Daily Mashriq

یہ کھیل ہے لیکن کھیل نہیں

یہ کھیل ہے لیکن کھیل نہیں

بھارت میں پا کستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود نے اُمید ظاہر کی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بہتر رشتے قائم ہوں گے۔ یہ بات انہوں نے بھارت کے شہر فتح پور سیکری میں درگاہ سلیم چشتیؒ کے مزار پر حاضری کے دوران بھارتی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ ان کو حکومت سے مثبت سمت میں کام کرنے کی اُمیدیں ہیں اور ہمیں یہ یقین ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات بہتر ہوں گے۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین بہتر تعلقات کے بارے میں عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ دونوں ممالک کے تنازعات ختم اور مضبوط رشتے قائم ہوں تاکہ دونوں ممالک ترقی کی راہ پر آگے بڑھ سکیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ پا کستانی ہائی کمشنر حضرت سلیم چشتیؒ کے مزار پر تشریف لے گئے اور یہ بھی پہلا موقع ہے کہ حکومت بھارت کی جانب سے پاکستانی سفیر کی آمد کیلئے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ عمران خان کے متوقع وزیراعظم ہونے کے بعد سے بھارت کے روئیے میں پہلی مرتبہ تبدیلی دیکھی گئی ہے ورنہ اس سے پہلے کئی مرتبہ پاکستان کے سرکاری وفود کو اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتیؒ کے مزار پر حاضری سے روک دیا گیا ہے جبکہ سلیم چشتیؒ کے مزار پر نہ صرف پذیرائی دلفریب تھی بلکہ سکیورٹی کے انتظامات کیساتھ ساتھ بھارتی میڈیا کو بھی پاکستانی ہائی کمشنر سے ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود نے بھارتی صحافیوں کے سوالات کے جواب میں جو کچھ کہا وہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسا کہ وہ پاکستان کے آئندہ کے متوقع وزیراعظم کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ بار بار وہ عمران خان کی انتخابات کے بعد کی جانیوالی تقریر کے حوالے سے ہی با ت کر رہے تھے، بعض ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ عمران خان کی کامیابی پر عمران خان کے خاندان کی طرف سے مزار پر چادر چڑھانے گئے تھے کیونکہ اگر ان کا یہ نجی دورہ ہوتا تو پاکستانی سفارتخانے کے پروٹول کول افسر کا ہمراہ ہونے کی کوئی تُک نہیں تھی۔ پاکستان کے ہائی کمشنر کے بیانات سے یہ توقع پیدا ہو چکی ہے کہ جو کام مبینہ طور پر مودی کے یار میاں نواز شریف نہ کر سکے یعنی بھارت اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کی استواری، وہ عمران خان کے دور اقتدار میں ممکن ہو جائے گا بلکہ پاکستان کے ہائی کمشنر کی جانب سے جو تاثر دیا گیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعلقات میں بہتری ہی نہیں بلکہ مضبوط رشتہ قائم ہو جائے گا، اسے بھی ایک نیک شگون قرار دیا جا سکتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کس طرز کے تعلقات قائم ہوتے ہیں یہ تو عمران خان کی حلف برداری کے بعد ہی منکشف ہو پائے گا، اس وقت وہ وزیراعظم کا انتخاب جیتنے کیلئے نگ پورے کرنے کی دھن میں ہیں اور اب ان کی جماعت کے ترجمان نے تو القاء کر دیا ہے کہ جیت کی گنتی پوری کر دی گئی ہے، تحر یک انصاف کے چیئرمین کو اپنے لئے ووٹر پیدا کرنے کیلئے انتہائی ذہنی دباؤ سے گزرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اس کاوش میں الزامات اور تمسخر پن کا بھی بازار لگا ہوا ہے۔ مخالفین کی جانب سے تیر برسائے جا رہے ہیں، مسلم لیگ ق سے اتحاد بھی انہی تیر ونشتر کی زد میں آیا اب ایم کیو ایم سے اتحاد بھی نیزے کی نوک پر نظر آرہا ہے اور اپنی پارٹی کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔تحریک میں تکرار ہو رہی ہے کہ ایم کیو ایم سے اتحاد وقتی ضرورت کے تحت کیا گیا ہے بعض اس کی تردید کرتے ہیں تاہم یہ اتحاد ہے انوکھا ضرور، چاہے یہ کسی طور کیا گیا ہے کیونکہ ایم کیو ایم کراچی اور سندھ کے دوسرے علاقوں میں تحریک انصاف ہی کے ہاتھوں زخم خوردہ ہے اور یہ ہی یقین کیا جا رہا تھا کہ سورج مغرب سے تو نکل سکتا ہے مگر پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے مابین اتحاد ممکن نہیںہو سکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گمان یہ کیا جا رہا تھا کہ اول تو ان کے مابین اتحاد ہی ممکن نہیں، اگر ہوا بھی تو سخت ترین شرائط پر مبنی ہوگا لیکن تحریر معاہدہ دیکھ کر جہاں حیرت ہوئی وہاں ہنسی بھی آئی کہ معاہدے میں ایم کیو ایم کا تحریک انصاف کیساتھ راضی بہ رضا ہونا ایسی یقین دہانیوں اور مطالبات پر ہوا کہ جو ایک مسخرہ پن ہی کہلا سکتا ہے۔ مثلاً ایم کیو ایم نے یہ شکوہ بھی کیا کہ پچھلے کئی سالوں سے اسے قربانی کی کھالیں وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، اسی طرح اس کی دیگر سرگرمیوں پر پابندی بھی غیراعلانیہ ہیں اس معاملے میں ایم کیو ایم کو رعایت دی جائے، اس شکوہ کا تعلق دراصل صوبائی اختیار کا ہے وفاق سے کوئی تعلق نہیں ہے، سنا گیا ہے کہ ایک یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ جس طرح جنوبی پنجاب کی تحریک انصاف حمایت کر رہی ہے اسی طرح صوبہ کراچی کی بھی حمایت کی جائے، ایم کیو ایم کی طرف سے یہ بھی شامل ہے کہ کراچی پولیس کو کے پی کی پولیس کی طرز پر اچھا کر دیا جائے یہ بھی صوبائی معاملہ ہے اور سندھ میں عمران خان کی حکومت بننے نہیں جا رہی ہے بلکہ پی پی کی حکومت ہوگی یہ مطالبہ بھی پی پی سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم نے کراچی آپریشن پر نظرثانی کا بھی کہا ہے جبکہ جیلوں میں قید بہت سے اسیروں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ بلدیاتی اداروں کو فنڈ وافر مقدار میں دینے کا بھی کہا ہے اب بھلا یہ سوچنے کی بات ہے کہ تحریک انصاف جس نے جیسے تیسے ایم کیو ایم سے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں کھینچی ہیں کیا وہ ان کے ایسے مطالبات قبول کر لے جس سے ایک بار پھر ایم کیو ایم کو کراچی اور دوسرے شہری علاقوں میں سیاسی برتری ہونے کا موقع حاصل ہو جائے جبکہ انتخابات کے نتائج کے فوری بعد عمران خان نے کہا تھا کہ ایم کیو ایم کو ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی بارے میں وائرل ہو رہا ہے کہ اس نکاح میں حق مہر نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے، یہ اسی کی چمک کا نتیجہ ہے کہ ایم کیو ایم وزیراعظم کے انتخاب میں پی ٹی آئی کا ساتھ دے گی۔ سوشل میڈیا کہاں تک سچا ہے، اس بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں ہو سکتی ہے بہرحال دونوں جماعتوں کا گلے ملنا ایک کھیل ہی ہے۔

متعلقہ خبریں