Daily Mashriq


سوئی نادرن کا کریک ڈاؤن ۔۔۔

سوئی نادرن کا کریک ڈاؤن ۔۔۔

''سوئی نادرن نے گیس کے غیر قانونی کنکشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے''یہ خبر اخبار میں چھپی تھی کہ جسے پڑھ کر ہماری ہنسی چھوٹ گئی ۔آپ پوچھیں کیوں ؟تو ہماراجواب یہ ہوگا کہ جناب ہنسی کا کیا ہے کسی بھی وقت چھوٹ سکتی ہے ۔مگر یہاں ہم نے چشم تصور میں ایک فلم سی دیکھ لی کہ خواب خرگوش جیسی گہری نیند سوئے بیچارے سوئی نادرن والوں کو اچانک فیس بک کی ایک تصویر نے جیسے جگا دیا ہو۔ اس تصویر میں کسی علاقے کے ڈپٹی ناظم کے گھر کے باہر ان کے نام کی تختی لگی ہوئی ہے اور اس کے نیچے گیس کا میٹر سے عاری کنکشن ہے جسے عارضی طور پر بحال کردیا گیا ہے ۔ لو جی لانجا تو پڑگیا ناں ۔دوڑیں لگ گئیں۔ناظم کو جرمانہ کردیا گیا اور ا ن کا کنکشن ویلڈ سے سیل کردیا گیا۔ اب حالات ایسے ہیں کہ فیس بک پر کوئی تصویر لگے گی تو کارروائی ہوگی ورنہ بیٹھے رہیں تصور ِ جاناں کیے ہوئے والی صورتحال بدستور قائم و دائم رہے گی ۔ناظم صاحب تو دیدہ دلیر تھے جو سرعام اور ڈنکے کی چوٹ پر کنکشن لے رہے تھے ورنہ دوسرے شہرو ں کا تو ہمیں نہیں پتہ لیکن پشاور کے بارے میں وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اس کی پائپ لائن موہنجو داڑو کے زمانے کی ہے جو گلیوں اور سڑکوں کی درجنوں تہیں چڑھ جانے کے بعد کہیں زمین بوس ہوچکی ہے ۔ یار لوگ ایک کنکشن دکھاوے کے لیے میٹر سے لے لیتے ہیں اور ''آثارقدیمہ ''کی کھدائی کرواکے زمین دوزدوسرا کنکشن لے لیتے ۔ اب یہ زمین دوز کنکشن لینا کوئی اتنا آسان کام بھی نہیں ،زمین دوز کیا گیس کا کوئی بھی کنکشن لینا عام پلمبر کا کام ہی نہیں بلکہ''خاص لوگ''ہی ہوتے ہیں کہ یہ کارہائے نمایاں کرجاتے ہیں ۔ہنسی ہمیں اس لیے آئی کہ اس غیرقانونی کنکشن کی تصویر اگرسوشل میڈیا پر وائرل نہ ہوتی توگیس والے کس پر اور کیوں کریک ڈاؤن کرتے ۔اس کریک ڈاؤن سے ایک فائدہ ہوگا کہ گیس والوں کو کرنے کا کچھ کام مل جائے گا اور وہ بھی فخر سے اپنی کارگزاری بیان کرسکیں گے ۔ہم سوچ رہے ہیں کہیں کسی زمین دوز کنکشن کی تصویر کہیں سے حاصل کرکے فیس بک پر چڑھاہی دیں تاکہ ان کنکشنوں کے خلاف بھی تھوڑ ا بہت کریک ڈاؤن ہوجائے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اب گیس والوں کو کیسے پتہ چلے گا کہ کنکشن غیرقانونی ہے یا نہیں ؟ کیونکہ پائپوں میں تو آج کل گیس آتی نہیں ۔ بعض علاقے تو گیس دشمنی کا شکار ہوچکے ہیں ۔ گزشتہ دنوں ہم نے گورنمنٹ کالج پشاور کے ہاسٹل کے طالب علموں کی فریاد لکھی تھی کہ جو گیس کے پریشر کے عنقا ہونے کی وجہ سے بہت پریشان تھے اور ان کی پریشانی پر مبنی ایک ای میل ہم نے کالم کا حصہ بنائی تھی لیکن ہنوز اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔وہ بچے اب بھی یخ بستہ پانی سے وضو کرتے ہیں اور ان کا کچن لکڑیوں کا مرہون منت ہوکر رہ گیا ہے ۔ بہرحال یہ تو ان کا نصیب ہے کہ جو سوئی نادرن والوں کی غفلت سے برا ہوکر رہ گیا ہے ۔ پشاور شہر کہ جس میں گیس کے کم پریشر کی شکایت سات آٹھ برسوں سے محسوس کی جاتی ہے اور اس کم پریشر کا شکا ر پہلے بعض علاقے تھے کہ جن میں ہر برس اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ گرمیوں میں تو گزارہ ہوجاتا ہے لیکن شدید سردیوں میں لگتا ہے کہ ہم نے کبھی گیس کا کنکشن لیا ہی نہ تھا۔خدا جانے پشاور شہر میں تیس برس پہلے ڈالی گئی تھیں یا اس سے بھی پہلے ۔ ان بوسیدہ پائپوں میں خدا جانے کتنا زنگ لگا ہوگا۔ان پائپوں میں بیچاری گیس کیسے مشکل سے سرک سرک کر گزرتی ہوگی ۔ ان بوسیدہ پائپوں میں وقت گزرنے کے ساتھ ایک خاص قسم کا تیل جم جاتا ہے سردیوں میں یہ تیل گاڑھا ہوجاتا ہے اور اس کے گاڑھے پن کی وجہ سے گیس کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے ۔سوال یہ ہے کیا گیس والے اس تمام صورتحال سے واقف نہیں ہوں گے َ؟واقف ہیں تو اس ضمن میں ان کے ارادے کیاہیں ؟ کیا مستقبل قریب میں ان کی خواہش ہے کہ ان بوسیدہ پائپوں کو تبدیل کیا جائے ؟ اور کیا کبھی مستقبل قریب یا مستقبل ''بعید'' تک کہ جب تک یہ بوسیدہ پائپ تبدیل نہیں ہوتے گیس والوں کے پاس اس مسئلے کا کیا حل ہے ؟ کیا اس مسئلے کو عارضی طور پر حل کرنے کے لیے لوپ لائنیں نہیں لگائی جاسکتیں ؟ سوال یہ بھی ہے کہ یہ سوچنا کس کا کام ہے ۔ عوام خاموش ہیں تو کیا حکام کچھ نہیں کریں گے ؟عوام نے تو کچھ نہیں کہنا کہ ہمارے عوام صابر اور شاکرہوچکے ہیں ۔دہائیوں سے جاری بجلی کی لوڈ شیڈنگ کو عوام نے دل جان سے قبول کررکھا ہے ۔ اب یہ گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی وہ قبول کرچکے ہیں تو کسی کو کیا پڑی ہے کہ یہ مسئلہ حل کرے ۔ کسی بھی افسر کے لیے اس کی نوکری اور اس کی تنخواہ اور اس کی مراعات ہی سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے اور وہ مسائل الحمدللہ عوام کے ٹیکسوں سے حل ہورہے ہیں ۔ بہرحال دسمبر تو گزر رہا ہے ،جنوری فروری بھی گزر ہی جائے گا ۔ سردی گرمی کا کیا ہے انسان کی برداشت اصل چیز ہے ۔ بجلی اور گیس والوں نے عوام کی قوت برداشت بڑھانے میں اپنا کردار خوب نبھایا ہے کہ جس کے لیے وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔وی آئی کلچر کی زد میں ہم گلہ بھی کس سے کریں ۔

متعلقہ خبریں