Daily Mashriq


مجلس عمل کی ناکامی

مجلس عمل کی ناکامی

سولہ برس قبل جب پہلی مرتبہ ایک بڑی تعداد میں ملک کی مذہبی جماعتوں نے انتخابی اتحاد کیا تو انہیں ایک صوبے میں حکومت ملی اور ساتھ ساتھ وہ مرکز میں 60 سے زائد نشستیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئیں لیکن اس دور کے بعد یہ انتخابی اتحاد زیادہ نہ چل سکا اور پھر متعدد بار کوششوں کے باوجود دوبارہ بن نہ پایا۔تاہم حالیہ انتخابات سے قبل جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی کوششوں سے ایک مرتبہ پھر دینی جماعتیں متحدہ مجلس عمل کی انتخابی چھتری کے نیچے متحد ہو گئیں البتہ اس بار نتائج 2002 کے بالکل برعکس رہے۔ متحدہ مجلس عمل جس میں دو بڑی جماعتوں جمعیت علماء اسلام ف اور جماعت اسلامی کے علاوہ تمام مسالک سے تعلق رکھنے والی کئی دیگر جماعتیں بھی شامل تھیں، ان کے اپنے اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر سے محض 26لاکھ ووٹ حاصل کر پائیں۔ اتحاد کے بانی اور قائد مولانا فضل الرحمن اپنے آبائی حلقوں سے قومی اسمبلی کی دونوں جبکہ ان کے نائب جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق بھی اپنی آبائی نشست سے ہار گئے۔ مجموعی طور پر قومی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل12، خیبر پختونخوا میں10، بلوچستان میں9، سندھ میں ایک اور صوبہ پنجاب میں ایک بھی نشست نہیں جیت پائی۔ دوسری جانب اس اتحاد سے باہر دو نئی مذہبی جماعتیں سامنے منظر عام پر آئیں اور موازنے میں انہوں نے مجموعی طور پر ایم ایم اے سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ پرانی اور نئی مذہبی جماعتوں کی کارکردگی کے اس موازنے سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ نسبتاً نئی سامنے آنیوالی ان دو مذہبی سیاسی جماعتوں کو اس تعداد میں ووٹ کیوں ملے؟ کیا وہ اتنے یا اس سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتیں تھیں؟ اسی تناظر میں دہائیوں پر محیط سیاسی تاریخ اور انتظامی ڈھانچہ رکھنے والی متحدہ مجلس عمل میں شامل منجھی ہوئی مذہبی جماعتوں کی کارکردگی اس قدر خراب کیوں رہی؟ اس کا فائدہ کسے پہنچا؟ متحدہ مجلس عمل کے قائد مولانا فضل الرحمن اس نتیجے کو پہلے ہی بدترین انتخابی دھاندلی کی پیداوار قرار دے چکے ہیں۔ اب مولانا کی سربراہی میں بظاہر ایم ایم اے آل پارٹیز کانفرنس کے ذریعے ہونیوالے احتجاج کا حصہ ہے اور اس میں شامل دیگر جماعتوں کیساتھ حزبِ اختلاف کی صفوں میں شامل ہوتے دکھائی دیتی ہے۔ تاہم اس مذہبی اتحاد کو جتنی بھی نشستیں مل پائیں ان میں جماعت اسلامی کی شراکت محض دو نشستوں کی ہے جس میں ایک قومی اور ایک صوبائی شامل ہے۔جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق اس کارکردگی کی وجوہات کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کی دلیل کے حامی نظر آئے۔ آزادانہ الیکشن نہیں ہوا۔ ہمارے حلقوں میں بے انتہا مداخلت کی گئی۔ ایک لحاظ سے ہماری کامیابی کو ریاستی زور کی بنیاد پہ چھین لیا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے متحدہ مجلس عمل کی ناکامی کی ایک سے زیادہ وجوہات تھیں۔ سب سے اہم یہ کہ اس بار مجلس عمل کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ 2002 میں تو تمام مذہبی ووٹ اکٹھا ہو گیا تھا۔ اس بار تحریک لبیک پاکستان اور اس جیسی مذہبی جماعتیں سامنے آئیں تو اس کا چیلنج جہاں دوسری سیاسی جماعتوں کو تھا وہیں ان مذہبی جماعتوں کیخلاف بھی تھا جس کی وجہ سے ان جماعتوں کو ضرورت محسوس ہوئی کہ اب بھی انہوں نے اگر ایک دوسرے کیخلاف امیدوار کھڑے کر دئیے تو جو امکانات ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔ اسلئے ان کو اس خوف نے اکٹھا کیا۔ لوگوں نے اسلئے بھی ان جماعتوں کو ووٹ نہیں دئیے کہ انتخابی مہم میں انہوں نے نعرہ لگایا کہ وہ سیکولر اور لبرل قوتوں کیخلاف متحد ہوئے ہیں۔ دوسری جانب جماعت اسلامی گزشتہ حکومت میں پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی تھی اور جمعیت علماء اسلام ن لیگ سے تعاون کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ کئی نشستوں پر انہوں نے ن لیگ کے امیدواروں کے حق میں اپنے امیدوار ہٹا لئے، جیسا کہ سوات میں ن لیگ کے صدر شہباز شریف کیخلاف تو لوگوں نے جب یہ دیکھا کہ آج آپ جن کیخلاف ہمارے سامنے کھڑے ہو کر تقریریں کر رہے ہیں، انہی کیساتھ آپ نے سارا وقت گزارا۔ علاوہ ازیں انتخابات سے قبل ہی جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام ف کئی معاملات پر انتہائی مختلف درجے کی سوچ رکھتے تھے جیسا کہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کا معاملہ تھا جس کی مولانا فضل الرحمن نے کھل کر مخالفت کی تھی۔ دوسری جانب پاناما کیس کے مسئلے پر مولانا فضل الرحمن نواز شریف کا دفاع کر رہے تھے تو جماعت اسلامی ان کی مخالفت کر رہی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں جماعتوں میں نشستوں کی تقسیم پر بھی اختلافات سامنے آئے تھے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دور حکومت میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا حصہ تھی تو کیا اتحاد میں شامل ہونا غلطی تھا؟ کیا انفرادی حیثیت سے جماعت اسلامی بہتر کارکردگی دکھا سکتی تھی؟ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق یہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دراصل جس طرح الیکشن کو سلیکشن بنایا گیا اس میں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ایم ایم اے بنانا غلطی تھا یا نہیں؟ مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح دھاندلی کی گئی اس سے یہ حال بنا ہے۔سچائی یہ ہے کہ جماعت اسلامی کو اس اتحاد کا سیاسی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوا اور اس حوالے سے جماعت کی حالیہ شوریٰ میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اگر وہ تحریک انصاف کیساتھ ہی اتحاد میں رہتے تو شاید ان کو کچھ مل بھی جاتا۔

متعلقہ خبریں