Daily Mashriq


جمہوریت اور میڈیا

جمہوریت اور میڈیا

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جمہوری نظام میں میڈیا کاکردار اہمیت کا حامل ہے۔وزیرمملکت مریم اورنگزیب اور ترجمان وزیر اعظم مصدق ملک سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں میڈیا بڑا اہم شراکت دار ہوتا ہے۔ میڈیا کو کسی تعصب کے بغیر اور غیر جانبدارانہ طور پر عوام کو اطلاعات کی فراہمی میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملاقات کے د وران وزیر اعظم کو وزارت اطلاعات و نشریات کی کارکردگی سے آگاہ کیا گیا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب سے ملک میں الیکٹرانک میڈیا کے شعبے میں وسعت پیدا ہوئی ہے اور پرنٹ میڈیا کی نسبت عوام کو مختلف ٹی وی چینلز سے براہ راست خبریں' تبصرے اور ٹاک شوز میں ملکی سیاسی صورتحال کے بارے میں معلومات ملنی شروع ہوئی ہیں اطلاعات کی فراہمی پر جانبداری کا عنصر غالب آتا جا رہا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ عوام بعض متعصب اینکرز کے انتہائی ذاتی اور مفاد پرستا انہ خیالات اور نظریات کا شکار ہو رہے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے حوالے سے ان کی ذاتی پسند نا پسند نے عوام کو مخمصے میں مبتلا کر کے رکھ دیا ہے۔ اس حوالے سے حال ہی میں انجام تک پہنچنے والے پانامہ کیس کو ہی لے کر دیکھیں تو فاضل عدالت میں کیس کی شنوائی کے ہنگام ہر روز شام سے رات گئے مختلف ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے پروگراموں میں نہ صرف یہ مخصوص اینکرز جس طرح جانبدارانہ طور سے میڈیا کورٹس سجاتے تھے اور ان میں ایسے لوگوں کو بلوا کر ان کے خیالات کو آگے بڑھاتے تھے جو انہی کی فکر کے مطابق ہوتے تھے بلکہ مخالف کیمپ کی دھجیاں اڑاتے تھے وہ یقینا قابل غور ہے اور اصولی طور پر اس قسم کی جانبداری کو تحسین کی نظروں سے دیکھا جاسکتا ہے نہ ہی ان کو قبولیت کی سند عطا کی جاسکتی ہے۔ اس میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ میڈیا کو معاشرے کا چوتھا ستون قرار دیاجاتا ہے تاہم یہ اپنی اہمیت تب برقرار رکھ سکتا ہے جب یہ غیر جابندارانہ انداز اختیار کرے اور درست خبریں عوام تک پہنچائے۔ ٹاک شوز میں بھی اعتدال کا دامن تھامتے ہوئے عوام کی تربیت میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کرے۔ مگر افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑتاہے کہ بعض اینکرز اور میڈیاہائوسز ریٹنگ کے چکر میں اپنا امیج مجروح کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں جو درست طرز عمل کے زمرے میں قطعاً نہیں آتا۔

با اختیارسینیٹ کی اہمیت

چیئر مین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہاہے کہ دوسرے ملکوں کی طرح ایوان بالا کو زیادہ با اختیار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ وفاقی اکائیوں کے حقوق کے لئے موثر آواز اٹھا سکے۔سینیٹ کے یوم تاسیس کے موقع پر میاں رضا ربانی نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سینیٹ آف پاکستان وفاقی اکائیوں کے حقوق کے محافظ کی حیثیت سے ظاہر ہوا ہے اور صوبوں کو اختیارات کی تحلیل میں درپیش مسائل پر آواز اٹھائی ہے۔ قائمقام چیئر مین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے اپنے بیان میں کہا کہ ایوان بالا کو مزید مضبوط کرنے سے صوبوں کو بہتر نمائندگی کاموقع ملے گا۔ جہاں تک سینیٹ کی اہمیت کا تعلق ہے اس میں قطعاً شک نہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں آبادی کی بنیاد پر ایک بڑے صوبے کو باقی تین صوبوں کی مجموعی آبادی پر ایوان زیریں میں نمایاں سبقت حاصل ہو اور اگر بڑے صوبے میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت کے ساتھ اسمبلی میں پہنچ جائے جیسے کہ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ازاں بعد پاکستان مسلم لیگ کو یہ مواقع ملتے رہے تو اپنی عددی اکثریت کی بناء پر حکمران جماعت ہر قسم کی من مانی کرنے پر تل سکتی ہے جس سے ملک کی سیاسی فضامیں منفی رجحانات پیدا ہونے کا احتمال ہوسکتا ہے۔ اسی لئے آئین بناتے وقت کسی ایک صوبے کی اجارہ داری کو روکنے ک لئے سینیٹ میں برابری کی بنیاد پر نمائندگی دینے کی سوچ پیدا ہوئی تاہم اس وقت اس بات پر غور نہیں کیاگیا کہ اگر صوبائی اسمبلیوں میں بھی اسی جماعت کی نمائندگی زیادہ ہو جو مرکز میں بر سر اقتدار ہو تو ایسی صورت میں سینیٹ میں بھی اسے ہی اکثریت حاصل ہوسکتی ہے۔ ایسی صورتحال کئی مرتبہ سامنے آتی رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سینیٹ میں نمائندگی تو ایسے ممبران اپنے اپنے صوبوں کی کرتے ہیں تاہم مرکز میں قائم اپنی جماعت کی پالیسیوں پر عمل کرنے پر مجبور ہو کر یہ لوگ صوبوں کے حقوق غصب ہونے کی راہ میں مزاحم نہیں ہوسکتے۔ اس لئے رولز میں ایسی تبدیلی لازمی قرار دینے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ سینیٹ ارکان خواہ ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ کیوں نہ ہو وہ اپنے صوبے کے مفادات کے خلاف ووٹ دینے کے پابند نہ ہوں گے تاکہ چھوٹے صوبوں کا استحصال ممکن نہ ہوسکے ۔ صرف آواز بلند کرنے سے تو بات نہیں بنتی کیونکہ بل کو پاس کرنے میں ممبرز کو پارٹی پالیسی پر چلنا ہوتا ہے جو چھوٹے یونٹس کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس لئے اس بارے غور کرنا لازمی ہے۔

متعلقہ خبریں