Daily Mashriq


نومنتخب امریکی نائب صدر کی بھی مسئلہ کشمیر میں دلچسپی

نومنتخب امریکی نائب صدر کی بھی مسئلہ کشمیر میں دلچسپی

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد امریکی نو منتخب نائب صدر مائیک پنس نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ نو منتخب امریکہ صدر پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل میں مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔ امریکی صدر مسئلہ کشمیر کے حل کرانے میں سنجید ہ ہے ۔ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد نومنتخب امریکی نائب صدر کا وزیر اعظم نواز شریف کو پاکستان کے تصفیہ طلب مسائل اور تنا زعات کے حل میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کے اعادے سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ امریکہ کی نومنتخب قیادت دونوں ممالک کے درمیان تصفیہ طلب مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے ۔ نو امریکی قیادت کا عزم اور پیشکش اپنی جگہ لیکن ابھی ان کی اس پیشکش کو امریکی حکومت کی پیشکش قرار دینا قبل ا ز وقت ہوگا ۔امریکی صدر جب قصرابیض جا کر امریکی وزیر خارجہ سے بریفنگ لینے کے بعد اس طرح کے عزم و خیالات کا اظہا ر کریں اس وقت ہی یہ امریکی پالیسی قرار پائے گی۔ اگر دیکھا جائے تو یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ امریکہ اس طرح کی پیشکش قبل ازیں بھی بار بار کر چکا ہے لیکن کبھی سنجید گی اور متانت کی نوبت نہ آسکی۔ اس کے باوجود بھی بہر حال یہ حوصلہ افزاء امر ہے کہ وہ ہمارے تصفیہ طلب اور حل طلب مسائل میں دلچسپی ضرور لیں گے ۔ اس موقع پر ہمیں امریکہ بھارت تعلقات کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا اور سفارتی دنیا میں کبھی ایسا ممکن نہیں کہ امریکہ جیسا ملک اپنا سار اوزن ہمارے پلڑے میں ڈال دے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ اگر سنجید گی کے ساتھ پاک بھارت تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرے اور مقبوضہ کشمیر سمیت چند دیگر اہم نوعیت کے معاملات میں پاک بھارت سنجید گی سے مذاکرات کرا کر کسی تصفیے تک پہنچنے اور ضامن کا کردار ادا کرنے کی حامی بھر لے تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آسکتی ہے جو خطے میں حالات کو ساز گار بنانے میں مدد گار ثابت ہوگا ۔ جہاں تک دیگر معاملات کا تعلق ہے پاک امریکہ تعلقات میں بھی کئی ایسے اتار چڑھائو موجود ہیں جس میں بہتری لانے میں امریکی صدر کا کردار اہم ہوگا ۔ امر واقع یہ ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ازل سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے آئے ہیں ۔اس وقت بھی یہ خاص طور پر اتار کا شکار ہیں۔اس بات کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال اپریل میں امریکہ پاکستان کو رعایتی نرخوں پر ایف16 طیاروں کی مد میں امداد دینے سے انکار کر چکاہے۔اس کے علاوہ امریکہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے معاملے پر بھی سیخ پا ہے جبکہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں''ڈومور'' کا دائمی مطالبہ بھی بیچ میں حائل ہوتا رہتا ہے۔ ان پرانی رنجشوں کے ساتھ ساتھ گزشتہ چند سالوں میں امریکہ کی جانب سے جنوبی ایشیائی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی بھی دیکھی گئی ہے۔چاہے چین کا مقابلہ کرنے کے لیے یا پھر بھارتی منڈیوں تک رسائی کے لیے، جس وجہ سے بھی امریکہ نے اپنی پالیسی تبدیل کی ہو، یہ بات واضح ہے کہ امریکہ اور انڈیا کے روابط میں واضح بہتری آ رہی ہے۔پاکستان اسے امریکہ کا سٹر یٹجک شفٹ سمجھے یا بے وفائی، امریکہ اور پاکستان کے تعلقات ایک سرد دور سے گزر رہے ہیں۔امریکہ کو شاید اس امر کا بھی احساس ہوگیا ہے کہ ان کے معاندانہ رویے نے پاکستان کو روس سے بہت قریب کر دیا ہے اور سرد جنگ کے دنوں میں جس روس کے جنگی طیارے پاکستانی علاقوں پر بمباریاں کرتے تھے آج و ہ دو ممالک دست تعاون دراز کر رہے ہیں ۔روسی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے پاکستان کا دورہ کر کے نہ صرف غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ہے بلکہ اعتماد سازی کے باعث پاکستان اور روس سی پیک میں شراکت پر رضا مندی کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ ہارٹ آف ایشیا ء کانفرنس میں روس نے پہلی مرتبہ بھارت اور افغانستان کے مقابلے میں کھل کر پاکستان کے مئوقف کی تائید کر کے ایک واضح سفارتی پیغام بھی دیا ۔ اس سارے منظر نامے سے امریکہ کے پاس پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لا کر خطے میں ایک اہم اتحادی کو کھونے سے بچا نے کے علاوہ کوئی اور بہتر صورت نہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان دونوں کے لئے یہ ایک اچھا موقعہ ہے کہ وہ سرحد وں پر کشید گی میں کمی لائیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوئی قابل قبول فارمولا وضع کرنے پر اتفاق کریں۔ اگرا صولی طور پر دیکھا جائے تو مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کسی فار مولے اور کسی ثالثی پر آمادگی کی کوئی ضرورت نہیں۔ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کی قرار دادوں اور سلامتی کونسل میں بھارتی وزیر اعظم کی ان قرار دادوں پر عملدر آمد کی یقین دہانی کے بعد اس معاملے کا منصفانہ تصفیہ ہو گیا تھا جس کے بعد صر ف اس قرار داد پر عملد ر آمد کرنے اور اسے حقیقی شکل دینے کی ضرورت ہے ۔ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قرار داد کے مطا بق استصواب رائے کے ذریعے کشمیر ی عوام کی مرضی ومنشا ء معلوم کرنا پاکستان اور کشمیر ی عوام سبھئی کے لئے قابل قبول فارمولا ہے اور انصاف کا تقا ضا بھی ۔

متعلقہ خبریں