Daily Mashriq


لاکھو ں کروڑوں درود و سلام

لاکھو ں کروڑوں درود و سلام

رسالت مآبۖ پر لاکھوں کروڑوں درودوسلام ہوں۔جب قریش نے دیکھا کہ حضرت محمدۖ کو تبلیغ دین سے روکنے کی کوئی حکمت کارگر نہیں ہورہی تو ایک بار پھر انہوں نے غورو خوض کیا اور آپ کی دعوت کا قلع قمع کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے مشرکین مکہ نے نبی کریمۖ کو ناروا تہمتوں اور بیہودہ گالیوں کا نشانہ بنایا چنانچہ وہ کبھی آپ کو پاگل کہتے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے: ''ان کفار نے کہا کہ اے وہ شخص جس پر قرآن نازل ہوا تو یقینا پاگل ہے''(15:6) اور کبھی آپ پر جادوگر اور جھوٹا ہونے کا الزام لگاتے ۔چنانچہ ارشاد ہے: ''انہیں حیرت ہے کہ خود انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافر کہتے ہیں کہ یہ جادوگرہے جھوٹا ہے ''(38:4) اور جب آپ کسی جگہ تشریف فرما ہوتے اور آپ کے اردگرد کمزور اور مظلوم صحابہ کرام موجود ہوتے تو انہیں دیکھ کر مشرکین استہزاء کیا کرتے تھے۔ نضر بن حارث کا واقعہ ہے کہ اس نے ایک بارقریش سے کہا : ''قریش کے لوگو! خدا کی قسم تم پر ایسی افتاد آن پڑی ہے کہ تم لوگ اب تک اس کا کوئی توڑ نہیں لاسکے محمدۖ تم میں جوان تھے تو تمہارے سب سے پسندیدہ آدمی تھے سب سے زیادہ سچے اور سب سے بڑھ کر امانت دار تھے اب جبکہ ان کی کنپٹیوںپر سفیدی دکھائی پڑنے کو ہے(یعنی پختہ عمر ہوچکے ہیں) اور وہ تمہارے پاس کچھ باتیں لے کر آئے ہیں تو تم کہتے ہو کہ وہ جادوگر ہیں: نہیں بخدا وہ جادوگر نہیں ہیں ہم نے جادوگر دیکھے ہیں ان کی جھاڑ پھونک اور گرہ بندی بھی دیکھی ہے اور تم لوگ کہتے ہو وہ کاہن ہیں نہیں بخدا وہ کاہن بھی نہیں ہیں ہم نے کاہن بھی دیکھے ہیں ان کی الٹی سیدھی حرکتیں بھی دیکھی ہیںاور ان کی فقرہ بندیاں بھی سنی ہیں ۔ قریش کے لوگو! سو چو خدا کی قسم تم پر زبردست افتاد آن پڑی ہے '' اس کے بعد نضر بن حارث حیرہ گیا وہاں بادشاہوں کے واقعات اور رستم و اسفندیار کے قصے سیکھے پھر واپس آیا تو جب رسول اللہۖ کسی جگہ بیٹھ کر اللہ کی باتیں کرتے اور اس کی گرفت سے لوگوں کو ڈراتے تو آپ کے بعد یہ شخص وہاں پہنچ جاتا اور کہتا کہ بخدامحمدۖ کی باتیں مجھ سے بہتر نہیں ہیں اس کے بعد وہ فارس کے بادشاہوں اور رستم و اسفندیار کے قصے سناتا پھر کہتا: آخر کس بنا پر محمدۖ کی بات مجھ سے بہتر ہے۔ ابن عباس کی روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نضر بن حارث نے چند لونڈیاں خرید رکھی تھیں اور جب وہ کسی آدمی کے متعلق سنتا کہ وہ نبی کریمۖ کی طرف مائل ہے تو اس پر ایک لونڈی مسلط کردیتا ، جو اسے کھلاتی پلاتی اور گانے سناتی یہاں تک کہ اسلام کی طرف اس کا جھکائو باقی نہ رہتا اسی سلسلے میں یہ ارشاد الٰہی نازل ہوا: ''کچھ لوگ ایسے ہیں جو کھیل کی بات خریدتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بھٹکادیں '' (31:6) مشرکین مکہ کی محاذ آرائی کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ وہ آپ کے ساتھ سودے بازیاں کرنے کی کوشش کرتے تاکہ اسلام اور جاہلیت دونوں میںسے کوئی درمیانی راہ نکال کر ایک دوسرے سے جاملیں یعنی کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر اپنی بعض باتیں مشرکین چھوڑ دیں اور اپنی بعض باتیں نبی کریم ۖ چھوڑ دیں ۔چناچہ ابن جریر اور طبرانی کی ایک روایت ہے کہ مشرکین نے نبی کریمۖ کو یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال آپ ان کے معبودوں کی پوجا کیا کریں اور ایک سال وہ آپ کے رب کی عبادت کیا کریں گے انہوںنے کہا کہ اگر آپ ہمارے معبودوں کو قبول کرلیں تو ہم بھی آپ کے خدا کی عبادت کریں گے۔ابن اسحاق کا بیان ہے کہ رسول اللہ ۖ خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے کہ اسود بن مطلب بن اسد بن عبدالعزیٰ، ولید بن مغیرہ، امیہ بن خلف اور عاص بن وائل سہمی آپ کے سامنے آئے یہ سب اپنی قوم کے بڑے لوگ تھے بولے! اے محمد! آئو جسے تم پوجتے ہو اسے ہم بھی پوجیں اور جسے ہم پوجتے ہیں اسے تم بھی پوجو۔ اس طرح ہم اور تم اس کام میں مشترک ہوجائیں اب اگر تمہارا معبود ہمارے معبود سے بہتر ہے تو ہم اس سے اپنا حصہ حاصل کرچکے ہوں گے اور اگر ہمارا معبود تمہارے معبود سے بہتر ہوا تو تم اس سے اپنا حصہ حاصل کرچکے ہو گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے پور ی سورہ کافرون نازل فرمائی جس میں اعلان کیا گیا کہ جسے تم لوگ پوجتے ہواسے میں نہیں پوج سکتا اس فیصلہ کن جواب کے ذریعے ان کی مضحکہ خیز گفت و شنید کی جڑ کاٹ دی گئی ۔ابولہب کی بیوی ام جمیل جس کا نام ارویٰ تھا اور جو حرب بن امیہ کی بیٹی اور ابوسفیان کی بہن تھی وہ بھی نبی کریم ۖ کی عداوت میں اپنے شوہر سے پیچھے نہ تھی وہ آپ کے راستے میں اور دروازے پر رات کو کانٹے ڈال دیا کرتی تھی خاصی بد زبان اور مفسدہ پرداز بھی تھی چنانچہ رسول کریمۖ کے خلاف بدزبانی کرنا، لمبی چوڑی دسیسہ کاری و افتراء پردازی سے کام لینا، فتنے کی آگ بھڑکانا اور خوفناک جنگ بپا رکھنا اس کا شیوہ تھا اسی لیے قرآن نے اس کو حمالة الحطب (لکڑی ڈھونے والی) کا لقب دیا ہے۔ ان حالات و اقعات کی روشنی میں حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ اسلام کا کام پس پردہ کیا جائے۔ چنانچہ صحابہ کرام اپنا اسلام، اپنی عبادت، اپنی تبلیغ اور اپنے باہمی اجتماعات سب کچھ پس پردہ کرتے تھے۔ البتہ رسول کریمۖ تبلیغ کا کام بھی مشرکین کے روبرو کھلم کھلا انجام دیتے تھے اور عبادت کا کام بھی! کو ئی چیز بھی آپ کواپنے عظیم مقصد سے روک نہیں سکتی تھی !نبی کریمۖ پر لاکھوں کروڑوں درودوسلام ! (اس کالم کے لیے سارا مواد صفی الرحمٰن مبارکپوری کی تصنیف الرحیق المختوم سے لیاگیا ہے)۔ 

متعلقہ خبریں