Daily Mashriq


ہاں نہیں شعار اپنا درد کو دوا کہنا

ہاں نہیں شعار اپنا درد کو دوا کہنا

پشاور کے عوام ان دنوں پانی کی فراہمی کے معاوضے میں لگ بھگ یا کچھ کم ڈیرھ گنا اضافہ جسے آپ کیلکو لیٹر کے حوالے سے 133فیصد بھی قرار دے سکتے ہیں ، پر احتجاج کر رہے ہیں ، اور اب تک ششماہی نو سو روپے وصول کی جانے والی رقم میں مزید بارہ سو روپے یک لخت اضافہ کر کے اسے 2100روپے کرنے کو پشاور کے عوام کے ساتھ انتہائی زیادتی قرار دے کر اس اضافی رقم کے حکم کو واپس لینے کا مطالبہ سامنے آرہا ہے ، عوامی حلقوں نے اچانک اس قدر اضافے کو عوام پر بوجھ قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کو فوری واپس لینے پر زور دیا ہے ، اور یہ فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔ ہمیں اس سارے معاملے میں ان عوامی نمائندوں کی پر اسرار خاموشی پر حیرت ہو رہی ہے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ٹائون حکومت کا حصہ بنے ہیں ، حالانکہ یہ ان کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قسم کے عوام دشمن فیصلوں کے آگے ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں اور ٹائون ون اسمبلی میں ٹائون انتظامیہ کی جانب سے اس طرح کے فیصلوں کو عوام پر مسلط کرنے کے خلا ف آواز اٹھائیں ، اس ضمن میں اصولی طور پر ماضی میں بلدیاتی ادارے جب بھی عوام پر کسی محصول یا ٹیکس میں اضافہ کرنا چاہتے تھے تو اپنی تجاویز مقامی اخبارات میں شائع کر اکے عوامی حلقوں سے ان کے بارے میں تجاویز مانگتے تھے اور نہ صرف عام لوگ تحریری طور پر اپنی تجاویز متعلقہ اداروں یعنی میونسپل کمیٹی اور بعد میں اسے توسیع دینے کے بعد اس کا نام میونسپل کارپوریشن رکھ دیا گیا تھا ، کو ارسال کردیتے تھے ، جبکہ ان اداروں میں ووٹنگ کے ذریعے عوام کی نمائندگی کے لئے منتخب ہونے والے ممبران بھی اجلاسوں میں اس حوالے سے پیش کی جانے والی تجاویز پر بحث کر کے کسی نہ کسی مناسب نتیجے پر پہنچ جاتے تھے جبکہ ، مقامی اخبارات میں اداریئے، شذرات ، مضامین وغیرہ میں بھی بھر پور بحث کی جاتی اور ان اخباری تجاویز کو بھی بلدیاتی اداروں کے ممبران عوام کے نکتہ نظر کے طور پر پیش کر کے ناجائز اضافے کو روکنے کی بھر پور کوشش کرتے بلکہ ان میں کامیاب بھی ہو جاتے ، تاہم گزشتہ کئی ماہ سے اس حوالے سے شہر کے مختلف علاقوں کے عوام کی جانب سے آبنوشی کے بلوں میں اضافے پر شدید اعتراضات سامنے آرہے ہیں لیکن جو لوگ عوامی نمائندگی کے دعویدار ہیں اور ٹائون کے اجلاسوں میں دیگر مسائل پر بھر پور احتجاج بھی کرتے رہتے ہیں ، خصوصاً ان کے متعلقہ علاقوں میں گلیوں ، سڑکوں کی تعمیرو مرمت ، نالیوں کی تعمیر ، ٹیوب ویلوں کی تنصیب ، پرانے اور بوسیدہ پائپ لائنوں کی تبدیلی ، گیس کی فراہمی وغیرہ وغیرہ ، وہ عوام پر آبنوشی کے حوالے سے اچانک بلوں میں 133فیصد اضافے کو کسی خاطر میں لانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے ، حالانکہ انہیں اپنی ذمہ داری کا ادراک ہونا چاہیئے اور جو بھی ادارہ عوام کے ساتھ یہ کھلواڑ کر رہا ہے اس کاہاتھ روکنے میں اپنا کردار ادا کریں ، اس میں قطعاً شک نہیں کہ شہریوں کو پانی کی فراہمی کے لئے ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے ، تاہم ایسے من مانے فیصلے عوام پر بغیر کسی نوٹس کے مسلط کرنے کا اختیار کس قانون سے دیا گیا ہے ، ویسے بھی شہر بھر کے ٹیوب ویلوں سے زنگ آلود پائپوں کے ذریعے جو پانی عوام کو فراہم کیا جاتا ہے اس میں آلودگی کے حوالے سے عوام نہیں خود سرکار کے دوسرے متعلقہ ادارے جو رپورٹیں جاری کرتی رہتی ہیں ان کے مطابق یہ پانی مضر صحت اور کئی طرح کی بیماریاں لئے ہوئے گھروں میں پہنچتا ہے ، ریت اور مٹی کی اس پانی میں ملاوٹ سے بھی عوام کے لئے کئی طرح کے مسائل پید ا ہوتے ہیں سابقہ حکومت کے دورمیں فلٹر وں کی تنصیب کا جو پروگرام ترتیب دیا گیا تھا اس پر بھی پوری طرح عمل در آمد نہیں ہو سکا اور اگر کسی ٹیوب ویل پر فلٹر لگایا بھی گیا ہے تو اب وہ تقریباًناکارہ ہو چکا ہے ۔ جو پانی ان سے گزرکر گلیوں میں گھروں تک پہنچتا ہے تو وہ بوسیدہ پائپوں کی وجہ سے دوبارہ آلودہ ہو جاتا ہے ۔ 

اس دور کے یزیدکی ہے داستاں عجب

پانی گلی گلی ہے پہ آلودگی غضب

وہ جنس جو بے دام ملے تو ثواب ہے

اس کے بڑھائے جاتے ہیں یاں دام بے سبب

جبکہ یہاں تو ہم لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور کیئے جارہے ہیں اور اس کی قیمت میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے ، مگر عوامی نمائندوں کو احساس ہی نہیں ہو رہا ہے کہ وہ ٹائون ون انتظامیہ پر دبائو ڈال کر ڈبلیو ایس ایس پی کی جانب سے پانی کے ریٹ بڑھانے کے فیصلے کو روکنے پر مجبور کریں ، اس ضمن میں دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ متعلقہ ادارہ عوام کو آخری تاریخ ادائیگی والے روز ہی بل بھجوا دیتا ہے جبکہ گھروں میںصرف خواتین اور بچے ہی ہوتے ہیں مرد حضرات اپنے کام پر گئے ہوتے ہیں اور جب لوٹ کر گھر آتے ہیں تو بنکوں کا وقت بھی ختم ہو چکا ہوتا ہے ، گزشتہ مئی میں خود ہمارے ساتھ یہی ہوا جب واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس یس پی ) کے اہلکار8مئی کو پانی کا بل ہمارے گھر پھینک کر چلے گئے تھے ، جس کی ادائیگی کی آخری تاریخ بھی 8مئی ہی تھی ، اگرچہ بل پر ایشو ڈیٹ 2مئی درج ہے مگر تاریخ ادائیگی والے دن ہی ہمیں وہ بل ملا ، اور جب دوسرے دن ہم بنک گئے تو بل پر جرمانہ بھی ادا کرنے کی سز ا بھگتنا پڑی ، جس میں قصور ہمارا نہیں متعلقہ ادا رے کے اہلکاروں کا تھا ۔ ہم پہلے بھی کالم میں اس مسئلے پر احتجاج کر چکے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے جب ڈبلیو ایس ایس پی کا کوئی وجود نہیں تھا اور معاملہ ٹائون ون کے ٹھیکیداروں کے پاس ہوتا تھا تب بھی ایسی ہی صورتحال تھی ، تاہم جب ادائیگی کے لئے لوگ جا کر شکایت کرتے تو جرمانہ وصول نہیں کیا جاتا ، مگر بنک والے تو کسی کو معاف نہیں کرتے ، اس لیئے اس ظلم پر بھی توجہ دی جائے اور بل کی ادائیگی میں دس روز کی مہلت دی جائے ۔

ہم کبھی نہ چھوڑ یں گے بات بر ملا کہنا

ہاں نہیں شعار اپنا درد کو دوا کہنا

متعلقہ خبریں