Daily Mashriq

پاک افغان سرحد پر باڑھ کی تنصیب اور فاٹا

پاک افغان سرحد پر باڑھ کی تنصیب اور فاٹا

پاکستان اور افغانستان کی سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے پاکستان کے سیکورٹی ادارے پاک افغان سرحد پر باڑھ لگانے کا کام کررہے ہیں اور اس وقت تو باڑھ لگانے کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ پاکستان کی طرف سے باڑھ لگانے کا عمل مکمل ہونے سے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاسکے گی بلکہ سرحد کی دوسری جانب سے دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کو پاکستان میں داخل ہونے سے روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ سرحد پر باڑھ لگانے سے بہت سے سیکورٹی مسائل سے نجات ملے گی اور یہ باڑھ لگانا وقت کی اہم ضرورت تھی لیکن پاک افغان سرحد پر لگنے والی یہ باڑھ قبائلی علاقوں میں رہنے والے عوام کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنے گی۔ سرحد کے دونوں جانب آباد قبائل کو اس باڑھ کے لگنے سے سب سے زیادہ مشکلات پیش آئیں گی کیونکہ یہ لوگ آزادی سے سرحد کے آر پار نقل و حرکت کے عادی ہوچکے ہیں اور سرحد کے دونوں جانب ان کی رشتہ داریاں ہیں۔ زراعت اور لائیوسٹاک کی سرگرمیوںکے حوالے سے دیکھا جائے تو فاٹا میں مذکورہ سرگرمیاں محدود پیمانے پر کی جاتی ہیں لیکن ان سرگرمیوں کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے افغانستان سے ہونے والی تجارت سے ضرور ہے۔کسی متبادل نظام کے بغیر افغانستان کی سرحد کی مکمل ناکہ بندی کئی دہائیوں سے جنگ زدہ علاقے میں رہنے والے غریب عوام کو مزیدغربت کی دلدل میں دھکیلے گی۔ ڈیورنڈ لائن کی سیاست سے ہٹ کر اگر ہم اپنے ملک کے اندرونی حالات پر نظر دوڑائیں تو ہم باآسانی یہ کہہ سکتے ہیں کہ فاٹا ہمارے ملک کا غریب ترین علاقہ ہے۔ فاٹا کے عوام کے پاس اپنی شکایات کو رجسٹر کروانے کا حق بھی موجود نہیں ہے اور یہ ہمارے ملک کا وہ محروم ترین طبقہ ہے جسے ریاست اور اس کے اداروں نے فراموش کرکے اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ آئین ِ پاکستان کی جانب سے صدرِ پاکستان اور گورنر خیبر پختونخوا کو اس علاقے کا سرپرست بنایا گیا ہے لیکن یہ دونوں شخصیات بھی فاٹا کے عوام کے مسائل سے بے خبر نظر آتی ہیں جس کی وجہ سے فاٹا کے عوام کو درپیش مسائل کی سنگینی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں سرحد پر باڑھ لگانا فاٹا کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے کیونکہ سرحد پر باڑھ لگنے سے افغانستان کے ساتھ تجارت اگر ختم نہیں ہوگی تو انتہائی کم ضرور ہوجائے گی۔ایک مشہور کہاوت ہے کہ ’’وہ چوری کرنے کو بھیک مانگنے پر ترجیح دیتے ہیں ‘‘جس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کے پسماندہ طبقات باآسانی برائیوں کا آلہ کار بننے کو تیار ہوجاتے ہیں ۔فاٹا ہمارے ملک کا وہ علاقہ ہے جس کی حیثیت کے بارے میں ہم 1973ء تک لاعلم تھے اور 1973ء کے آئین نے تمام شکوک وشبہات کو ختم کرتے ہوئے فاٹا کو پاکستان کا حصہ قرار دیا تھا۔ رواج ایکٹ سمیت بہت سے قوانین ایسے تھے جن کا فاٹا میں اطلاق نہیں کیا جاتا تھا اور ملک کے دیگر علاقوں سے فاٹا یا فاٹا سے ملک کے دیگر علاقوں میں کوئی چیز لانے یا بھیجنے کے لئے پولیٹیکل ایجنٹ سے اجازت نامہ لینا پڑتا تھا۔ 1980ء میں فاٹا میں رواج ایکٹ کا نفاذ کیا گیا جس میں مقامی قبائل کی مرضی نہیں پوچھی گئی تھی اور اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد بھی اجازت ناموں کے اس نظام کا خاتمہ نہیں کیا گیا بلکہ ان کی قیمتوں میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا رہا جس کی وجہ سے یہ اجازت نامے فاٹا کی انتظامیہ کے لئے ریونیو کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ بن گئے۔ ملک کے دیگر تما م صوبوں میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت تمام اضلاع میں ضلع ٹیکس لگایا جاتا تھااور ہر شے کے ریٹ ایک مناسب جگہ پر آویزاں کئے جاتے تھے۔1990 کی دہائی میں حکومت نے ضلع ٹیکس کے نظام کی جگہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) لاگو کر دیا لیکن فاٹا کی ایجنسیوں میں آج بھی جی ایس ٹی کے ساتھ ساتھ ضلع ٹیکس بھی وصول کیا جاتا ہے۔جی ایس ٹی کو ضلع ٹیکس کے متبادل کے طور پر نافذ کیا گیا تھا لیکن فاٹا کے پہلے سے پسے ہوئے عوام آج بھی ایجنسی ٹیکس کی مد میں دونوں ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ان ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم کا کوئی آڈٹ نہیں کیا جاتا اور اسے نامعلوم انتظامی امور پر خرچ کیا جاتا ہے۔جہاں دنیا بھر میں کھانے پینے کی اشیاء پر سبسڈی دی جاتی ہے وہیں فاٹا کی انتظامیہ کے لئے کھانے پینے کی اشیاء پر لگنے والا ٹیکس ہی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔سرحد پر باڑھ لگانا سیکورٹی بہتر بنانے کے لئے بہت ضروری ہے لیکن کسی مناسب متبادل نظام کی غیر موجودگی میں باڑھ لگانے کا مطلب فاٹا کو مہاجرین کیمپ میں تبدیل کرنا ہے۔ اس باڑھ کی تنصیب سے پہلے حکومت کو فاٹا کے عوام کے معاشی انحصار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پورے فاٹا کے لئے عموماً اور سرحد کی دونوں جانب آباد قبائل کے خصوصاً متبادل انتظامات کرنے چاہیے تھے۔ حکومت کو اس علاقے میں میگا پراجیکٹس کے ذریعے معاشی سرگرمیاں بحال کرنی چاہئیںاور ترقی کی راہ میں حائل فرنٹیئر کرائمز ریگو لیشن ایکٹ میں ترمیم کرنی چاہیے ۔اس کے علاوہ صدرِ پاکستان کو صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے مقامی انتظامیہ کی جانب سے و صو ل کئے جانے والے تمام غیر قانونی محصولات کو ختم کرنے کا حکم جاری کرنا چاہیے۔(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں