Daily Mashriq


پاگل پاگل دنیا

پاگل پاگل دنیا

ہم نے ہمیشہ سیاست کے موضوع پر گفتگو کرنے سے احتراز کیا ہے۔ ایک تو یہ ہمارا میدان نہیں' سیاسی مسئلے پر بات کرنے کی کوشش بھی کریں تو ہماری تحریر گدھے پر جواب مضمون سے زیادہ اہمیت کی نہیں ہوگی۔ وجہ اس کی ایک تو یہ ہے کہ وطن عزیز کی سیاست ایک ایسے بدبودار جوہڑ کی شکل اختیار کرچکی ہے جس کے قریب جانے سے آپ کے دامن پر کچھ چھینٹیں ضرور پڑ سکتی ہیں۔ ایک سابق وزیر نے ابھی گزشتہ ہفتے ہی سرعام اس اعتراف کے باوجود کہ موجودہ سیاست گالی بن چکی ہے۔ میرا تو اس سے دل بالکل اچاٹ ہو چکا ہے۔ میں عنقریب قوم کو اس سے اپنی نجات کی خوشخبری سنائوں گا۔ اس کے باوجود ان کے منہ سے لگی ہوئی یہ کافر چھٹنے کا نام نہیں لیتی۔

پہ لارہ زم توبے اباسم

ستا د یارئی توبہ مے خلے لہ نہ رازینہ

پشتو کے اس مصرعے کا مفہوم جو متذکرہ سیاستدان پر صادق آتا ہے اردو کے اس شعر میں ہی بیان کیاجاسکتا ہے۔

جام ہے تو بہ شکن تو بہ میری جام شکن

سامنے ڈھیر ہے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا

خیر یہ تو ایک الگ موضوع ہے۔ بتانا ہم یہ چاہتے تھے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے سیاسی گفتگو میں نا قابل بیان الفاظ کی جو ایک نئی ڈکشنری بن رہی ہے اور سیاسی تقریروں کے ذریعے جو تعفن پھیلایا جا رہا ہے ہماری نسل اس پر ضرور سوچتی ہوگی کہ آج کے یہ سیاسی راہنما ان کی ذہنی تربیت کے لئے کیا نصاب دے رہے ہیں۔ اس کی ابتداء کس نے کی اور کب سے ہوئی اس بحث میں پڑے بغیر یہی کہا جاسکتاہے کہ اس حمام میں کم و بیش سب بے لباس نظر آتے ہیں۔ کسی بھی سیاسی لیڈر کے ایک روسٹرم ہاتھ لگے وہ آستین چڑھا ' منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے اپنے مخالف کو بے نقط سنانے میں دیر نہیں لگاتا۔ بے شرم' بے حیا' گھٹیا' ذلیل' جھوٹا اور منافق کے استعمال میں اب کوئی تکلف ہی نہیں کرتا۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو ٹاک شوز اور عوامی اجتماعات کے علاوہ پارلیمان میں بھی ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور تو اور نئے وزیر اعظم نے منتخب ہونے کے بعد اپوزیشن کے کسی ممبر کی جانب سے سوال کرنے پر سنجیدگی سے جواب دینے کی بجائے کہا بیٹے! صبر کرو اس پر بھی بات ہوگی جیسے موصوف پارلیمان میں نہیں بھاٹی گیٹ کے کسی تھڑے پر بیٹھ کر گفتگو فرما رہے ہوں۔ کچھ لوگ ایک دوسرے کو تخاطب کے اس نئے انداز کا سہرا پی ٹی آئی والوں کے سر باندھتے ہیں کہ دھرنے کے دوران اوئے توئے سے اس کی بنیاد پڑی۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ آج کی عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے بہت عرصہ پہلے جب وہ اس سیاسی جماعت کے سر گرم رکن تھے جس کے صدر کی ذات پر وہ آج کل خواب میں بھی تبرا بھیجتے ہیں ایک معزز خاتون رکن اسمبلی کو پیلی ٹیکسی کہا تھا۔ اب آپ ہی بتائیے کہ سیاسی ڈکشنری میں اس نوع کے الفاظ کی ابتداء کس نے کی تھی۔ پانامہ کیس کے دوران ' سماعت ختم ہونے پر عدالت کے باہر چاچا جی کی عدالتیں بھی لگائی جاتی رہیں۔ بعض دفعہ تو قوم نے دیکھا کہ ان خود ساختہ عدالتوں میں روسٹرم پر پہلے قبضہ جمانے کے لئے ایک دوسرے کو گریبانوں تک سے پکڑا گیا اور دھکے دئیے گئے جس کو بھی موقع ملا انہوں نے عدالت عظمیٰ کے باہر مجمع لگا کر ایک دوسرے کی خدمت میں مغلظات کے تحفے بھیجنے شروع کردئیے۔ یہ تحفے ایسے خطابات و القابات کی صورت میں ہوتے جن کے سامنے علامہ چرکین کا دیوان اور سعادت یار خان رنگین کی رنگین بیانی بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ کل رات ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر بجلی اور پانی کے سابق وزیر جو اب بفضل تعالیٰ وزیر خارجہ بن چکے ہیں آئے۔ اینکر پرسن نے اسمبلی میں ایک خاتون رکن اسمبلی کے بارے میں ان کی ایک پرانی پھلجڑی یاد دلائی تو اس پر انہوں نے کوئی معذرت پیش نہیں کی۔ کسی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا فخریہ انداز میں بتایا کہ اس نوع کی گفتگو تو پارلیمانی وٹ کی روایت ہے ۔ دیکھتے ہیں کہ وہ اب فارن ڈیلیگیٹ سے گفتگو میں اپنی اس خداداد وٹی صلاحیت کے کیا نمونے پیش کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی کی ایک معزز رکن قومی اسمبلی نے اپنی پارٹی کے کچھ رہنمائوں کی جانب سے ان کے بقول ان کے نام بھیجے گئے بے ہودہ ٹیکسٹ میسجز کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا۔ اب روزانہ کم و بیش ہر ٹی وی چینل پر ن کے انٹرویو نشر ہو رہے ہیں جن میں وہ پی ٹی آئی میں خواتین سے سلوک بلکہ بد سلوکی پر گفتگو کرتی ہیں۔ ان کی گفتگو میں مبینہ بے ہودہ ٹیکسٹ میسجز کا اس تسلسل کے ساتھ ذکر ہو رہا ہے کہ اب بچے بھی بار بار بے ہودہ کے معنی پوچھنے لگے ہیں۔ یہ سب کچھ بھی موجودہ بے لگام سیاست ہی کا شاخسانہ ہے فی الوقت تو اس معاملے کی تحقیق کے لئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل ہو چکی ہے۔ چنانچہ اس پر مزید تبصرہ ہم مناسب نہیں سمجھتے۔ صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہماری ملکی سیاست میں روزانہ نئے نئے گٹر کھل رہے ہیں جس کی غلاظت سے تعفن پھیل رہا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ غربت' بے روز گاری اور بد امنی جیسے مسائل میں گھری ہوئی قوم کو سیاستدانوں کے ایک دوسرے کے خلاف نت نئے شو شے چھوڑنے سے قوم کو کتنی نفلوں کا ثواب ملتا ہے۔ کیا ان کی بد زبانیوں کو روکنے کے لئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل ضروری نہیں ہوگی تاکہ وہ ان کی گفتگو کو دائرہ اخلاق میں رکھنے کے لئے کچھ ضابطے بنا سکیں۔ فی الوقت تو ہم پاگل پاگل دنیا نام کی ایک ایسی سیاسی فلم دیکھ رہے ہیں جس میں بد زبانی کے نادر نمونے سننے کو ملتے ہیں اور اس سے سیاست کی ایک نئی ڈکشنری مرتب ہو رہی ہے۔

متعلقہ خبریں