Daily Mashriq


گلگت بلتستان کے تشویشناک واقعات

گلگت بلتستان کے تشویشناک واقعات

گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں سکول جلائے جانے کے واقعات رات کی تاریکی میں شدت پسندوں کی کارروائی ہونے کی بناء پر اپنی جگہ شدید ہونے کے باوجود ایک بزدلانہ اور چوری چھپے کے زمرے کی کارروائی تھی لیکن اس کے بعد پیش آنے والے دو واقعات میں دہشتگرد عناصر نے نہ صرف اپنی موجودگی اور قوت کا اظہار کیا بلکہ حکومتی اور ریاستی عملداری کو چیلنج بھی کیا ہے۔ چلاس میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کی کارروائی پر دہشتگردوں کے مقامی ہمدرد شرپسند عناصر کا مشتعل ہو کر تھانے پر دھاوا بول دینا قانون نافذکرنے والے اداروں کیلئے باقاعدہ چیلنج ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس دو طرفہ فائرنگ کے بعد ہی تھانے کا محاصرہ ختم کرانے میں کامیاب ہوئی جس کے بعد شرپسندوں نے تانگیر دیامر میں رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑکیں بند کیں اور مورچے سنبھال لئے جس کے نتیجے میں علاقے میں جنگی صورتحال کی کیفیت ہے اور حالات کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ غذر کے علاقہ میں مورچہ بند دہشتگردوں کا سیشن جج کے قافلے پر حملہ جس میں جج کی گاڑی کو کئی گولیاں لگیں علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کا واضح عندیہ ہے چونکہ دور دراز کے علاقے سے ملنے والی اطلاعات اور خبروں میں ابہام کی کافی سے زیادہ گنجائش ہونا عام مشاہدے کی بات ہے اسلئے محولہ دونوں واقعات میں سے پہلے واقعے کی وجوہات اور حالات کا اس تناظر میں جائزہ بھی ضروری ہے۔ تھانے پر حملے کے واقعے کے پس پردہ صورتحال سے دہشتگردوں کے حملے کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہوتا تو اس واقعے میں خواہ مخواہ طرفین کا جانی نقصان سامنے آتا۔ اس واقعے کی ممکنہ وجہ یہ نظرآتی ہے کہ سکولوں کو نذرآتش کرنے کے واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے حسب عادت یا پھر کارکردگی دکھانے کیلئے جس بڑے پیمانے پر بلاجواز گرفتاریاں ہوئی ہوں گی اس پر علاقے کے لوگوں نے مشتعل ہو کر تھانے کا گھیراؤ کیا ہوگا اور طرفین کی جانب سے محض تنبیہی نوعیت کی فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہوگا۔ اگر قرائین کی یہ بات درست ہے تو پھر اس قسم کے حالات میں جب اچانک حملہ آور ہونیوالے دہشتگردوں کیخلاف عوام کے تعاون اور حمایت کی ضرورت ہے اس وقت اندھا دھند گرفتاریوں کے ذریعے مقامی افراد کو اسلحہ اٹھانے پر مجبور کرنے کا عمل عاجلانہ پن ہے جس کی تحقیقات ہونی چاہئے اور اس سے پیدا شدہ غلط فہمی کا طرفین کی جانب سے ازالہ ہونا چاہئے اور اگر خدانخواستہ صورتحال واقعی اتنی سنگین ہے کہ دہشتگردوں کے ہمدرد تھانے پر حملہ کا ارتکاب کر بیٹھے ہیں تو پھر اس سے ان عناصر کی علاقے میں بڑے پیمانے پر موجودگی اور طاقتور ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے جس کا پوری قوت سے جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں مقامی لوگوں کا تعاون حاصل کرکے ہی آپریشن کیا جائے کیونکہ مقامی لوگ نہ صرف اسلحہ رکھنے اور چلانے کے ماہر ہوتے ہیں بلکہ ان کا دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے کی ہمت اور حوصلے کا حامل بھی ہونا فطری امر ہے۔ بہرحال اس سسلے میں انتہائی قدم اٹھانے سے قبل اس امر کا تعین ضروری ہے کہ مقامی افراد کی جانب سے گرفتاریوں پر اشتعال کے باعث تھانے کا گھیراؤ کیاگیا یا پھر یہ دہشتگردوں کا منظم حملہ تھا۔ جہاں تک سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ اور حملے کا سوال ہے اس سے بڑی حد تک اس امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ غذر کے علاقے میں دہشتگردوں کی قوت اور ان کے ہمدرد موجود ہیں جنہوں نے تاک کر جج کی گاڑی کا نشانہ لیا اور ان کی جان لینے کی کوشش کی۔ یہ دہشتگردوں کی طرف سے کھلی جارحیت کا ارتکاب ہے جس کا سختی سے جواب دینے اور علاقے میں موجود دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں کیخلاف بھرپور آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے۔ جہاں تک ان واقعات کے اسباب وعلل کا تعلق ہے اس بارے دوسری رائے نہیں کہ گلگت بلتستان سی پیک اور ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے ہی اہمیت کا حامل علاقہ نہیں بلکہ علاوہ ازیں بھی بڑی جغرافیائی اہمیت کا علاقہ ہے جہاں ملکی وغیر ملکی دشمن قوتوں کی جانب سے حالات خراب کرنے کی کوشش کوئی غیر متوقع امر نہیں۔ ضلع دیامر کے علاقے چلاس میں اس سے پہلے شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں جن میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کے علاوہ غیر ملکی سیاح بھی ہلاک ہوئے۔ اگست2013 میں چلاس میں شدت پسندی کے ایک واقعے میں سپرنٹنڈنٹ پولیس، پاکستان فوج کے ایک کرنل سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ اس واقعے سے دو ماہ پہلے جون میں دیامر کے علاقے میں دہشتگردوں نے نانگا پربت بیس کیمپ میں دس غیرملکی اور ایک پاکستانی سیاح کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ ان علاقہ جات کا چین سے ارضی اتصال اور جغرافیائی قربت کے باعث پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ میں ترقی کے ثمرات اور مواقع سے فائدہ اٹھانے اور ڈیم تعمیر کرکے سستی آبی بجلی حاصل کرکے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پاکر صنعتی ترقی کی طرف تیزی سے پیشرفت ممکن ہے۔ ڈیموں کی تعمیر پر سنجیدگی سے توجہ بھی دی جا رہی ہے اور عملی پیشرفت بھی ہو رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ اسباب ہر دو قسم کے دشمنوں کو سازشوں پر اُبھارنے اور متوجہ کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ان علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی بھی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ حالات وواقعات کی روشنی میں اس پورے علاقے میں حالات خراب کرنے کی کوشش غیر متوقع نہیں۔ ممکن ہے کہ گزشتہ روز کے واقعات کے عوامل مقامی ہی نکل آئیں اور اس کے پیچھے کوئی بڑی سازش کارفرما نہ ہو لیکن ہم جیسے مارگزیدوں کو ان واقعات سے تشویش میں مبتلا ہونا اور قسم قسم کے خدشات کا اظہار بلاوجہ اور بے موقع نہیں۔ ان واقعات سے علاقے میں ایسے شدت پسند عناصر کی موجودگی کا بھی امکان ہے جو اس پورے خطے میں سرگرم ہونے کیلئے پرتول رہا ہے اور افغانستان میں وہ عناصر سرگرم عمل بھی ہیں۔ بہرحال اسباب وعلل جو بھی ہوں شمالی علاقہ جات میں امن دشمنوں کی تطہیر کیلئے منظم کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ علاقے کا امن بحال رہے اور اہم نوعیت کے منصوبوں میں خلل واقع نہ ہو۔

متعلقہ خبریں