پورے دانت نکالتے ہوئے اپنی فائل کے بارے میں پوچھنے کی جسارت کرتا ہے۔ وہ اہل کار جس کی خدمت میں درباری قسم کا سلام پیش کیا جاتا ہے ایک آدھ منٹ کی پرا سرار خاموشی کے بعد چائے کی پیالی کو میز پر رکھتے ہوئے ایک خا ص قسم کی ادائے بے نیازی سے حاجت مند پر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالتا ہے اور پھر جلدی سے نگاہ فائلوں پر جماتے ہوئے ایک ادائے دلبرانہ سے کہتا ہے کہ آپ کی فائل تو صاحب کی میز پر ہے آپ دو چار دنوں بعد چکر لگائیں۔ یہ دو چار دن اکثر ہفتوں پر مشتمل ہوتے ہیںاور سائل بے چارہ جوتیاں چٹخاتا پھرتا ہے۔ آپ نے دیکھا ذرا سی سستی اور اپنے فرض سے غفلت برتتے ہوئے ہم دوسروں کے لیے کتنی پریشانی کا سبب بن جاتے ہیںاس قسم کے مسائل جو ہمارے اپنے پیدا کردہ ہیں ان کا حل تلاش کرنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پر تنقید کرنا سب سے آسان کام ہے لیکن ہم کبھی یہ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے کہ ہمارے بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کاحل ہماری اپنی جیب میں موجود ہوتا ہے بس ذرا سی توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔زندگی کے سفر کے ساتھ ساتھ سیکھنے کا عمل بھی جاری رہتا ہے اور اگر انسان سیکھنا چاہے تو ہر لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھ سکتا ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز انسان کے تجربات میں اضافہ کرتے رہتے ہیں انسان اپنی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے کہتے ہیں سیکھنے کے لیے مشاہدہ بہت ضروری ہے۔ دوسروں کے تجربات سے بھی سیکھا جاتا ہے اور دوسرے جن غلطیوں کا ارتکاب کرتے ہیںان غلطیوں سے بچا بھی جاسکتا ہے۔ اسی آنکھ مچولی میں زندگی کی شام ہوجاتی ہے اور اگر با مقصد زندگی گزاری ہو آپ کی ذات ملک و قوم کے لیے مفید رہی ہو تو پیچھے مڑ کر دیکھتے وقت کوئی پچھتاوا نہیں ہوتا جس نے اپنی زندگی میں قدم قدم پر پودے لگا ئے ہوںوہ اپنے آس پاس ایک سرسبز و شاداب باغ لگا ہوا دیکھتا ہے۔ اسے اپنی زندگی کی مقصدیت پر فخر ہوتا ہے اور جو زندگی بھر کوئلوں کی سوداگری کرتا رہا ہو وہ جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اس کے ہاتھ سوائے پشیمانی اور پچھتاوے کے کچھ بھی نہیں آتا۔اس کی زندگی اس کے سامنے ایک مشکل سوال کی صورت آکھڑی ہوتی ہے۔ ہم ساری زندگی کچھ پالینے کی تمنا میں گزار دیتے ہیں خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو ساری زندگی لوگوں کو کچھ نہ کچھ دیتے ہی رہتے ہیں۔ اپنے حصے کی خوشیاں بانٹتے رہنا ان کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ خوشیا ں تقسیم کرنے سے بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔ کسی کے ہونٹوں سے مسکراہٹ چھین لینا کتنا بڑا ظلم ہے ایسا انسان خود بھی مسکراہٹوں کو ترستے زندگی کے شب و روز گزار دیتا ہے۔یہ کارخانہ حیات گلے شکوے کی جگہ نہیں ہے حرف شکایت زبان پر آئے تو زندگی میں کانٹے اگ آتے ہیںشکر کی روش اختیار کرنا ہی خوش نصیبی ہے شکر کرنے سے نعمت نہ صرف بڑھتی ہے بلکہ قید ہوجاتی ہے۔

متعلقہ خبریں