Daily Mashriq


پولیس گردی کے بڑھتے واقعات

پولیس گردی کے بڑھتے واقعات

بعض اوقات پولیس اس قسم کے مقد مات درج کرتی ہے جن کی یا تو کوئی بنیاد نہیں ہوتی یا پھر مشکوک ہوتے ہیں۔ گزشتہ روز تھانہ اضاخیل میں اس طرح کے ایک واقعے کے خلاف عوام نے شدید احتجاج کیاتو وزیر اعلیٰ نے مداخلت کی تو پولیس کو ملزم کو رہا کرنا پڑا۔ حیات آباد میں نوجوان پر جان بوجھ کر ایک کسٹم انسپکٹر کی گا ڑی کو ٹکر مارنے کا مقد مہ درج کیا گیا ہے بعض اخبارات میں موٹر سائیکل سوار نوجوان پر مقد مہ درج کرنے کی خبریں شائع ہوئی ہیں اس مقدمے کے مشکوک ہونے کی سب سے بڑی وجہ پولیس کی مستعدی ہے جنہوں نے دو نوجوانوں کو گرفتار کر لیا جب تک اس کیس کی حقیقت سامنے نہیں آتی ہمارے تئیں اس وقت تک یہ ایک ٹریفک حادثے کا شاخسانہ ہے جس میں پولیس نے ایک فریق کے خلاف جانبداری پر مبنی کارروائی کی ۔ اس میں جس دعوے کو بنیاد بنایا گیا ہے معمول کے مطابق ایسا نہیں ہوتا۔سڑ ک پر بعض اوقات منچلے نوجوان کسی گاڑی والے سے الجھتے ضرور ہیں لیکن کبھی ایسانہیں ہوا کہ دوسرے فریق کا احتراز کرنے یا پھر ان کو سمجھانے پر انہوں نے گاڑی قصداً ٹکر ا کر اپنی گاڑی بھی تباہ کی ہو اور دوسری گاڑی کو بھی نقصان پہنچا یا ہو۔ ہمارے نزدیک اس مقدمے کے اندراج میں کہیں نہ کہیں کوئی غلط بیانی یا جانبداری ضرو ر شامل ہے ۔ پولیس عموماً نہ تو موقع پر پہنچتی ہے اور نہ ہی ٹریفک پولیس دوفریقوں میں تصفیہ کرانے میں دلچسپی لیتی ہے کجاکہ مقدمہ بھی درج ہو اور گرفتاریاں بھی ہو جائیں ۔پولیس کا اس طرح کا رویہ اور جانبدارانہ کردار اس امر پر دال ہے کہ ابھی جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی صورتحال میں تبدیلی نہیں آئی ۔ اسی طرح کی صورتحال کے مشاہدے پر عوام کا پولیس سے بد ظن ہونا پولیس پر عدم اعتما داور بیزاری کا اظہار فطری امر ہے۔ جب تک پولیس بعض مقدمات میں سستی وکاہلی اور بعض میں غیر معمولی دلچسپی اور کار کردگی دکھانے کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اصولی انداز نہ اپنائے اور شہریوں کے ساتھ مساوی طور پر اور برابری کا سلوک نہ کرے اس وقت تک پولیس کے حوالے سے عوامی تحفظات میں کمی نہیں آئے گی۔ آئی جی خیبر پختونخوا بیورو کریسی سے اختیارات کی جنگ تو جیت گئے مگر پولیس کی اصلاح میں ان کو ذرا بھی کامیابی نہیں ہو سکی اور لگتا یہی ہے کہ وہ یہی حسرت لیکر ملازمت سے سبکدوش ہوں گے ۔ پولیس گردی کے اس طر ح کے واقعات کی روک تھام کئے بغیر خیبر پختونخوا کی پولیس کو مثالی قرار دینے والوں کے دعوے پر کون یقین کرے گا ۔ جب وزیر اعلیٰ کو بے گناہ ملزم کو رہا کرانے تھا نے جا نا پڑے اور عوام بے گناہ افراد پر مقدمہ کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوتے رہیں گے ۔

بلدیاتی ملازمین کے بچوں کو معیاری تعلیم سے محروم نہ کیا جائے

بلد یاتی ملازمین کی جانب سے میونسپل تعلیمی اداروں میں ملازمین کے بچوں کی فیسوں ، ٹرانسپورٹ فیسوں میں دوگنا اضافے پر احتجاج ہمدردی کے ساتھ توجہ دینے کا حامل معاملہ ہے۔ روایت یہ ہے کہ مختلف اداروں کی جانب سے قائم کئے گئے تعلیمی اداروں میں ان کے محکمے کے ملازمین کے بچوں کو رعایت دی جاتی ہے ۔ آرمی ائیر فورس واپڈا جیسے سرکاری اداروں میں اس کا خاص طور پر اہتمام ہوتا ہے جس کا مقصد پست درجے اور کم تنخواہ والے ملازمین کے بچوں کو بھی معیار ی تعلیم کے مواقع کی فراہمی ہوتی ہے ۔ بلدیاتی اداروں کے ملازمین کی اکثریت کم تنخواہ کے حامل افراد پر مشتمل ہوتی ہے اگر بلدیاتی ملازمین رشوت و بد عنوانی کا ارتکاب کرنے والے نہ ہوں تو اوسط بلکہ بالائی درجے کے ملازمین بھی اعایت کے مستحق اور محتاج ہوتے ہیں لیکن بہر حال ان کے پاس اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلانے کے مواقع نسبتاً بہتر ہوتے ہیں لیکن بلد یاتی ملازمین کی اکثریت اس قابل نہیں ہو تی کہ وہ اپنے بچوں کو با آسانی زیور تعلیم سے آراستہ کر سکیں۔ ایسے میں بلد یہ کے زیر انتظام تعلیمی ادارے ہی ان کی اولین و آخر ی ترجیح تھی جس کی فیسوں اور دیگر مدات کے اخراجات میں غیر منصفانہ اور غیر حقیقت پسندانہ اضافہ کر کے اب ان کو اس سہولت سے بھی محروم کیا جارہا ہے جس کا کوئی جواز نہیں ۔ اگر چہ یہ رعایت ان کا حق ہے ا س کے با وجود اس بارے میں ضلع کونسل کے اجلاس میں بھی بلدیاتی ملازمین کے بچوں کو مفت تعلیمی سہو لیات کی فراہمی بارے قرارداد کی بھی منظوری دی جا چکی ہے جس پر عملدر آمد اگر ممکن نہیں تو کم از کم رعایتی بنیادوں پر ملنے والی اس سہولت کا خاتمہ تو نہ کیا جائے ۔ وزیر بلدیات عنایت اللہ خان کو اس جائز مسئلے پر ہمدردانہ غور کر کے ملازمین میں بچوں کو معیاری تعلیم سے محروم ہونے سے بچانے کے لئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ بلدیاتی ملازمین کے بچوں کو رعایتی تعلیم دینے کی سہولت بر قرار رکھی جائے گی اور اُن کو احتجاج اور ہڑتالوں پر مجبور نہیں کیا جائے گا بہتر ہوگا کہ بلدیاتی ملازمین بھی عوام کی خدمت میں بھی اسی طرح دلچسپی لیں گے جس طرح اُن کو اپنے بچوں کے لئے رعایتی تعلیم برقرار رکھنے میں دلچسپی ہے ۔

متعلقہ خبریں