Daily Mashriq


پابندی کے باوجود کھلنے والے سکول بند کئے جائیں

پابندی کے باوجود کھلنے والے سکول بند کئے جائیں

لوڈشیڈنگ، شدید گرمی اور حبس کے پیش نظر صوبائی حکومت کی طرف سے سکولوں کی تعطیلات میں اضافہ کے اقدام پر بعض نجی سکولوں کی جانب سے عدم عمل درآمد سنگین معاملہ اسلئے ہے کہ بعض نجی سکولوں کی انتظامیہ کی جانب سے سکول کھلے رکھنے پر طالب علموں کو مجبوراً سکول جانا پڑ رہا ہے۔ معاملہ صرف حکومتی ہدایت نامے کی خلاف ورزی تک ہوتا تو صرف نظر کیا جاسکتا ہے مگر یہاں معصوم بچوں کی صحت کو خطرات کا سامنا ہے جس کا نجی سکولوں کی انتظامیہ کو قطعاً احساس نہیں۔ پشاور میں کئی نجی سکولوں میں آٹھویں‘ نویں اور دسویں جماعتوں کے طلبہ کو نامکمل کورس اور بورڈ کے امتحان کی تیاری کے نام پر حاضری پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ موسم کی شدت اور ناقابل برداشت گرمی نہ ہوتی تو ہائی سکول کے بچوں کے سکول جانے پر معترض ہونے کی گنجائش نہ تھی مگر جہاں سر چکرانے والی گرمی ہو اور سکولوں میں ایئر کنڈیشنڈ تو درکنار کلاس رومز میں پنکھوں کا بھی مناسب انتظام نہ ہو مستزاد بجلی کی آنکھ مچولی ہو رہی ہو تو طالب علموں کو سکول حاضری پر مجبور کرنا بھاڑ میں جھونکنے کے مترادف ہے جس کا صوبائی حکومت‘ محکمہ تعلیم اور سکولز ریگولیٹری اتھارٹی سبھی کو نوٹس لینا چاہئے۔ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کوئی فون نمبر برائے برقی پیغام اور واٹس ایپ مشتہر کر دے تو ان کو باآسانی کھلے سکولوں کے نام معلوم ہوسکتے ہیں۔ نشاندہی پر جن کیخلاف کارروائی میں آسانی ہوگی۔ قبل اس کے کہ بچے شدید گرمی اور حبس کے باعث ہسپتالوں کو لائے جائیں اور خواہ مخواہ کی بدنامی ہو، نجی سکولوں کی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ سکول بند کر دیں اور اگر موسم میں بہتری آتی ہے تو اجازت لے کر سکول کھولنے میں مضائقہ نہیں مگر موجودہ حالات میں سکول کھلے رکھنا نہ صرف بچوں کی صحت سے کھیلنے کے مترادف ہے بلکہ قانون کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔

منشیات کے اڈوں کیخلاف پولیس کارروائی کیوں نہیں کرتی؟

ہمارے کرائمز رپورٹر کی یہ خبر فوری توجہ کی متقاضی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پشاور شہر کے چار مشہور پولیس تھانوں کی حدود میں14مقامات پر کھلے عام منشیات فروشی کا دھندہ جاری ہے جس کی پولیس کو خبر ہونے کے باوجود پولیس نے چپ سادھ رکھی ہے، منشیات فروشی کیلئے مشہور14مقامات سے ہر عمر اور طبقہ کے شہری روزانہ کی بنیاد پر اپنا نشہ پورا کرنے کیلئے چرس اور ہیروئن خرید رہے ہیں۔ چرس کی دستیابی کیلئے مشہور ان مقامات پر اب شراب اور آئس نشہ کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ محولہ رپورٹ میں ہمارے نمائندے نے جس تفصیل سے منشیات فروشی اور پولیس کے صرف نظر کا رویہ اختیار کرنے کا انکشاف کیا ہے یہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ کیلئے ہی چشم کشا نہیں انسداد منشیات فورس کے حکام کی کارکردگی کا پول کھول دینے کیلئے کافی ہے۔ پولیس کبھی کبھار اس وقت منشیات فروشوں کیخلاف کارروائی کرتی ہے جب میڈیا میں کسی واقعے کے باعث شور اُٹھتا ہے۔ پولیس کی یہ کارروائی کبھی بھی منشیات کے اڈوں اور بڑے سمگلروں کیخلاف نہیں ہوتی بلکہ چند ایک کارندوں کی گرفتاری کر کے کارروائی ڈال دی جاتی ہے۔ پولیس نہ تو بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرتی ہے اور نہ ہی بڑے بڑے سمگلروں اور ان کے اڈوں پر چھاپہ مارنے کی زحمت کرتی ہے۔ اس طرح کی سطحی کارروائی سے منشیات فروشی کی روک تھام تو ایک دو دن ہی کیلئے ممکن ہو جاتا ہے جس کے بعد دوبارہ سے دھڑلے سے منشیات بکنے لگتی ہے۔ انسداد منشیات کے فورس کی کارکردگی بھی پولیس سے زیادہ مختلف نہیں۔ اگر انسداد منشیات مقصود ہے تو پھر بڑے بڑے سمگلروں‘ منشیات کے اڈوں اور ان کے سرپرستوں کیخلاف کارروائی کرنا ہوگی۔ منشیات کی چند پڑیاں بیچنے والے دیہاڑی داروں کیخلاف کارروائی کرنا نہ کرنا برابر ہے۔

متعلقہ خبریں