Daily Mashriq

نظامِ انصاف ‘ انصاف کے کٹہرے میں

نظامِ انصاف ‘ انصاف کے کٹہرے میں

سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بارے میں جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے لیکن سانحہ کے ساڑھے تین سال بعد۔اس رپورٹ کے عام کیے جانے میں اتنی تاخیر سے ہی ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس میں اتنا عرصہ لگ جانے کی کیا وجہ ہے نہ صرف رپورٹ آنے میں غیر معمولی مدت صرف ہوئی ہے بلکہ اس سانحہ کی ایف آئی آر کے اندراج میں بھی حیران کن حد تک طویل عرصہ لگا۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری جن کے گھر پر پولیس کی کارروائی کے باعث کشت و خون ہوا کہتے ہیں کہ پولیس ان کی ایف آئی آر درج کرنے پر تیار نہیں تھی ۔ ایف آئی آر اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی مداخلت کے باعث درج ہو سکی۔جو پو لیس اہلکار رپورٹ کے اندراج کی راہ میں حائل ہوئے یہ ان کی اپنی مرضی نہیں ہو سکتی تھی بلکہ ہر کوئی یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ پولیس اہل کار کسی کے حکم پر فرائض سے پہلو تہی کر رہے تھے اور انہیں کسی کی پشت پناہی حاصل تھی۔ ورنہ ایف آئی درج کرنا ایک معمول کی کارروائی ہے۔ لیکن جسٹس باقر نجفی جنہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی عدالتی انکوائری کی ہے رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایک پولیس والے نے بھی یہ نہیں بتایا کہ پولیس کو فائرنگ کا حکم کس نے دیا۔ پولیس اہلکاروں کی یہ اجتماعی خاموشی بھی پتہ دیتی ہے کہ وہ کسی کے حکم کے پابند تھے اور ہیں۔ اسی طرح رپورٹ کے درج ہونے میں کون حائل تھا اس بارے میں بھی پولیس اہل کاروں کی خاموشی یہی ظاہر کرتی ہے کہ رپورٹ درج کرنے کے فرض میں کوتاہی کسی کے حکم پر ہوئی تھی اور ظاہر ہے کسی یقین دہانی کی بنا پر ہوئی تھی۔ جسٹس باقر نجفی کی جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ مہینوں پہلے تیار ہو چکی تھی لیکن یہ عام نہیں کی گئی حالانکہ اس رپورٹ کے مندرجات عدالتی کارروائی میں شہادت کے طور پر پیش نہیں ہو سکتے تھے۔ تو پھر اس کے عام نہ کیے جانے کی وجہ کیا تھی! گزشتہ ساڑھے تین سال کے واقعات بتاتے ہیں کہ اس کی اشاعت کی راہ میں پنجاب حکومت حائل رہی جس کی پولیس کو بے شمار ٹی وی ناظرین نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں عوامی تحریک کے طاہر القادری کے گھر پر ہوائی فائر نہیں ‘ زمین پر بھی فائر نہیں، بلکہ سیدھا فائر کرتے اور آنسو گیس کے شیل برساتے دیکھا۔ حکومت کس کا نام مخفی رکھنے کے لیے کارروائی کر رہی تھی‘ یہ سوال ذہنوں میں قائم رہتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت پنجاب کا بے قصور ہونا مشکوک ہے۔ یعنی شک حکومت پنجاب کی طرف جاتا ہے۔ حکومت پنجاب ظاہر ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ ‘ ان کی کابینہ اور بطور خاص وزیر داخلہ ‘سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پولیس ہی اس سانحہ کے حوالے سے شمار ہوں گے۔ نجفی کمیشن نے کسی کا بطور خاص نہیں نام لیا لیکن یہ بھی لکھا ہے کہ کمیشن کو معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے مکمل اختیارات ہی نہیں دیے گئے تھے۔ یعنی معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کی راہ میں بھی حکومت پنجاب حائل تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ حکومت رکاوٹیں ہٹانے کے حوالے سے عدالتی حکم سے آگاہ تھی اس کے باوجود کارروائی کی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے اس بیان کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ انہوں نے آپریشن روکنے کا حکم دیا تھا۔ آپریشن کئی گھنٹے تک جاری رہا ، ٹی وی پر اس کی کوریج ہوتی رہی۔ اگر وزیر اعلیٰ نے ٹی وی کے مناظر دیکھ کر آپریشن روکنے کا حکم دیا تھا تو فطری طور پر انہیں یہ بھی معلوم کرنا چاہیے تھا کہ ان کے حکم پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔ لیکن آپریشن کئی گھنٹے تک جاری رہا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے زیر صدارت اجلاس میں انہوں نے خود جو کہا کہ لانگ مارچ کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے اس کے باعث یہ آپریشن ہوا۔ یہ آپریشن سارے پاکستان نے کئی گھنٹے تک ہوتے دیکھا۔ نہ صرف یہ کہ حکومت پنجاب کے کسی اہل کار نے اس آپریشن کو رکوانے کو یقینی نہیں بنایا بلکہ وفاق میں بھی کسی نے اس آپریشن کے رکوانے کی کوشش نہیں کی جب کہ انٹیلی جنس ادارے ایسے اہم واقعات کی رپورٹ بروقت دیتے ہیں۔رانا ثناء اللہ جو اب پنجاب کے وزیر قانون ہیں انہوں نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں بہت سی غلطیاں ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ غلطیوں کی نوعیت کیا ہے۔ حقائق غلط بیان کیے گئے ہیں یا زبان و بیان کی غلطیاں ہیں۔ انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ رپورٹ میں کسی حکومتی شخصیت پر ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ۔ لیکن باقر نجفی کمیشن کا کام فردِ جرم عائد کرنا نہیں تھا۔ فردِ جرم عائد کرنا اس مقدمے کی سماعت پر مامور عدالت کا کام ہے۔ اس رپورٹ کے آنے میں جو تاخیر ہوئی ہے اور کون اس تاخیر کی وجہ بنا یہ بات قابلِ غور ہے۔ تاخیر کے بارے میں قانون دانوں میں یہ مشہور ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہوتی ہے۔ تاخیر اور جان بوجھ کر تاخیر اس معاملے میں صاف نظر آتی ہے۔ اس سارے معاملے کا اہم ترین پہلو پاکستان عوامی تحریک اور اس کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی استقامت اور عدل کی پاسداری ہے ۔ ان کے لوگوں کی استقامت ان کے 2014ء کے دھرنے سے بھی ظاہر ہے جو سردی اور بارش کے باوجود کھلے آسمان تلے جاری رہا۔باقر نجفی رپورٹ بھی ان کی اس کے عام کرنے کی مسلسل کوشش کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔ انہوں نے اس سانحہ کو یادداشت سے محو نہیںہونے دیا بلکہ بار بار انصاف کے دروازے پر دستک دی ہے۔ اس طرح عوامی تحریک اور طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ملک کے نـظام عدل کے لیے ایک چیلنج کے طور پر اجاگر کر دیا ہے۔ نجفی رپورٹ سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمے داری جس کی بھی اجاگر ہوتی ہے وہ اپنی جگہ تاہم انصاف کی اصل ذمے داری پاکستان کے نظام انصاف کی ہے جو اس سانحہ کے باعث خود انصاف کے کٹہرے میں نظر آتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں