خدمت کا جذبہ

خدمت کا جذبہ

ہم ہنگامی دور میں رہ رہے ہیں آبادی کی کثرت، موٹرسائیکلوں، آٹورکشہ ، گاڑیوں اور ہیوی گاڑیوں کی بہتات ، ٹریفک حادثات ، سڑکوں پر انسانی زندگیوں کا ضائع ہونا معمول کی بات ہو کر رہ گئی ہے ۔ وطن عزیز میں امن و امان کی صورتحال بھی پریشان کن ہے ۔ ہر روز دل دکھا دینے والی خبروں سے واسطہ پڑتا ہے ۔ ٹارگٹ کلنگ ، خود کش دھماکوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ! موت گھات لگائے حضرت انسان کو نشانے پر لیے ہوئے ہے انسان جسے کمزور کہا گیا ہے زندگی بچانے کے لیے مسلسل بھاگ رہا ہے۔ کسی بھی سڑک پر سفر کرتے ہوئے ایمبولنس کے سائرن کی آواز کانوں میں ضرور پڑتی ہے پیچھے مڑ کر دیکھئے تو کسی ہسپتال کی ایمبولنس مریض کو ہسپتال کی طرف تیزی سے بھگا رہی ہوتی ہے کیونکہ انسانی جان قیمتی ہے ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے اس وقت سڑک پر موجود ہر گاڑی کا فرض بنتا ہے کہ ایمبولنس کو راستہ دے ۔ اسی طرح ریسکیو1122 کی گاڑیاں سائرن بجاتی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتی ہیں انہوں نے بھی انسانی زندگیوں کو بچانا ہوتا ہے کسی جگہ آگ لگ جائے، کوئی عمارت گر پڑے ، کسی جگہ بم دھماکہ ہوجائے ، کسی گھر میں مریض جاں بلب ہو،یا کسی بھی قسم کی کوئی ناگہانی آفت ہو، ریسکیو 1122کی سروس ہم سب کے لیے ہمہ وقت تیار ہے ۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں بغیر کسی کوڈ کے اپنے فون یا سیل فون سے مفت کال کرکے اس سروس کی خدمت حاصل کی جاسکتی ہے اگر آپ کے موبائل فون میں بیلنس بھی نہ ہوتو کال کی جاسکتی ہے۔ پشاور کی آبادی انیس لاکھ افراد سے تجاوز کر چکی ہے اس بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ گوناگوں مسائل بھی بڑھ رہے ہیں یقینا ریسکیو 1122کی سروس اپنی استطاعت سے بڑھ کر اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہے لیکن پھر بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیکل ایمرجنسی ٹریننگ، فائر ایمرجنسی ٹریننگ کا سلسلہ عوام تک پہنچایا جائے تاکہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے نوجوان بوقت ضرورت کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرسکیں۔اس حوالے سے ریسکیو 1122نے عوام آگاہی مہم شروع کر رکھی ہے جس میں طلبہ و طالبات کو تربیت دینے کا سلسلہ بڑے تواتر سے جاری ہے ۔ ہمیں دو روز پہلے گورنمنٹ کالج پشاور کے پرشکوہ ہال میں اس کا عملی مظاہرہ دیکھنے کا موقع ملا جس سے ہم بہت متاثر ہوئے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ تربیت طلبہ و طالبات اور عام لوگوں کے لیے کتنی ضروری ہے اس کی مدد سے کتنی انسانی جانوں کو بروقت طبی امداد دے کر بچایا جاسکتا ہے ۔اگر تھوڑا سا تعارف ریسکیو 1122کا ہوجائے تو شاید نامناسب نہیں ہوگا۔ یہ پاکستان کی پہلی تربیت یافتہ ایمرجنسی سروس ہے جس میں ریسکیو کے عملے کو زندگی بچانے ، مختلف حادثات میں عوام کو مصیبت سے نکالنے ،اور آگ بجھانے کے بین الاقوامی معیار پر عملی تربیت دی گئی ہے ۔عوام کی سہولت کے لیے ریسکیو1122کے منفرد اور جامع ایمرجنسیمنجمنٹ کے نظام کو قائم کیا گیا ہے۔ جس میں مختلف قسم کی ایمرجنسیز جن میں حادثات، آگ لگ جانا،عمارت کا منہدم ہوجانا اور دیگر ناگہانی آفات سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایمرجنسی ایمبولنس،فائر فائٹنگ، واٹر ریسکیو اور ڈیزاسٹرریسکیو ایمرجنسی ٹیموں کو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ نظام نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی ایک مثال ہے۔ ریسکیو 1122نے اپنی خدمات سے عوام کو آگاہ کرنے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا ہوا ہے ۔ گورنمنٹ کالج پشاور میں طلبہ کو ریسکیو کی شاندار تربیت دی اور طلبہ کو عملی طور پر سکھایا کہ آگ لگنے کی صورت میں متاثرہ شخص کو کیسے بچایا جاتا ہے اگر آپ آگ سے متاثرہ عمارت میں پھنس گئے ہیں اور دھویں کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہوگیا ہے تو آپ نے کس طرح اپنے آپ کو وہاں سے نکالنا اور بچانا ہے۔چوٹ سے متاثرہ شخص کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ اس کے قریب نہ جائیں کیونکہ اگر مریض کو صحیح طریقے سے نہ اٹھایا جائے تو ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کی وجہ سے مریض کے ساری عمر کے لیے مفلوج ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔اگر کوئی ادارہ اس ٹریننگ ونگ کو بلانا چاہے تو اس کا طریقہ کار انتہائی سادہ ہے۔ صرف ایک دفتری مراسلہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرریسکیو 1122پشاور کے نام ارسال کرنا ہے جس میں آپ نے تربیت لینے والے شرکاء کی تعداد لکھنی ہوتی ہے تعلیمی نوعیت اور دوسری معلومات مہیا کرنی ہوتی ہیں۔آپ کی دی ہوئی معلومات کی روشنی میں ان کا دفتری نمائندہ آپ سے خود رجوع کرکے تربیت کا دن اور وقت وغیرہ مقرر کرتا ہے ۔ اس تربیت کی کوئی فیس نہیں لی جاتی اب تک بہت سے تعلیمی اداروں میں یہ تربیت دی جا چکی ہے ۔ایڈریس: ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122نزد ڈائیوو بس ٹرمینل حاجی کیمپ پشاور۔ان کا رابطہ نمبر: 091-9225306۔

متعلقہ خبریں