Daily Mashriq


سرتاج عزیز امرتسر کے کٹہرے میں

سرتاج عزیز امرتسر کے کٹہرے میں

سنہری گنبدوں کا شہرامرتسر مشرقی پنجاب کا دارالحکومت اور سکھوں کی سیاسی اور مذہبی طاقت کا مرکز ہے ۔یہاں سکھوں کا سب سے مقدس مقام دربار صاحب بھی واقع ہے جسے گولڈن ٹیمپل کہا جاتا ہے ۔اسی کی دہائی میں جب سکھوں نے تقسیم ہند کے وقت اپنے لیڈر ماسٹر تارہ سنگھ کی پالیسی سے انحراف کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ایک نوجوان لیڈر سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کی قیادت میں خالصتان کے نام سے الگ وطن کے قیام کی جدوجہد شروع کی تو امرتسر نے اس تحریک کو کچلنے کی کوششوں کے دوران بہت دلدوز مناظر بھی دیکھے۔جن میں سب سے خوفناک مرحلہ بھارتی فوج کا آپریشن بلو سٹار تھا جس میں دربار صاحب میں مورچہ زن بھنڈرانوالہ اور ان کے مسلح ساتھیوں کے خلاف بے رحمانہ کارروائی کی گئی اور دربار صاحب کے مینار ،سنہری گنبد،دیواروں کو چھلنی کر دیا گیا ۔ان میںہر چھید اور گولی کے ہر نشان کو سکھوں نے اپنے دل پرمحسوس کیا اور وہ مدتوں تک بھارت سے ناراض اور نالاں رہے ۔بہت سوں نے انگلستان اور کینیڈا کی راہ لے کر جلاوطنی اختیار کی وہ وہاں تحریر وتقریر کے ذریعے اپنی جدوجہد کوآگے بڑھانے لگے۔دربار صاحب کی دیواروں کو لگے زخم تو بھر دئیے گئے مگر دلوں کے زخم تازہ ہی رہے اور آج تک سکھ اس واقعے کو فراموش نہیں کر سکے ۔افغانستان سے متعلق ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا امرتسر میں انعقاد ایک ایسے وقت میں ہوا جب سکھ تحریک میں ایک نئی کروٹ کے آثار ہیں ۔کانفرنس کے لئے دہلی کی بجائے امرتسرکے انتخاب میں نریندرمودی کا کس کے لئے کیا پیغام تھا ؟متعلق اور مخاطب یقینا اس اشارے کو سمجھ گئے ہوں گے۔تاہم وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے ساتھ گولڈن ٹیمپل کے شہر میں بھارتی حکام کی طرف سے جو سلوک ہوا وہ اس حقیقت کو کچھ اور عیاں کر گیا کہ یہ میلہ صرف پاکستان کا کمبل چرانے کے لئے رچایا گیا تھا ۔سرتاج عزیز کو مودی اور اشرف غنی کی تقریروں کی صورت میں فردجرم سننے کا جبر بھی سہنا پڑااورانہیں نہ پریس کانفرنس سے خطاب کرنے دیا گیا اور نہ ہی دربار صاحب کے دورے کی اجازت ملی ۔یہ تیور دیکھتے ہوئے انہوں نے ہانپتے کانپتے اسلام آبادمیں پہنچ کر اپنی سانسیں بحال کیں۔ اس رویے سے صاف پتا چلتا ہے کہ کانفرنس کا ایجنڈا اور مقاصد بھارت کے ہاتھوں ہائی جیک ہو کر رہ گئے تھے۔یہ کانفرنس جس کی غرض وغایت افغانستان کو امن اور استحکام کی منزلوں سے آشنا کرنا تھی پاکستان کو تنہا کرنے کی مودی فلاسفی کی خاطر استعمال ہورہی تھی ۔سارک اور برکس کانفرنسوں میں بھارت اپنی سی کوشش کر کے دیکھ چکا ہے ۔اب بھارت نے افغانستان سے متعلق ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کو پاکستان سے متعلق اپنا موقف بیان کرنے کے لئے تیسرا موقع جان کر اپنامنفی کردار ادا کیا ۔ صاف دکھائی دے رہا تھا کہ اس کانفرنس کا مقصد افغانستان میں امن کی بجائے پاکستان پر الزامات کی بارش ہے ۔ایسا لگا کہ امرتسر میں کوئی کانفرنس نہیں ہورہی بلکہ عدالت سجائی گئی ہے جس میں جج کا کردار بھارت کا ہے ،استغاثہ افغانستان ہے اور کٹہرے میں سرتاج عزیز کھڑے ہیں۔اس قدر مخالفانہ ماحول اور فضاء میں منعقد ہونے والی کانفرنس افغانستان کو امن اور استحکام کی کن منزلوں سے آشنا اور ہمکنار کرے گی اس کا انداز ہ لگانا چنداں مشکل نہیں ۔یوں بھی بھارت کو افغانستان میں امن سے کوئی غرض نہیں اس کا مقصد افغانستان کو پاکستان کے گھیرائو اور دبائو کے لئے استعمال کرنا ہے۔سرتاج عزیز نے کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کرکے اچھا کیا مگر یہ شرکت عشائیوں اور ظہرانوں کی بجائے صرف تقریر تک محدود رہتی تو اچھا تھا ۔اپنی تقریر سنا کر سرتاج عزیز اپنے ملک کے خلاف ''فرد جرم'' سننے اور اس پر سر دھننے کا انتظار نہ کرتے تو اچھا ہوتا ۔بعد میں مودی اپنا بھاشن اور ان کے شہ بالے کا کردار ادا کرنے والے ''آزاد''افغانستان کے ''خود مختار ''صدر اشرف غنی اپنی فرد جرم خود ہی پڑھتے اور خود ہی سنتے۔ بھارت صرف اور صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے اور طاقت کے آگے سرِتسلیم خم کر تا ہے ۔اگر ایسا نہ ہوتا تو بھارت کی طرف سے کم وبیش یہی سلوک چین کے نمائندے کے ساتھ بھی ہوتا ۔پاکستان اور بھارت کی جو کشمکش اس وقت چل رہی ہے اس سے کہیں زیادہ کشمکش جنوب سے شمال تک بھارت اور چین کے درمیان چل رہی ہے ۔یہ کشمکش جنوبی چین کے پانیوں اور جزیروں میں بھی جاری ہے اور اروناچل پردیش اور لداخ کی خشکی پر بھی جاری ہے اور یہی کشیدگی سی پیک کی کامیابی اور ناکامی کی متصادم کوششوں کی صورت میں پاکستان کی سرزمین پربہم جاری ہے ۔بھارت جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرانا چاہتا ہے تو چین سلامتی کونسل میں اس قرار داد کو ویٹو کرکے بھارتی عزائم کو ناکام بنا کر اس کی سُبکی کا سامان کرتا ہے ۔ اس کھلی کشمکش اور کشیدگی کے باوجود اقوام متحدہ کا سفارتی محاذ ہو یا لداخ یا زمینی میدان بھارت چین سے براہ راست پنجہ آزمائی سے کنی کترا جا تا ہے ۔اس کی وجہ 1962ء کی چین بھارت جنگ میں حاصل ہونے والا وہ سبق ہے جسے دہائیاں گز رجانے کے باوجود بھارت بھول نہیں پایا ۔بھارت چین کے ساتھ جنگ چھیڑ بیٹھا تو جوابی وار سے عبرتناک شکست ملی اور اس کے بعد سے بھارت نے چانکیہ کی تعلیمات کے عین مطابق اپنے سے طاقتور سے بھڑنے سے گریز کی روش اختیار کر لی ۔آج جب دونوں ملکوں کے درمیان خطے میں بالادستی کا کھیل زوروں پر ہے بھارت دوبارہ چین کے ساتھ سیاسی ،سفارتی یا عسکری تصادم سے دامن بچائے ہوئے ہے ۔ امرتسر میں سرتاج عزیز کے ساتھ ہونے والا سلوک پاکستان کو یہ پیغام دے گیا۔بھارت صرف طاقت کی زبان سمجھتا اور طاقتورسے معاملات طے کرنے پر یقین رکھتا ہے ۔بھارت کے ساتھ کمزور وکٹ پر کھیلنا حماقت اور خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔

متعلقہ خبریں