Daily Mashriq


دوٹیلیفون کالز

دوٹیلیفون کالز

دو ٹیلی فون کالز کی وجہ سے چار ممالک میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔ایک فون کا تعلق پاکستان سے ہے ۔جبکہ دوسری کال کا تعلق تائیوان سے ہے۔پاکستان کی کال پر امریکہ میں تنقید کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔جبکہ پاکستان میں اس کو سراہا جارہا ہے۔تائیوان کی کال سے امریکہ نے اپنے بڑے تجارتی پارٹنر چین سے پنگا لیا ہے۔چین '' ون چین '' پالیسی پر عمل پیرا ہے۔چین تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتے ہیں۔تائیوان سے براہ راست بات چیت کر کے امریکہ نے چین کی ناراضگی مول لی ہے۔ابھی ڈونلڈ ٹرمپ نومنتخب صدر ہیں ۔لیکن ابھی تک حلف نہیں اُٹھایا ۔اس لئے سفارتی آداب کی نزاکتوں اور باریکیوں سے نابلد ہیں۔کوئی بھی سربراہ مملکت جب غیر ملکی سربراہوں کے ساتھ رابطہ کرتا ہے تو تمام پروٹو کول کو مد نظر رکھتے ہوئے اظہار خیال کرتا ہے۔لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے جو دو سربراہوں سے ٹیلی فون پر بات کی ہے وہ سراسر مجوزہ پروٹوکول کے برخلاف ہے۔ سفارتی آداب اور نزاکتوں کا تقاضا ہے کہ دو ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کی نوعیت کے بارے میں عام طور پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے۔جس پر دونوں ممالک کو اتفاق ہو اور اس قسم کے بیان کو جاری کرنے سے پہلے دونوں ممالک کی منظور ی یا مشورہ کیا جاتا ہے۔جبکہ امریکہ کے اخبارات میں امریکی صدر کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔جبکہ حقیقت میں بھی کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔اب تک امریکی صدر نے حلف نہیں اُٹھایا اور متعلقہ اداروں نے مکمل طور پر بریفنگ بھی نہیں دی ۔امریکی صدر کے حلف اُٹھانے کے بعد جب پالیسی بیان دیا جائیگاتب پتہ چلے گا کہ اُونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔امریکی سسٹم میں صدر کے ساتھ ساتھ پالیسیوں کے بنانے اور اس پر عمل کرنے کے لئے اور کئی ادارے بھی موجود ہیں۔جو صدر کو ہر بات پر بریفنگ دیتے ہیں اور تمام اداروں کی رائے اور مشورے کے مطابق لائحہ عمل اختیار کیا جاتا ہے۔نواز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کے کمپیسن لیڈروں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کیلئے مشیر برائے خارجہ اُمور طارق فاطمی کی ڈیوٹی لگا دی ہے جو بیرون ملک دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔اُن کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ نئے منتخب ہونے والے امریکی صدر کے کیمپ سے رابطے استوار کئے جائیں۔ڈونلڈ ٹرمپ بھی عالمی سطح پر تعلقات کو فروغ دینے کیلئے بڑی پھرتی دکھا رہے ہیں۔ حلف لینے سے عالمی مسئلوں پر گفت و شنید کا آغاز کردیا ہے۔افغانستان کے صدر اشرف غنی سے بھی رابطہ کرکے موجودہ حالات پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کو رسد ورسائل کے حصول میں دشواری پیدا ہورہی ہے۔ حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے افغانستان میں مقیم امریکی فوجیوں کو خوراک اور دیگر ضروریات کی رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکہ کو اس بات کا بھی احساس ہے کہ سابق سوویت یونین جس نے ہمیشہ گرم پانی تک رسائی حاصل کرنے کیلئے پاکستان یا چاہ بہار تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔لیکن امریکہ نے سابق سوویت یونین کو گرم پانی تک رسائی ملنے میں روڑے اٹکائے۔جبکہ حالات ایسے بدل گئے ہیںکہ اب خود پاکستان روس کو '' سی پیک '' منصوبے میں شامل کر کے گرم پانی تک رسائی دینے کیلئے تیار ہے۔یہ تبدیلی امریکہ کو ذرا بھی قبول نہیں ہوگی کہ جنوبی ایشیاء کے ممالک مل بیٹھ کر سمندری راستوں کو کنٹرول کریں۔حالیہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں گو کہ ہندوستان کے وزیر اعظم اور افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان کو بری طرح لتاڑا۔جبکہ روس نے سرتاج عزیز کی تقریر اور ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں موجودگی کو عین سفارتی آداب کے مطابق قرار دیا ہے۔ جب تک افغانستان میں امریکی فوج ہو گی امریکہ کبھی بھی پاکستان کے ساتھ معاندانہ روش اختیار نہیں کرسکتا ۔لیکن امریکہ مستقبل کی پیش بندی کی غرض سے جنوبی ایشیا میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے کسی نہ کسی جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات تو رکھے گا۔امریکہ میں صدارتی سطح پر تبدیلی اور ری پبلکن پارٹی کی آمد کے ساتھ حالات فوری تبدیل نہیں ہونگے ۔امریکہ کی نیشنل پالیسی تقریباً وہی رہے گی جو ڈیمو کریٹ حکومت کے دوران تھی۔پاکستان نے ہمیشہ امریکی فون کال کو خوش آمدید کہا ہے اور ویسے ہی کیا ہے جیسے امریکی حکومت نے چاہا ہے ۔پاکستان کی جی حضور ی اور خوشامدی کایہ سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب پاکستان کے ایک سابقہ وزیراعظم نے سابق سوویت یونین کے دورے کی دعوت قبول نہیں کی اور امریکی بانہوں میں بیٹھ گئے اور اس کے بعد مشہور سیٹو اور سینٹو کے معاہدے پر دستخط کئے اور امریکہ کو پاکستان نے اپنے ہوائی اڈے پیش کئے ۔اب توقع کی جارہی ہے کہ امریکہ کی نئی حکومت پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرے گی۔پہلے بھی تعلقات خوشگوار تھے اور اب بھی خوشگوار رہیںگے۔لیکن تب تک جب تک ہم امریکی مفادات کے مطابق اُس کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں گے اور اگر ہم نے انکار کیا تو عراق،لیبیا اور افغانستان کا حشر ہمارے سامنے ہے۔اس سے قبل بھی پاکستان میں امریکہ کی طرف سے ایک دھمکی آمیزٹیلی فون کال موصول ہوئی تھی۔ ایک ہی ٹیلی فون کال نے پاکستان کی خارجہ پالیسی تبدیل کی تھی۔جبکہ حالیہ ٹیلی فون کال کو خوشگوار ماحول میں لیا گیا ہے اور ہم خوش فہمی میں بغلیں بجا رہے ہیں۔ہمیں تھوڑا سا انتظار کرنا پڑے گا ۔جب امریکی حکومت اور اُس کے مشیر کرسی اقتدار پر براجمان ہو جائینگے اور اُس وقت وہ جو فیصلے کرینگے اگر وہ پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں تو یقینا ہمیں خوش ہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں