Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

غزوہ موتہ میں رسول اکرمؐ نے تین ہزار کا لشکر روانہ فرمایا: ان میں مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن رواحہؓ بھی تھے۔ اصحاب سیر نے لکھا ہے کہ جب رسول اکرمؐ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو رخصت کرنے لگے تو وہ رونے لگے‘ لوگوں نے وجہ دریافت کی تو فرمایا۔’’میں دنیا سے محبت یا تم سے جدائی پر نہیں رو رہا ہوں بلکہ اس لئے رو رہا ہوں کہ میں نے رسول اکرمؐ سے سنا ہے وہ یہ آیت پڑھ رہے تھے‘ (ترجمہ) ’’ تم میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا اس جہنم پر گزر نہ ہو‘ یہ خدا جل شانہ کا حتمی اور اٹل فیصلہ ہے۔‘‘معلوم نہیں کہ اس پر گزرتے ہوئے میرا کیا بنے گا؟ مسلمانوں نے انہیں تسلی دی اور کہا کہ خدا آپ کو ہماری طرف سلامتی کے ساتھ لوٹائے تو انہوں نے اشعار پڑھے‘ جن میں شہادت کی تمنا کا اظہار تھا‘ چنانچہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ اسی غزوہ میں شہید ہوگئے۔

(کامل ابن اثیر صفحہ نمبر104 ج2)

حضرت لقمان حکیم کے آقا نے ان سے ایک مرتبہ کہا کہ بکری ذبح کرکے اس کے دو بہترین حصے میرے پاس لے آئو۔ انہوں نے بکری ذبح کی اور اس کے دل و زبان آقا کے پاس لے گئے۔آقا نے پھر حکم دیا‘ ایک اور بکری ذبح کرو اور اس کے دو بدترین حصے لے آئو۔ یہ گئے اور بکری ذبح کرکے پھر یہی دو حصے( دل اور زبان) لے کر حاضر ہوگئے۔آقا نے پوچھا: میں نے بہترین حصے طلب کئے تو تم یہی حصے لائے اور بد ترین طلب کئے تو بھی تم یہی حصے لائے۔ اس پر لقمان حکیم نے فرمایا:زبان اور دل اچھے رہیں‘ تو ان سے بہتر جسم میں کوئی عضو نہیں‘ اگر یہ دونوں بد تر ہو جائیں تو پھر ان سے بد تر حصے اعضاء میں اور نہیں ہوتے۔ ( تفسیر قرطبی صفحہ نمبر61ج4)

شیخ عبدالوہاب شعرافیؒ نے اپنی کتاب میں مندرجہ ذیل چشم دید واقعہ ذکر فرمایا ہے‘ فرماتے ہیں: میں نے بہ چشم خود ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ مسجد میں سو رہا تھا اور فجر کے لئے بھی نہ اٹھا‘ جب کافی دیر بعد وہ جاگا تو اس کے ایک کان سے پیشاب بہہ رہا تھا‘ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ اس ارشاد نبویؐ کو نہیں مانتا تھا کہ جس میں حضور اکرمؐ کے سامنے ایک ایسے مرد کا ذکر آیا جو نماز کے لئے نہ جاگا اور سویا ہی رہا تو سید دو عالمؐ نے فرمایا کہ اس کے دونوں کانوں میں شیطان نے پیشاب کردیا ہے۔

(بخاری ومسلم)

حضرت خباب بن ارتؓ نے جب اسلام قبول کیا تو اہل مکہ نے ان پر بے پناہ مظالم توڑے‘ لوہا تپا کر ان کا سرداغا گیا‘ کوئلے دہکا کر انہیں ننگے بدن ان پر لٹا دیاگیا‘ جب اس پر بھی آتش انتقام نہ بجھی تو ایک بھاری پتھر ان کے سینے پر رکھ دیاگیا تاکہ ہلنے نہ پائیں‘ پھر ایک سنگدل اس پتھر پر چڑھ گیا۔ انگارے ان کے جسم کو جلا کر کمر میں گھس گئے اور چربی پگھل پگھل کر بہنے سے کوئلے بجھ گئے۔ان کا ایک چھوٹا بچہ ان کی کمر کے سوراخوں میں انگلی ڈال دیا کرتا تھا‘ کفار نے انہیں اس قدر ستایا کہ زبان نبوت سے بے اختیار ان کے حق میں دعا نکلی: خدایا! خباب کی مدد فرما۔

(سچی اسلامی کہانیاں)

متعلقہ خبریں