Daily Mashriq

یارب میرے وطن کا پرچم بلند رکھنا

یارب میرے وطن کا پرچم بلند رکھنا

ہم اپنی جیب خرچ سے پیسے بچا بچا کر جمع کرتے، اپنی جمع پونجی لیکر بازار جاتے، بازار سے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم خریدتے، اسے اپنے سائیکل پر سجاتے اور یوں پشاور کی گلیوں اور بازاروں میں اپنے سائیکل پر پاکستان کا قومی پرچم لہراتے دوڑتے رہتے، ایک عجیب سی خوشی کا احساس ہوتا، لڑکے بالے اب بھی ایسا کرتے ہیں لیکن اب وہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بائی سائیکلوں کی بجائے موٹرکار پر سجاتے ہیں موٹر سائیکلوں پر لہراتے ہیں، چاہتے ہیں کہ وہ دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جائیں، اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے وہ اپنے موٹر سائیکلوں کے سائلنسر نکال لیتے ہیں اور شہر کی گنجان آباد شاہراہوں پر اودھم مچاتے یوں دوڑتے ہیں جیسے کشمیر فتح کر لیا ہو ان منچلوں نے۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ وہ یہ سب کیا کر رہے ہیں تو اپنی دھن میں مگن یہ بالکے شائد اتنا بھی نہ بتا سکیں کہ وہ جشن آزادی پاکستان منا رہے ہیں۔ مانا کہ

آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہئے

لیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہئے

کے مصداق ہم انہیں کیسے سمجھائیں کہ جوش میں ہوش کے ناخن نہ لینا کہیں کی بھی عقل مندی نہیں، جشن آزادی پاکستان منانا ہر بچے بوڑھے اور جوان کا پیدائشی حق ہے اور اس حق کو ہر نسل کے پاکستانی حق بحقدار رسید حاصل کرتے ہیں اوراپنے اپنے طور پر وطن سے محبت کے فرض کا قرض ادا کرتے رہتے ہیں، ان کے اس جذبے اور جوش کی تسکین کیلئے ہر سال اگست کا مہینہ آتا ہے لیکن اس کے آتے آتے ہماری گلیوں اور بازاروں میں بہت سی دکانوں پر پاکستان کے سبز ہلالی پھریرے اور جشن آزادی پاکستان منانے کی دیگر جزئیات پہنچ جاتی ہیں اور حب الوطنی کے جذبوں سے مامور لوگ انہیں دھڑا دھڑ خریدنے لگتے ہیں، کارخانوں اور فیکٹریوں سے ہول سیل یا تھوک کی دکانوں پر جہاں سے ہوتی ہوئیں، پرچون فروشوں، خوانچہ فروشوں اور ہتھ ریڑھیوں تک میں یہ جھنڈے، جھنڈیاں، بیج، بروج، بینر، ٹوپیاں، بگل باجے اور جشن آزادی پاکستان کو بھرپور انداز میں منانے کے بہانے یا علامتیں بکنے لگتی ہیں۔ لوگ انہیں خرید خرید کر اپنے گھروں کی منڈیروں پر سجاتے ہیں، اپنی چھاتیوں پر لگاتے ہیں، سروں اور ماتھوں پر چپکاتے ہیں، اصل میں یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں وطن سے سچی محبت ہوتی ہے اور وطن سے محبت کے قرض کی پائی پائی ادا کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں، وہ ایسا اسلئے کر پاتے ہیں کہ انہیں یہ ساری اشیاء شہر کی گلیوں اور بازاروں میں بآسانی مل جاتی ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک طبقہ وہ بھی ہے جو جشن آزادی پاکستان منانے کیلئے یہ تمام اشیاء تیار کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ کہاں کتنی کھپت ہے ان کی مصنوعات کی اور ان میں کس کس انداز سے وہ جدت طرازیاں کر سکتے ہیں، سو وہ ایسا کرنے کی دوڑ میں ہمیشہ آگے ہی آگے رہنا چاہتے ہیں تاکہ وہ گھاٹے کا سودا کرنے کی بجائے وطن سے محبت کے اس عزم کو زیادہ سے زیادہ منفعت بخش بنائیں اور اگر ہم اگست کا مہینہ آتے ہی اپنی گلیوں اور بازاروں میں جھنڈے اور جھنڈیوں کی فروخت کی گرم بازاری کا جائزہ لیں تو ہمیں بے اختیار کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کر رہا۔

لیکن مجھے عجیب لگتا ہے وہ جملہ جس میں پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کے فروخت ہونے یا اس کے خریدے جانے کی بات کرتا ہوں، یا اللہ میرے وطن کا سبز ہلالی پرچم بکاؤ مال کیسے بن گیا، جب میرے اس سوال کی گونج سات آسمانوں کو پار کرتی ہے تو جواب ملتا ہے کہ یہ دنیا ایک منڈی ہی تو ہے ایک مارکیٹ اور بازار ہے، یہاں ہر چیز بکاؤ مال ہی تو ہے، یہ الگ بات کہ ہر خریدنے والے کس وناکس کی زبان پر یہاں بکنے والی اشیاء مہنگائی کا شکوہ یا شکایت ہے

مہنگی ملے ہے ہر شے، کہنے لگا وہ ہم سے

ہم نے کہا کہ دل میں پلتے ہیں روگ سستے

کہنے لگا کہ ساتھی اپنا رہا نہ کوئی

ہم نے کہا غلط ہے، بکتے ہیں لوگ سستے

آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی تھی حضرت قائد اعظم محمد علی جناح تو مسلم لیگ کی قسمت جاگ اُٹھی، برصغیر ہندو پاک کے مسلمانوں میں اس نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ کر ریکارڈ قائم کر دیئے۔ اقبال نے جو خواب دیکھا وہ حقیقت بن کر دنیا والوں کو بتانے لگا کہ اگر قیادت پر خلوص ہو تو ہر ناممکن ممکن بن جاتا ہے، آل انڈیا مسلم لیگ کو پاکستان مسلم لیگ بننے میں دیر نہ لگی، لیکن اس منزل کے حصول کیلئے ہمارے آباء واجداد نے جو قربانیاں دیں اس کا بیان ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے، آل انڈیا مسلم لیگ کے پاکستان مسلم لیگ کے بننے تک کی کہانی بڑی پر درد ہے لیکن اس سے بھی پر درد کہانی دونمبری مسلم لیگوں کے بننے کی تھی، کیش کرنا چاہتے تھے نا ہمارے سیاستدان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی صلاحیتوں اور ان کی سیاسی پارٹی کو، سجا ڈالی انہوں نے مسلم لیگ کی دکان لگا کر اپنے اپنے نام کے حروف کی تختی، بکنے لگے سبز ہلالی پرچم اور لہرانے لگے محب الوطن پاکستانیوں کے گھروں کی منڈیروں پر اور لکھے جانے لگے ملی نغموں کے بول

یا رب مرے وطن کا پرچم بلند رکھنا

متعلقہ خبریں