Daily Mashriq

سی پیک کے حوالے سے پریشان کن خبر

سی پیک کے حوالے سے پریشان کن خبر

چین کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کے تحت سڑکوں کے نیٹ کے بعض منصوبوں کی مالی امداد عارضی طور پر روک دینے کا اقدام قابل غور امر ہے جس سے سی پیک کے متذکرہ منصوبوں کا کھٹائی میں پڑ جانا فطری امر ہوگا۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ اس کا اثر کتنا وسیع ہوگا لیکن ابتدائی رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کم سے کم تین منصوبوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ان تینوں منصوبوں کے لیے فنڈز گزشتہ برس چھٹے جے سی سی اجلاس میں منظور کیے گئے تھے اور یہ امید کی جارہی تھی کہ ضروری رسمی طریقہ کار کے بعد تینوں منصوبوں کی فنڈنگ کو 20 نومبر کو جوائنٹ ورکنگ گروپ(جے ڈبلیو جی)کے اجلاس میں حتمی شکل دی جانی تھی۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نئے طریقہ کار کے اثرات سرکاری طور پر بیان کردہ تین سڑکوں سے کہیں زیادہ وسیع ہوسکتے ہیں۔گوکہ چین کے اس اقدام کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی ہے لیکن پاکستان میں سی پیک کے منصوبوں میں بد عنوانی کی باز گشت اس کی ایک ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے یا پھر ملک میں سیاسی عدم استحکام اور شدت پسند قسم کے عناصر کی عوامی قوت سے چین کو تشویش تھی۔ یہ اطلاعات پوری قوم کے لئے باعث تشویش معاملہ ہے جس کا فوری تدارک کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اس ضمن میں چینی حکام سے بات چیت میں تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے جبکہ ملک میں جاری غیر یقینی کی صورتحال پیدا کرنے والے جملہ عناصر کو چین کے اس اشارے کو سمجھتے ہوئے اپنی اپنی اصلاح پر متوجہ ہوجانا چاہئے ۔ ملکی اداروں میں ہم آہنگی اور تعلقات کار میں بہتری سے بھی چینی حکومت کو ایک مثبت پیغام دیاجاسکتا ہے۔ہمیں من حیث القوم اس امر کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ہی نہیں دوست ملکوں میں بھی اب ہماری وقعت میں کتنا فرق آیا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو خدانخواستہ کوئی بھی ملک وطن عزیز میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے سوبار سوچنے پر مجبور ہوگا۔ کیا ہم اب بھی اپنی اصلاح پرآمادہ ہوں گے؟ ۔

بے حسی کی انتہا

پشاور میں دہشت گرد حملے میں شہید ہونے والے طالب علم بلال احمد خان کے لواحقین سے اعلیٰ حکومتی و سیاسی شخصیات تو کجا ضلع کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے فاتحہ خوانی و تعزیت کے لئے نہ آنے کا رویہ یقینا افسوسناک اور شہداء کے ورثاء کی دل آزاری کا باعث امر ہے۔ شادی بیاہ میں ہیلی کاپٹر لے کر جانے والوں سے کسی غریب گھرانے کے چشم و چراغ کا غم نہ سہی رسماً ہی علاقے کا کوئی نمائندہ اور ضلعی انتظامیہ کا کوئی عہدیدار ہی زحمت کرلیتا ۔ بد قسمتی سے بے حسی ہمارے قومی کردار کا حصہ بنتی جارہی ہے۔ قبل ازیں فیض آباد دھرنے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کے مناسب علاج معالجے سے ارتکاب غفلت کی خبریں سامنے آچکی ہیں۔ حکومت پنجاب ہو یا خیبر پختونخوا کی حکومت محولہ واقعات ہر دو حکومتوں کی یکساں بے حسی کی گواہی دے رہی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے پشاور آمد کے موقع پر شہداء کے لواحقین کے لئے جس امداد کا اعلان کیا تھا اس میں کیا پیش رفت ہوئی ہے اور صوبائی حکومت اس ضمن میں کیا کر رہی ہے اس حوالے سے بھی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔ حکام تعزیت اور فاتحہ خوانی کی زحمت گوارا کرتے ہیں یا نہیں یہ ان کی اپنی مرضی جن جن غریب گھرانوں کے چشم و چراغوں کے تحفظ میں حکومت کو ناکامی ہوئی ہے یا جو لوگ زخمی ہوئے ہیں ان شہداء کے ورثاء اور زخمیوں کو مالی امداد اور علاج معالجے کی بہتر سہولت کی ذمہ داری میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔مالی امداد اگرچہ کسی جانی نقصان یا پھر انسانی صحت کی خرابی اور تکلیف کا متبادل نہیں لیکن بہرحال اس سے کچھ مسائل کے حل اور آسان ہونے کی راہ نکل سکتی ہے۔ بہتر ہوگا کہ بے حسی کا مظاہرہ کرنے والے اپنے عمل کی اصلاح کرلیں اور اس کے ازالے کی کوئی بہتر صورت نکالیں۔ اگر عذر خواہی ممکن نہیں تو اب بھی اگرکوئی حکومتی یا سیاسی نمائندہ غم زدہ خاندان کے پاس اظہار ہمدردی کے لئے جائے تو اس کے لئے ابھی بہت دیر نہیں ہوئی۔

خصوصی افراد کی مشکلات

عدالت عالیہ پشاور کا خصوصی بچوں کیلئے تعلیمی سہولیات نہ ہونے کیخلاف ایک مقدمے پر چیف سیکر ٹری کو نوٹس ایک قانونی اور عدالتی معاملہ ضرور ہے لیکن اس سے اس امر کا بھی اظہار ہوتا ہے خیبر پختونخوا میں تمام تر دعوئوں کے باوجود خصوصی بچوں کیلئے تعلیمی ادارے تربیتی مراکز اور ان کی بحالی کیلئے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں حالانکہ خصوصی افراد معاشرے اور حکومت دونوں کی خصوصی توجہ اوران کیلئے وسائل مختص کرنے کے سب سے زیادہ حق دار ہیں ۔ بد قسمتی سے خصوصی افراد کی نہ صرف تعلیم و تربیت کا کوئی معقول بندوبست نہیں ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ حکومت اور معاشرہ اس بے حسی پرنظر ثانی کی ضرورت محسوس کرینگے ۔

متعلقہ خبریں