اعتراض احتجاج پر نہیں لیکن ۔۔۔

اعتراض احتجاج پر نہیں لیکن ۔۔۔

ہمارے ملک میں سیاست اور احتجاج کے انداز بدلتے رہتے ہیں ایک رواج دھرنوں کا بھی دھر آیا ہے۔اعتراض احتجاج پر نہیں،اپنے حق کے لیے احتجاج ہو نا چاہیے اور حکومت کے غلط کاموں پر بھی لیکن اس احتجاج سے صرف انہی لوگوں کو متاثر ہونا چاہیے جو اس کے ذمہ دار ہوں عوام کو پہلے ہی بہت سارے مسائل کا سامنا ہے لہٰذا انہیں مزید تکلیف میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

حکومت نے الیکشن ریفارمز بِل پاس کیا جس کا بنیادی مقصد نااہل وزیراعظم کو دوبارہ پارٹی صدر منتخب کروانا تھا اور ایک نا اہل شخص کو اہل بنانے کے لیے جو بِل پاس کیا گیا اُس میں جو ترامیم کی گئیں باقی تو جو بھی تھا اُس کو شاید زور زبردستی عوام سے منوا بھی لیا جاتا جیسا کہ ہماری حکومتوں اور سیاست کا چلن ہے کہ اختیار چند ہاتھوں میں ہے۔بیس کروڑ آبادی اور ساڑھے آٹھ کروڑ سے زائدرجسٹرڈ ووٹروں کے ملک میں ڈیڑھ کروڑ سے بھی کم ووٹ لینے والے پورے ملک کے حکمران نہیں مالک بن بیٹھتے ہیں۔ لیکن اس بار اس ترمیم میں ایک نکتہ ایسا بھی تھا جس پرزبان بندی گناہ نہیں کفر تھا جب حلف نامے میں سے ختمِ نبوت کی شق ختم کی گئی تو ظاہر ہے پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔اس شق کے الفاظ کوکچھ اس طریقے سے تبدیل کیا گیا کہ گویا ختمِ نبوت کوئی بڑا معاملہ ہی نہ ہو اور ایسا کر کے ملک کے اندراور باہر اُن لوگوں کو خوش کیا گیا جو اسلام کے دشمن تھے شاید اندر سے ووٹ کی ضرورت تھی اور باہر سے خوشنودی کی ۔بہر حال عوام کی طرف سے شور اُٹھنے پر اسے کلریکل غلطی قرار دے کر حلف واپس اپنی اصلی شکل میں بحال کیا گیا لیکن ذمہ داروں کا تعین نہیںکیا گیا نہ ہی انہیں سزا دی گئی یہ بھی ہماری حکومتوں کا ایک عام چلن ہے۔یہاں بھی ذمہ دار پتلی گردن والا کلرک ٹھہرا حالانکہ شق میں املا کی غلطی نہ تھی بلکہ الفاظ ہی تبدیل کیے گئے تھے۔عوام کا مطالبہ وزیر قانون کی بر طرفی تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیااصولاََ تو وزیرقانون زاہد حامدکو بر طرفی کے نوٹس کا انتظار کیے بغیر غلطی کا اعتراف،ندامت کا اظہار اور اپنے گناہ کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہیے تھا لیکن کرسی کی لذت کے آگے دین کی بقاء اور اللہ تعالیٰ کی رضا ماند پڑے اور وہ اپنی کرسی پر براجمان رہے۔عوام نے جب حکومت کا رویہ دیکھا تو وہ احتجاج پر آمادہ ہوئے اور دھرنے کے لیے ایک ایسی جگہ منتخب کی جس کو خالی کرانا حکومت کے لیے ضروری اور مجبوری تھا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع فیض آباد چوک کی بندش سے ان دونوں شہروں کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ایک وزارت پر لوگ قربان ہوتے رہے۔میں یہ نہیں کہتی کہ مظاہرہ ہو اور مظاہرین کے مطالبات پر حکومتوں میں ردوبدل ہوتا رہے بلکہ میرا کہنا یہ ہے کہ اگر غلطی اس درجہ بڑی ہو جتنا کہ حالیہ معاملے میں ہوئی توتب ایک وزیرکااپنی کرسی چھوڑ کر چلے جانا ایک بہت معمولی بات ہے۔پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے لیکن اگر ایسا نہ بھی ہو تو کیا ہم اپنی دین کی بنیاد پر سمجھوتہ کر لیں کیا نبی پاک ﷺ جن کی ختمِ نبوت پر ایمان لانا ہی عین اسلام ہے کو اپنے آئین اور حلف سے ختم کر دیں اور پھر بھی مسلمان کہلائیں۔موجودہ معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے حکومت کو انتہائی سمجھداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھاجو نہیں کیا گیااور جب حالات قابو سے باہر ہوئے تو ایک اور غیر ذمہ دارانہ فیصلہ کیا گیااورحالات کو سنبھالنے کے لیے وزارت داخلہ نے فوج کو بلانے کا نو ٹیفیکیشن جاری کیا۔ ایسے میں فوج نے بہترین فہم کا مظاہرہ کیا اور طرفین میں صلح کا معاہدہ کرواکر حالات کو سنبھالا اگر فوج اس موقع پر وہ کر لیتی جوحکومت چاہ رہی تھی تو جو کچھ ہوتا وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہوتا جو ہوا۔ دھرنا قائدین کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے اور معاملات قابو کیے گئے جس سے عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا۔ مطالبات کا مان لینا ایک الگ معاملہ ہے کہ حکومت کی کمزوری ہے یا معاملہ فہمی لیکن اس معاملے میں فوج نے جس ذ ہنی پختگی کا مظاہرہ کیا اس کا اعتراف سب نے کیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ سیاست دانوں سے جب سیاسی معاملہ فہمی نہ ہو تو فوج کو انہیں سکھانا پڑتاہے۔ویسے بھی نواز شریف سمیت ہمارے سیاست دانوں کی اکثریت پاک فوج کے جرنیلوں کی درسگاہوں سے فارغ التحصیل ہیں ۔ہمارے فاضل جج نے اپنی گمشدگی کا خوف تو ظاہر کر دیا مجھے بھی ڈر ہے کہ توہین عدالت کی دفعہ کے نیچے نہ لائی جائوں لیکن پھر بھی ایک جسارت کرونگی اور یہ مشورہ دونگی کہ جہاں معاملات کسی کی ثالثی سے پُر امن طور پر حل ہو سکتے ہوں تو ضرور کیجیے کیونکہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنا کچھ کھو رہے ہیں کہ آپس میں دو معلوم فریقین کے بیچ مخالفت میں کھونے کو ہمارے پاس نہ کچھ ہے اور نہ ہی اس کی ہم میں ہمت ہے لہٰذا معاملات کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ہر ممکن کو شش کرنی چاہیے۔یہاں خادم حسین رضوی اور دوسرے تمام ایسے لوگوں سے بھی گزارش ہے کہ پاکیزہ دینی معاملات اور قومی مسائل کو حل کروانے کے لیے مہذب طریقے سے کوشش کیجیے زبان کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے ۔ہماری سیاست میں بد زبانی اور گالم گلوچ جس طرح داخل ہو رہی ہے اس کی روک تھام ضروری ہے۔قوم اور کسی کی ذاتی املاک کو نقصان پہنچانے کا بھی کسی کو حق نہیںاور فتوے لگانے سے بھی احتراز ضروری ہے و ہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کے لیے مقرر نہیں کہ لوگوں کے ایمان کو چیک کریں ان سے تصدیق چاہیں ۔ خدارا اسلام کومذاق مت بنایئے ،امن،محبت،صلح اور سلامتی کے اس عظیم مذہب کو کُل عالم کے لیے سلامتی بنایئے۔

متعلقہ خبریں