Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

قلب الاعیان میں شیخ عیسیٰ سے روایت منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سہل التستری کا گزر ایک بد کار عورت کے پاس سے ہوا ۔ آپ نے اس سے فرمایا کہ میں تیرے پاس رات میں عشاء کے بعد آئو ں گا ۔عشاء کے بعد حسب وعدہ آپ اس کے گھر پہنچے اور دو رکعت نماز پڑھ کر رخصت ہونے لگے ۔ یہ دیکھ کر وہ عورت بولی آپ تو جار ہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میرے آنے کا جو مقصد تھا ، وہ پورا ہوگیا ۔ آپ کے جانے کے بعد اس عورت کی حالت متغیر ہوگئی ، اس نے اپنے پیشے سے کنارہ کشی کرلی اور شیخ کے ہاتھ پر توبہ کی ۔ شیخ موصوف نے اس کا نکاح اپنے کسی مرید فقیر سے کردیا ۔ اس کے بعد شیخ نے حکم دیا کہ ولیمہ کا کھانا تیار کر کے آپ کے سامنے رکھ دیا اور فقراء وخدام بھی آکر بیٹھ گئے ۔ لیکن شیخ کسی آنے والی چیز کا انتظار کرنے لگے ۔اس ولیمہ کی خبر کسی امیر کو ہوگئی ، جو اس عورت کا پرانا جاننے والا تھا تو اس امیر نے مذاقاً دو بوتلوں میں شراب بھر کر قاصد کے ہاتھ شیخ کی خدمت میں بھیج دی ۔ جب وہ قاصد شراب کی بوتلیں لے کر آیا تو شیخ نے فرمایا کہ آپ نے بہت دیر کر دی ، ہم کافی دیر سے اس کے منتظر تھے ۔ شیخ نے بوتل لے کر اس کو خوب ہلا یا اور جب اس کو پیالو ں میں نکالا تو نہایت عمدہ قسم کا شہد نکلا ۔ اس کے بعد آپ نے دوسری بوتل کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا تو اس میں خالص گھی برآمد ہو ا ۔ شیخ نے قاصد کو بھی کھانا کھانے کے لئے بٹھا لیا ۔ جب وہ کھانے بیٹھا اور شہد کھایا تو رنگ ، بو اور ذائقہ میں اس قدر عمدہ تھا کہ کبھی اس نے ایسا شہد نہیں کھایا تھا ۔ قاصد دعوت کھا کر واپس ہو ا اور اس نے امیر سے تمام ماجرا بیان کیا تو اس کو یقین نہیں آیا ۔ چنانچہ خود آیا اور کھانا کھا کر شیخ کی اس کرامت سے حیرت زدہ ہو گیا اور اپنی غلطی پر نا دم ہو کر شیخ تستری کے ہاتھ پر توبہ کی ۔

(حیات الحیوان )

حضرت ابراہیم بن ادہم جب سلطنت ترک کر کے چلے گئے تو ارکان دولت میں مشورہ ہو ا کہ کس طرح ان کو واپس لانا چاہئے ، وزیر گیا دیکھا کہ گدڑی اوڑھے ہوئے بیٹھے ہیں ، عرض کیا کہ حضورسلطنت درہم برہم ہو رہی ہے ، تشریف لے چلیں ، آپ نے فرمایا یہ سلطنت تمہیں مبارک ہو ، مجھے رب تعالیٰ نے ایک بہت بڑی سلطنت عطا فرمادی ہے ، اس کے بعد آپ نے اپنی سوئی گدڑی سے نکال کر دریا میں پھینک دی اور وزیر سے کہا کہ میری سوئی دریا میں سے نکلوادو ، وزیر نے بے شمار آدمیوں کو دریا میں داخل کر دیا ، لیکن سوئی کا کوئی پتہ نہ چلا ۔ آپ نے فرمایا کہ اچھا اب ہماری سلطنت دیکھو ، یہ کہہ کر مچھلیوں کو مخاطب کیا کہ اے مچھلیو! میری سوئی لائو ، سینکڑوں مچھلیاں اپنے اپنے منہ میں کوئی سونے کی کوئی چاندی کی سوئی لے کر حاضر ہوئیں ۔

آپ نے فرمایا میری وہی لوہے کی سوئی لائو ؟ ایک مچھلی وہی لوہے کی سوئی لے کر باہر نکلی ، آپ نے وزیر کے سامنے ڈال دی اور فرمایا کہ دیکھی میری سلطنت ، تمہیں سلطنت پر بڑا ناز ہوگا۔

متعلقہ خبریں