Daily Mashriq

سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا

سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا

اب جو بھی کرنا ہے خود شیر نے کرنا ہے، اسے لطیفے والے جملے کا اعادہ سمجھ کر مسکرانے کی ضرورت ہے نہ حاجت بلکہ یہ انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے، بالآخر اسرائیل نے پاکستان کیخلاف طویل عرصے سے پلنے والے بغض وعناد کو عملی صورت دیکر بھارت کو وہ راستہ دکھا دیا ہے جو یہودیوں نے خود اختیار کر کے فلسطینی مسلمانوں کو اپنے وطن فلسطین سے نکال کر در بہ در کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یعنی نہایت خاموشی کیساتھ دنیا کے ہر کونے سے آکر فلسطینیوں کی زمینیں ہر قیمت پر خریدتے ہوئے ایسی صورتحال پیدا کر دی کہ عالمی سازش کے تحت جب انہوں نے ارض فلسطین میں یہودی سلطنت کے قیام کا اعلان کیا تو فلسطینیوں کو تب ہوش آیا کہ انہوں نے دولت کی لالچ میں اپنی قیمتی زمینین ہی فروخت نہیں کی تھیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی یہودی سود خوروں کے ہاتھ گروی رکھ دیا تھا۔ اب وہی کھیل یہودیوں کی ایماء پر بھارتی مہا سبھائی حکمرانوں نے نہایت دھڑلے سے کشمیریوں کیساتھ کھیلنے کی بنیاد رکھ دی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں عرصہ دراز سے ریاستی دہشتگردی سے نہتے کشمیریوں کا خون بہانے کے بعد بالآخر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35اے کو خارج کر کے عملی طور سے کشمیر کو بھارت میں ضم کر دیا ہے، مگر صورتحال اب بھی کشمیریوں کے ہاتھ میں ہے اور وہ چاہیں تو فلسطینیوں کے حشر سے سبق سیکھتے ہوئے صورتحال کو بڑی حد تک قابو کر سکتے ہیں۔ جی ہاں اب جو کرنا ہے شیر نے کرنا ہے، یعنی وہ فلسطینیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی زمینیں اور جائیدادیں ہندو ساہوکاروں کے ہاتھ بیچنے کی بجائے ان کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ یہی وہ پیغام ہے جو ''شیر'' کی مرضی کے تابع ہے۔ انتہائی دکھ اور معذرت کیساتھ گزارش کرنا پڑ رہی ہے کہ جو بھی کرنا ہے کشمیریوں نے خود کرنا ہے۔ خواہ وہ مسلح جدوجہد ہو، جو وادی کے اندر گزشتہ کچھ مدت سے جاری بھی ہے اور وانی اور گورو جیسے کڑیل جوانوں کی لازوال قربانیوں کے طفیل لمحہ بہ لمحہ مہمیز ہوتی جارہی ہے یا پھر سیاسی سطح پر کشمیری قیادت کشمیر کی آزادی کیلئے دنیا بھر میں آواز اُٹھا رہے ہیں اور آزادی کی شمع روشن رکھے ہوئے ہیں، اس جدوجہد کے سرخیل علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک، شبیر شاہ اور ان کے ساتھی ہیں، یہ جدوجہد جاری رہنی چاہئے، دنیا کے آزادی پسند اقوام کے ضمیروں کو اپنا ہمنوا بنانے کیلئے ہر قدم اُٹھاناچاہئے، لیکن جس بات کی معذرت مانگی ہے وہ یہ ہے کہ آزادی کی تحریکیں اپنے بل بوتے پر چلانا پڑتی ہیں، تاریخ نے ہمیں یہی سبق دیا ہے، بدقسمتی سے کسی دوسرے پر تکیہ کرنے سے منزل مقصود تک پہنچنے کے خواب دیکھنے سے منزل نہیں ملتی، البتہ اس راستے میں قدم قدم پر سراب ہی سراب دکھائی دیتے ہیں، آج دنیا میں مسلمانوں کے زوال کا سبب ہی یہی ہے کہ ہم نے اسلام کے آفاقی پیغام کو تج دیا ہے، مسلمان ملکوں کی ایک تنظیم او آئی سی کے نام سے موجود تو ہے مگر اس کے بارے میں شاعر نے بہت پہلے کہا تھا

ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے

موجودہ صورتحال میں ایک بار پھر ہم نے اس پہ تکیہ کرنے کی سوچ اپنالی ہے اور یہ توقع کئے بیٹھے ہیں کہ وہ دباؤ ڈال کر بھارت کو اپنا فیصلہ تبدیل کرانے پر آمادہ کرا دے گی مگر اس تنظیم کی حیثیث تو عرصہ ہوا ''اوہ۔۔آئی سی! ہوچکی ہے، ہمارے کئی عرب ممالک خود اسرائیل کیساتھ سفارتی بندھن میں بندھے ہوئے ہیں اور بھارت کو اتنی اہمیت دے رہے ہیں کہ اب تو بھارت وہاں مندر قائم کرنے کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے، کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اب دنیا کے اپنے اپنے اقتصادی مفادات ہیں، پھر بڑی طاقتوں کے زیرسایہ ان ''مسلمان'' ممالک میں اب اتنا دم خم بھی نہیں کہ وہ ان کی مرضی کے بغیر کوئی قدم اُٹھا سکیں، اس لئے ان سے یہ توقع کہ وہ کشمیریوں کیلئے کوئی مؤثر آواز اُٹھائیں گے فرسودہ سوچ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، کشمیر میں کیا ہونے جارہا ہے اس حوالے سے وثوق سے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس وقت عالمی سطح پر بیانات سے اندازہ لگانے میں کچھ دشواریوں کا سامنا ہے، بظاہر تو ان بیانات میں مظلوم کشمیریوں کے حق میں آوازیں اٹھ رہی ہیں مگر کیا صرف بیانات سے کشمیریوں کے دکھوں کا مداوا ممکن ہے؟ پاکستان تو جو کچھ بن پا رہا ہے وہ کر رہا ہے، تاہم مقبوضہ کشمیر سے ایک بیان خاصا توجہ طلب ہے اور وہ ہے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا یہ بیان کہ دو قومی نظریہ ٹھکرا کر بھارت سے الحاق کا فیصلہ غلط تھا، اس پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا، جن کشمیری رہنماؤں نے پنڈت جواہر لعل نہرو کے دھوکے میں آکر بھارتی حکومت کیساتھ تعاون کیا اور ''بہتر'' مستقبل کے خواب دیکھے اب انہیں بھی احساس ہو ہی گیا ہے کہ نہرو اور کانگریس کے رہنماؤں نے ان کو دھوکہ دیا تھا، ان کی آنکھوں میں دھول جھونکی تھی مگر اب جبکہ ہندو مہا سبھائی کا اصل چہرہ سامنے آچکا ہے ان مسلمان رہنماؤں کو ہوش آبھی گیا تو کیا فائدہ یعنی بقول شاعر

سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا

دن میں آکر چراغ جلائے تو کیا کیا

اب بس دوہی راستے ہیں کہ جنہوں نے وہاں آزادی کی تحریک شروع کر رکھی ہے یہ ''زودپشیماں'' سیاسی حلقے بھی اس تحریک کے پیچھے کھڑے ہوں اور دوسرے یہ کہ اپنی زمینیں فروخت کرنے کی غلطی نہ کریں۔ ورنہ

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

متعلقہ خبریں