Daily Mashriq

بناگلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص

بناگلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص

دروغ بر گردن راوی کے الفاظ استعمال کر کے ہر قسم کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے میں جو آسانیاں ہوتی ہیں وہ آزمودہ نسخہ ہی کہلاتا ہے، اسی طرح کسی بھی اخبار میں عوام کے مسائل کو سامنے لانے کے حوالے سے ایک خاص حصہ ایڈیٹر کی ڈاک کے نام سے مختص کیا جاتا ہے، جہاں یہ الفاظ بھی ضرور شامل کئے جاتے ہیں کہ ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اس کے بعد چاہے مراسلہ نگار نے کچھ بھی لکھا ہو اس کی ذمہ داری مدیر پر نہیں ڈالی جا سکتی، اسی روایت کو اب الیکٹرانک میڈیا والوں نے بھی اپنے لئے رہنماء اصول کے طور پر اپناتے ہوئے انگریزی میں (Disclacmer) کی سرخی اور اُردو میں بھی پروگرام کے شروع میں ایسے الفاظ لکھ دیئے جاتے ہیں کہ اس پروگرام میں ظاہر کردہ خیالات حصہ لینے والوں کے ذاتی آراء پر مشتمل ہیں اور چینل کا ان سے اتفاق ضروری نہیں ہے۔ اتنی لمبی تمہیدکا مقصد تازہ صورتحال کے حوالے سے اظہار خیال تو کرنا ہے تاہم ساتھ ہی آزمودہ نسخے کے طور پر ہمیں بھی دروغ بر گردن راوی کے الفاظ لکھنے پر اکتفا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ گزشتہ روز اس حوالے سے ایک باخبر شخص کیساتھ گفتگو میں جو ’’افواہیں‘‘ سامنے آئیں ان پر چند سطور لکھنے کی ضرورت محسوس کرنا تو بنتا ہے حالانکہ جس بات کو موضوع بنانا چاہتا تھا،اسی حوالے سے ایک خبر بھی سامنے آئی ہے، گویا احتیاط کا دامن تھامنے کی ضرورت اب اس قدر بھی نہیں رہی کہ اب ذمہ داری ’’راوی‘‘ کی گردن سے اُتر کر اس خبر رساں ادارے کو منتقل ہوگئی ہے جس نے یہ خبر جاری کی ہے، بہرحال اب اس سے ہمیں کوئی غرض نہیںکہ اس میں سچ کتنا ہے اور جھوٹ کتنا ہے، یعنی بقول بے خود دہلوی

جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں

تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

سچ یا جھوٹ کا تعین کرنے سے پہلے اس خبر پر ایک نگاہ دوڑا دیتے ہیں جو کالم لکھنے کا باعث بنی ہے، خبر رساں ادارے آن لائن نے اسلام آباد ڈیٹ لائن سے جاری کردہ خبر میں بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ نے عاطف خان پر وزیراعلیٰ بننے کیلئے میڈیا میں لابنگ کا الزام عاید کیا ہے جبکہ عمران خان نے عاطف خان کو میڈیا سے بات کرنے سے روک دیا ہے اور پرویزخٹک، علی امین گنڈہ پور، ڈاکٹر حیدر علی اور اسد قیصر کو صوبائی نشستیں چھوڑ کر قومی اسمبلی کی نشستیں رکھنے کا حکم دیا ہے، پرویزخٹک نے عاطف خان پر لابنگ کا جو الزام لگایا ہے عاطف خان نے اس کی تردید کی ہے، خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کیلئے وزیراعلیٰ کے منصب کیلئے پرویز خٹک نے محمود خان اور شاہ فرمان کے نام تجویز کئے ہیں اور عمران خان نے محمود خان کے نام پر مشاورت کیلئے پارٹی کے سینئیر رہنماؤں سے مشاورت بھی کی ہے جبکہ آخری فیصلہ عمران خان ہی کریں گے۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو جو کامیابی ملی ہے اگرچہ اس کے پیش نظر پرویز خٹک وزارت اعلیٰ کا منصب اپنے پاس ہی رکھنے پر مصر تھے تاہم صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور نہ صرف پرویزخٹک بلکہ اسد قیصر بھی اس انار کے بیماروں میں شامل تھے اور عاطف خان نے بھی یہی خواہش دل ہی دل میں پال رکھی تھی کہ اب کی بار وزیراعلیٰ بننا اسی کا استحقاق بنتا ہے، درمیان میں کچھ اور نام بھی سامنے آئے جن میں نیم پشوری نیم شانگلائی شوکت یوسفزئی، شاہ فرمان وغیرہ شامل تھے، تاہم پرویز خٹک اور اسد قیصر کے علاوہ بعض دیگر اہم رہنماؤں کی چونکہ مرکز میں ضرورت زیادہ ہے کیونکہ تادم تحریر عمران خان کیلئے وزیراعظم بننے کی راہ میں حائل رکاوٹیں مکمل طور پر دور نہیں ہو سکیں اور جہانگیر ترین کے ذریعے بقول شخصے ’’اغوا کنندوں‘‘ کی تحریک میں شامل کئے جانے کے بعد بھی گنتی پوری نہیں ہو رہی ہے، ایسے میں اگر یہ چند لوگ بھی صوبے میں رہنے پر اصرار جاری رکھیں گے تو وزارت عظمیٰ کا خواب کیسے شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔ اسلئے حکم حاکم مرگ مفاجات، پرویزخٹک کی اپنے حق میں پاور شوکے باوجود جب گھی نہ سیدھی نہ ہی ٹیڑھی انگلی سے حاصل ہوسکا تو اب پرویزخٹک نے کھیلیں گے نہ ہی کھیلنے دیں گے کا فارمولہ آزمانا شروع کر دیا ہے اور میں نہیں تو، تو بھی نہیں، عاطف خان کی راہ میں کانٹے بچھانا شروع کر دیئے ہیں۔ یعنی بقول عبیداللہ علیم

بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص

ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص

جس باخبر شخص سے گزشتہ روز اس حوالے سے بات ہوئی اس نے ایک عجیب بات کہی تھی اور وہی بات دراصل دروغ بر گردن راوی کے زمرے میں آتی ہے، یعنی یہ سب کچھ ڈرامہ بازی لگتی ہے یعنی جتنے نام بھی اس وقت خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ کے امیدواروں کے طور پر سامنے آرہے ہیں ان میں سے لگ بھگ ہر ایک مختلف چینلز کے مقامی نمائندوں کی ’’مہربانی‘‘ سے اپنے حق میں لابنگ کر رہا ہے اور باخبر نے بعض مخصوص چینلز کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ذرا توجہ دیں تو جتنے بھی’’بیماران انار‘‘ ہیں ان میں سے ہر ایک کیلئے ’’مہربان‘‘ چینلز پر ٹکر چل رہے ہیں، یعنی ایک پر کوئی ایک چینل تو دوسرے کے بارے میں دوسرا اور تیسرے کے بارے میں کوئی اور چینل ٹکر چلا رہا ہے، اسی طرح علیٰ ہذالقیاس، بس ذرا آنکھ کھلی رکھ کر غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے، تو اس سارے گیم کی سمجھ آجاتی ہے، تاہم وزیراعلیٰ کون ہوگا یہ صرف اور صرف عمران خان ہی بہتر جانتا ہے۔ بقول افتخار عارف

شکست وفتح کے سب فیصلے ہوئے کہیں اور

مثال مال غنیمت لٹا دیئے گئے لوگ

متعلقہ خبریں