Daily Mashriq


موسم کی نیر نگیاں اور عوام

موسم کی نیر نگیاں اور عوام

شعیب بن عزیز ہمارے عہد کے اچھے شعرا ء میں شمار ہوتے ہیں ، ایک عرصے تک مشاعروں سے کنارہ کش رہے ۔ بڑے بڑے عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں ۔ اب البتہ کبھی کبھار مشاعروں میں نظر آجاتے ہیں ۔ ان کا ایک بہت خوبصورت اور مقبول عام شعر ہے 

کیوں اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

آجکل ہمارے ہاں کی سردیوں نے لگ بھگ ایسی ہی صورتحال کو جنم دیا ہے پہلے تو سردی آغاز ہی نہیں ہو رہی تھی اور نومبر کے آغاز تک گرم کپڑوں کا تکلف ہی کسی نے نہیں کیا تھا ، حالانکہ مجھے یاد ہے کہ جب اس شہر گل پر گل چینوں نے تصرف حاصل کیا تھا یعنی اس شہر کے ارد گرد اور اندر و باہر سبزہ و گل نظر آتا تھا تو 15ستمبر کے بعد سردی کا موسم چپکے چپکے سرشام ہی ٹھنڈ ک کا احساس دلا دیتا تھا اور ہم دوستوں کی صورتحال یہ رہتی تھی کہ شام کے قریب گھروں سے موٹر سائیکلوں ، سکوٹروں پر صدر میں اکٹھے ہونے اور گپ شپ کرنے کے لئے پہنچتے تو سویٹر ساتھ ضرور رکھتے کیو نکہ رات نو ساڑھے نو بجے کے وقت واپسی پر بغیر سویٹر سکو ٹر موٹر سائیکل چلا نا ممکن نہ ہوتا ۔ مگر گزشتہ چند سال کے دوران تو موسم میں جس قسم کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں ان کی وجہ سے اب ایسا لگتا ہے کہ سردیاں روٹھی جارہی ہیں ، عالمی سطح پر یہ جو گلوبل وارمنگ کی باتیں کی جارہی ہیں ، یار لوگ ان سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے سارا نزلہ اسی سوچ یا آئیڈیا پر کرانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر مسئلہ یہی ہے کہ یہ نزلہ ہم جیسے بے بس لوگوں پر ہی گرتا ہے اور قدیم زمانے سے جو نظریہ ہمارے ہاں زندہ ہے اصل بات وہی ہے کہ سردیوں میں جب تک بارش نہ ہو سردیاں خشک ہی رہتی ہیں اور ڈاکٹر وںکے نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی چاندی ہی چاندی ہو رہی ہے ، کہ بچوں اور بزرگوں پر خصوصاً اور دوسرے لوگوں پر عموماًاس خشک سردی کے اثرات ان دنوں بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اور ہر شخص لگ بھگ اسی شعر کی تفسیر بنا دکھائی دیتا ہے جس کا تذکرہ اوپر کی سطور میں کیا جا چکا ہے ۔ مگر بارش نہ ہونے سے آج کل ہر گھر میں کہیں کھانسی کی آواز یں بے وقت کی راگنی الاپتی دکھائی دیتی ہیں تو چھینکو ں کی بلند آہنگی چند لمحوں کے سکون کو غارت کر دیتی ہے ۔ بلکہ جب بچے اس موسم کا شکار ہوجاتے ہیں تو ان کی فریاد بھری چیخیں بڑوں کا سکھ چین بھی ساتھ لے جاتے ہیں ۔ مگر جیسا کہ عرض کیا ہے کہ طویل وارمنگ کے نظر یہ کو نظر یہ ضرورت بنا کر بر عضو ضعیف گر اتے ہوئے اپنی جیبیں بھرنے والے خوش ہی رہتے ہیں ، کیو نکہ جب سے مغل بادشاہ بابر نے پشاور کو شہر گل کا خطاب دے رکھا ہے ، صدیا ں گزر جانے کے باوجود اس شہر سے یہ لقب کوئی نہیں چھین سکا تھا کیونکہ اس شہر کے ارد گرد سرخ ، سفید ، زرد اورپیازی رنگ کے گلابوں اور دیگررنگ برنگے پھولوں کے قطعات کثیر تعداد میں موجود رہا کرتے تھے اور گلابوں کے موسم میں ہر سو ایک بھینی بھینی خوشبو کی حکمرانی نظر آتی تھی ، ان باغا ت سے ٹنوں کے حساب سے گلاب کے پھول لا کر پھلیارے شہر میں اپنی دکانیں سجاتے تو جی خوش ہو جاتا یہاں تک کہ خوردہ فروش چھوٹے چھوٹے چنگیروں میں یہ پھول سجائے گلی گلی پھیل کر فروخت کرتے اور لوگ انہیں خرید کر اپنے گھروں میں پڑے مٹی کے مٹکو ں اورگھڑوں میں ڈال کر گلاب کے خوشبو سے معطر پانی پیتے تو ایک فرحت سی محسوس ہوتی ۔ مگر جب سے یہ پھول تقریباً نا پید ہو چکے ہیں تو اب شادی بیاہ ،حج وعمرے کے لئے آنے جانے والوں کے لئے بھی پھول ملنا اس قدر مشکل ہو چکا ہے کہ چند تار بھی سینکڑوں میں ہی ملتے ہیں ۔ ویسے بھی دنیا کتنی تبدیل ہوچکی ہے مٹی کے گھڑوں اور مٹکو ں کی جگہ پلاسٹک کے کولر اور فریج لے چکے ہیں بوتلوں میں ٹھنڈا پانی تو مل جاتا ہے مگر ان میں گلابوں کی وہ خوشبو ندار دہے بلکہ جو لوگ منرل واٹر پینے کے عادی ہیں ان کا پانی کی مٹھاس سے بھی اب کوئی واسطہ نہیں رہا کیو نکہ ان بوتلوں کا پانی ہلکا ہلکا کڑوا ہوتا ہے البتہ ہم غریب لوگوں کے گھروں میں عام نلکوں سے بھری جانے والی بوتلوں کا پانی میٹھا تو ضرور ہوتا ہے لیکن اس کی آلودگی پر سو سوال اٹھا ئے جاتے ہیں ، اگر چہ اپنے جرمنی کے قیام کے دوران جہاں میں ڈرامے کی ٹریننگ کے لئے ڈوئچے ویلے ریڈ یو ٹریننگ سنٹر گیا تھا ۔ ہمارے ایک ٹر ینر مسٹر وولفرآم فراملیٹ نے ہمیں یہی کہا تھا کہ یہ لوگ جو بوتلوں میں منرل واٹر کے مقابلے میں عام نلکے میں آنے والے پانی پر سوال اٹھا تے ہیں در اصل ان کی نظر آپ کی جیبوں پر رہتی ہے تا کہ یہ ان بوتلوں والے پانی کے عوض آپ کی جیبیں خالی کر سکیں ۔اس کے بعد ہم لوگوں نے نلکے کا پانی پیتے ہوئے ایک پاکستانی فلم میں رنگیلا کا ڈائیلاگ دوہرانے سے کبھی احراز نہیں کیا کہ '' میں نے جرمنی کے نلکوں کا پانی پیا ہے ، کوئی حقہ نہیں پیا ''۔ تاہم مسٹر وولفرام فراملیٹ اگر پاکستان آجائیں تو انہیں یقینا اپنا قول بدلنے پر مجبور ہونا پڑے گا کیو نکہ یہاں تو حکومتی متعلقہ اداروں کی جانب سے اس قسم کی خبریں ضرور آجاتی ہیں کہ منرل واٹر بوتلوں میں بند کرنے والی بہت سے کمپنیاں عام پانی عوام کو فراہم کر رہی ہیں ۔ البتہ ان کمپنیوں کے نام ظاہر کرتے ہوئے ان اداروں کے بھی پر جلتے ہیں اور عوام کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون کونسی کمپنی منرل واٹر کے نام پر عام آلودہ پانی ہی ان پر بیچ کر رقوم بٹور رہی ہیں ۔ ان اداروں سے اچھی کار کردگی تو حکومت پنجاب کی فوڈ اتھارٹی نے دکھائی ہے جس نے باقاعدہ ایک اشتہار کے ذریعے ناقص بنا سپتی گھی اور کوکنگ آئل عوام کو فروخت کر کے کروڑوں کمائی کرنے والوں کے نام بتا دیئے ہیں ۔

متعلقہ خبریں