Daily Mashriq


''سب ایک ہیں''

''سب ایک ہیں''

ما ر گریٹ تھیچر نے کیا خوب کہا ہے کہ جب سیاست دانوں کے سیاسی دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو پھر ذات پر حملے شروع ہوجاتے ہیں۔نواز شریف کی نا اہلی اور عائشہ گلالئی کے عمران خان کے خلاف بیانات اور الزامات دینے پر، سوشل میڈیا پر نہ صرف یہ دونوں سیا سی پا رٹیاں ایک دوسرے کے خلاف اخلاق سے گری، ناشائستہ زبان استعمال کرتے ہیں ، بلکہ ایسا لگ رہا ہے کہ دونوں سیاسی پا رٹیاں اور انکے کارکن میدا ن جنگ میں ہیں۔البتہ جماعت اسلامی اورجمعیت علمائے اسلام( ف )گروپ اس صورت حال سے علیحدگی اختیار کر چکی ہے۔باقی تمام سیاسی پا رٹیاں ، انکے لیڈر اورکارکن سوشل میڈیا ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں۔ ان بیانات، پیغامات اور سوشل میڈیا سے ایسا لگ رہا ہے جیسا کہ تمام سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے سے کسی پُرانی عداوت کا بدلہ لے رہے ہیں ۔ میرے نا قص رائے میں پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اتنی نا شائستہ زبان کبھی بھی استعمال نہیں ہوئی جو آج کل استعمال ہو رہی ہے۔ سوشل میڈیا کے کئی پیغامات میں ، میں نے دیکھا ہے کہ ایک پا رٹی کے ورکرز دوسرے سیاسی پا رٹیوں کے ورکرز کو قتل کی دھمکی بھی دے رہے ہیں۔

ہماری سیاسی پا رٹیوں کے قائدین اور ورکروں کے رویوں اورسوشل میڈیا کے میسجز سے ایسا لگتا ہے جیسا کہ بھارت یا کسی کافر ملک کے خلاف جہاد ہو رہا ہے۔ بد قسمتی سے جو بھی سیاسی پا رٹی اقتدار میں ہوتی ہے وہ عوام کے مسائل حل نہیں کرتی اورعوام انکے خلاف ہوتے ہیں کیونکہ عوام مہنگائی، لاقانونیت بے روزگاری امن و امان کی ناگُفتہ صورتحال سے تنگ آچکے ہوتے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے یہی عوام الیکشن کے دوران ان سیاسی پا رٹیوں کے ساتھ مل جاتے ہیں اور پھر اُن لیڈروں کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوتے ہیں۔ اور یہاں تک کہ کرپٹ سیاست دانوں کی وجہ سے پاکستانی عوام کے خاندانوں اور قبیلوں کے درمیان تعلقات خراب ہو جاتے ہیں اور پھر یہ دشمنیاںسالوں تک چلتی ہیں۔ عوام کو پتہ نہیں کہ اندر سے ہمارے تمام سیاست دان ایک ہیں۔

قومی، صوبائی اسمبلیوں سینیٹ اور کابینہ کے اجلاسوں اور عام زندگی میں یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ سگے بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان، پاکستانی عوام کو استعمال کرتے ہیں۔ اور عوام کی ذہنیت بھی محکوم لوگوں کی ہے اور وہ بھی بہت جلد اُن کے چمچے بن جاتے ہیں۔ اگر ہم ان سیاست دانوں کے آپس کی رشتہ داریوں پر نظر ڈالیں تو پاکستان میں تقریباًتمام سیاسی گھرانوں اور خاندانوں کے درمیان رشتے ہیں۔ ہمیںتو یہ سیاست دان پنجابی، پختون، سندھی اور بلو چی کا درس دیتے رہتے ہیں مگر خود سب ایک ہیں۔ان سب کی آپس میں رشتہ دا ریاں ہیں۔میری تحقیق ہے کہ میاں نواز شریف اوربے نظیر خاندان کے علاوہ با قی پاکستان کے سارے سیاست دانوں کے آپس میں رشتے موجود ہیں۔ان وڈیروں سرمایہ داروں اور جاگیر دار سیاست دانوں کا ایک بھائی پی پی پی میں ہوگا یا پی ٹی آئی اور دوسرا پی ایم ایل این میں،ایک بھائی اے این پی میں ہوگا اور دوسرا بھائی جمعیت علمائے اسلام میں ۔سیف اللہ فیملی، بھٹو فیملی، ارباب فیملی ، ہوتی فیملی اسد عمر فیملی انکی مثا لیں ہیں۔پاکستان کے بھوک و افلاس زدہ ، بے روز گا ر ، تعلیم سے عاری عوام کو چاہیئے کہ وہ اپنی پا رٹی کی وجہ سے ایک دوسرے کو گالی نہ دیں اور نہ ایک دوسرے کے ساتھ ناطے تو ڑیں کیونکہ پاکستان کی تمام پا رٹیوں کے لیڈر ایک ہیں اور یہ پاکستان کے ٢٠ کروڑ عوام کو اپنے اقتدار کی خاطر بے وقوف بنا رہے ہیں۔ کل تک عمران خان اور مولانا فضل الرحمن ایک دوسرے کے شدید مخالف تھے مگر گزشتہ روز میں ٹی وی اور اخباروں میں دیکھ رہا تھا کہ فضل الرحمان ، اکرم خان درانی اور پر ویز خٹک ایک دوسرے سے شیر و شکر ہو رہے تھے۔

اسی طرح زاہد حامد جو مشرف کے دور میں وزیر قانون تھے اور جس نے جہاز اغوا کیس میں میاں نواز شریف کے خلاف سمری تیار کی تھی ابھی وہ نواز شریف کے وزیر قانون ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ق لیگ اور پر ویز مشرف کے قومی، صوبائی اسمبلی ، سینیٹ اور دوسرے 300عہدیدار مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے ہیں۔ بات صرف مسلم لیگ ن تک نہیں ، پاکستان تحریک انصاف میں بھی پاکستان پیپلز پا رٹی اور دوسری کئی سیاسی پا رٹیوں کے200 ایم این اے، ایم پی اے، اور دوسرے عہدیدار شامل ہوگئے ہیں۔ میں عوام سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مفاد پر ست لیڈروں کی وجہ سے ایک دوسرے سے نہ لڑیں۔ جمہوریت یو رپ کے لئے موزوں سسٹم ہے ہم اس سے اُس طرح مستفید نہیں ہو سکتے جس طرح یو رپ کے عوام اس سے فائدہ لیتے ہیں کیونکہ جس ملک میں تعلیم نہ ہو وہاںعوام ووٹ کی اہمیت کیا جانتے ہوںگے۔ جہاں پر ایک ہزار روپے پر ووٹ بکے وہ جمہوری نظام اور منتخب لوگ ہمارے مسائل کیا حل کریں گے۔ پاکستان میں جمہوری نظام لوٹ کھسوٹ کا نام ہے۔ علامہ اقبال کہتے ہیں کہ جمہوری نظام لوگوں کی گنتی کانام ہے اس میں علم اور عقل و دانش کی کوئی اہمیت نہیں۔ اگر جمہوریت سے مستفید ہونا ہے تو معاشرے میں تعلیم کو عام کریں ۔

متعلقہ خبریں