Daily Mashriq


مسلم لیگ ن سب اچھا نہیں ہے

مسلم لیگ ن سب اچھا نہیں ہے

یوں لگ رہا ہے کہ پاور سینٹر تبدیل ہونے سے مسلم لیگ ن موجودہ حیثیت میں قائم نہ رہ پائے گی۔ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے خاندانوں کے درمیان خلیج پہلے کی نسبت مزید بڑھ چکی ہے۔ جہاں تک نئے وزیراعظم کا معاملہ ہے تو قارئین دوست محمد کھوسہ کی وزارت اعلیٰ کا انجام پیش نظر رکھیں۔ کھوسہ کی وزارت اعلیٰ کے دوران میاں فیملی اور کھوسہ خاندان میں جو خلیج پیدا ہوئی وہ ہمیں سمجھانے کیلئے کافی ہے کہ شریف فیملی اقتدار میں شراکت برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی چنانچہ جلد ہی شاہد خاقان عباسی اور شریف فیملی کے درمیان فاصلے بڑھنے کی خبریں سننے کو ملیں گی۔ شاہد خاقان عباسی کو جہاں تک میں جانتا ہوں وہ اطاعت اور خود سپردگی میں پیری مریدی کا رشتہ رکھنے والے نہیں ہیں۔ میاں صاحب کو جس طرح کے چاپلوس لوگ پسند ہیں شاہد خاقان عباسی اس طرح کی چاپلوسی کی فطرت نہیں رکھتے۔ اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے اگرچہ نواز شریف کی شان میں قصیدے کہنے کی کوشش کی ہے مگر ایک جملہ انہوں نے ایسا بولا ہے جو یقینا میاں نواز شریف کو پسند نہ آیا ہوگا۔ وہ جملہ تھا کہ وہ (شاہد خاقان)45 دنوں میں 45 مہینوں کا کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ جب وہ یہ کرنے کی کوشش کریں گے تو نواز شریف ٹھنڈے پیٹوں اس کو کس طرح ہضم کر پائیں گے۔ نواز شریف کے جانے کے بعد لوڈشیڈنگ بڑھے گی اور دیگر معاملات میں بھی ابتری آئے گی تاکہ لوگوں کو میاں صاحب کی یاد آئے۔ اس سوچ کے تحت کیا معاملات خوشگوار اندازسے آگے بڑھ سکیں گے؟

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا

دوسری طرف شہباز شریف فیملی کے ساتھ بڑھتی خلیج کا معاملہ ہے۔ حمزہ شہباز نے نئے وزیراعظم کو ووٹ کاسٹ نہیں کیا اور نہ ہی وہ انکی تقریب حلف برداری میں موجود تھے۔ حمزہ اس دن اسلام آباد میں تھے مگر انہوں نے بوجوہ دونوں تقریبات کا بائیکاٹ کیا۔ لگتا ہے کہ حمزہ صاحب نواز شریف کی گڈ بکس میں نہیں ہیں، اسی طرح حمزہ کے بھی تحفظات دکھائی دے رہے ہیں۔ جن دنوں اسلام آباد دھرنے کی لپیٹ میں تھا اور دھرنے والوں سے مذاکرات کے نتیجے میں اس نکتے پر اتفاق ہوا تھا کہ ماڈل ٹائون کے شہداء کے لواحقین کا غصہ ٹھنڈا کرنے اور بات چیت کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف مستعفی ہو جائیں تو ذرائع کے مطابق یہ حمزہ شہباز ہی تھے جنہوں نے دوٹوک انکار کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ ہم ہی کیوں قربانی دیں حالانکہ شہباز شریف استعفیٰ دینے کے لئے تیار ہوگئے تھے۔ دونوں اطراف خاندانی رقابت چل رہی ہے چونکہ اقتدار اگلی نسل کو منتقل ہو رہا ہے۔ شہباز شریف کی حد تک نواز شریف کمپرومائز کرنے کے لئے تیار ہوگئے ہیں اگرچہ یہ بھی خوشی کے ساتھ نہیں ہے مگر پھر بھی بھائی ہونے کے ناطے اپنے بعدانہیں شہباز شریف ہی سوٹ کرتے ہیں۔ دیکھیئے شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کا کیا فیصلہ ہوتا ہے؟ میرا خیال یا بدگمانی یہ ہے کہ میاں نواز شریف خاندانی پریشر میں آکر پہلے کی طرح پیچھے ہٹ جائیں گے، دوسری طرف بھی پنجاب چھیننے کاخوف موجود ہے۔ نواز شریف نے خاندانی دبائو میں آکر ایک مرتبہ پہلے بھی شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کا راستہ روکا تھا۔ جنرل مشرف کے ساتھ شہباز شریف کے معاملات تقریباً فائنل ہوچکے تھے لیکن نواز شریف آڑھے آگئے۔ شہباز شریف وزیراعظم بن جاتے تو نواز شریف کی وطن واپسی کی راہیں بھی کھل جاتیں مگر انہوں نے تاریک مستقبل کی آپشن اپنے اور اپنے خاندان کے لئے بہترمحسوس کی اور یہ گوارا نہ کیا کہ شہباز شریف جنرل مشرف کے ساتھ ڈیل کرکے وزیراعظم بن جائیں۔

واضح رہے کہ یہی کام بعد ازاں محترمہ بے نظیر بھٹو کرنے جارہی تھیں تو انہیں نواز شریف کی خاموش حمایت میسر تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ د سمبر2006 ء کو لندن کے ہلٹن ہوٹل میں ایک لیگی رہنما نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور جنرل مشرف کی خفیہ ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بڑے زور شور سے کہا کہ میاں صاحب بے نظیر بھٹو آپ کو دھوکا دے رہی ہے اس کا اعتبارنہ کرنا۔ لیکن میاں صاحب نے جانتے بوجھتے ہوئے بھی محترمہ بے نظیر بھٹو کا دفاع کیا۔ انہوں نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ کم از کم مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ایسا کچھ بھی نہ کریں گی۔ بعد میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی ڈیل طشت از بام ہوئی تو میاں صاحب نے اس پر کوئی ردعمل نہ دیا اور بے نظیر بھٹو سے بدستور تعاون جاری رکھا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ درون خانہ دونوں رہنما طے شدہ حکمت عملی کے تحت معاملات آگے بڑھا رہے تھے۔ شہباز شریف کو لیکن میاں صاحب نے جنرل مشرف کا وزیراعظم بننے نہ دیا۔ جس سینئر لیگی شخصیت کو میاں شہباز شریف کو سمجھانے کی خاطر جدہ خاص طور پر بلایا گیا ان کے بقول شہباز شریف پوری طرح پرواز کے لئے تیارتھے۔ آج جبکہ نواز شریف اور انکی فیملی کا سیاسی مستقبل مخدوش ہوتا جارہا ہے وہ کیونکر چاہیں گے کہ پاور گیم سے وہ مکمل طور پر باہر ہو جائیں۔ اس طرح لمحہ بہ لمحہ صورتحال تبدیل ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ آنے والے دنوں میں دونوں خاندانوں کے درمیان بھی معاملات کشیدہ ہوں گے اور نئے وزیراعظم کی تعیناتی کے بعد مرکز میں بھی حالات بگڑیں گے۔ محمد خان جونیجو کو بزور طاقت رخصت کرنے والوں کو یاد رکھناچاہیے کہ دنیا مکافات عمل ہے لہٰذا باقی باتوں کی طرح انہیں اس مکافات عمل سے بھی گزرنا پڑے گا۔اس میں جو بو یا ہے وہی کاٹنا پڑتا ہے ۔ ایسا نہیں کہ آپ کسی کے ساتھ براکریں اور پھر آپ کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ ہو ۔ تاریخ پر نظر ڈالیں ایسے بہت واقعات آپ کو پڑھنے کو ملیں گے ۔ اقتدار اور طاقت ایسا نشہ ہے کہ یہ اپنے اور پرائے کا فرق ختم کر دیتا ہے ۔

متعلقہ خبریں