عمران خان بمقابلہ ہم عصر سیاستدان

عمران خان بمقابلہ ہم عصر سیاستدان

اپنے ہم عصر سیاستدانوں سے جو بات عمران خان کو ممتاز کرتی ہے وہ ان کا پرو پاکستان طرزِ عمل اور آزاد سوچ ہے۔ وہ کوئی مؤقف اپناتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ یہود و ہنود ان کے بارے میں کیا سوچیں گے اور مغربی ممالک کے دارالحکومتوں میں ان کے بارے میں کیا رائے قائم ہو گی۔ بروز بدھ اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے برملا اعتراف کیا کہ فیض آباد دھرنے میں شامل ہونے کے لیے ان پر کارکنان کا دباؤ تھا ۔ انہوں نے لگی لپٹی کے بغیر کہا کہ دھرنے کے پرامن اختتام پر انہوں نے شکرانے کے نفل ادا کیے۔ عمران خان بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن پر علامہ رضوی صاحب کی جانب سے سخت تنقید ہوئی مگر عمران خان نے ان کے کاز کی حمایت کی اور تحریک لبیک کے اس مؤقف کے ساتھ کھڑے ہوئے کہ ختم نبوتؐ حلف نامے میں تبدیلی کے ذمہ داران کا تعین ہونا چاہیے اور انہیں سزا ملنی چاہیے۔ عمران خان کی اس آزاد منش سوچ کی وجہ سے تحریک انصاف ہمیشہ پرو پاکستان سٹینڈ لیتی آئی ہے۔ اس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے پیش نظر ہمیشہ یہ رہا کہ ان کے موقف اور پارٹی پالیسی کو مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کس طرح دیکھیں گے۔ اس طرز عمل نے پاکستان کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ قومی قیادت جب اپنے اقتدار کے لالچ میں قومی مفادات پر کمپرومائز کرنے لگے تو اس ملک کا خدا ہی حافظ ہوتا ہے۔ 90ء کی دہائی سے لے کر آج تک مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے مدِمقابل سیاسی داؤ پیچ آزماتی رہیں ‘ بے نظیر بھٹو مرحوم کی سیاست اگرچہ بڑے دھڑلے سے شروع ہوئی مگر یہ واضح ہے کہ انہوں نے اقتدار تک رسائی کے لیے ہمیشہ بیرونی حمایت حاصل کی۔ جنرل مشرف کے ساتھ بھی ان کی ڈیل میں امریکہ بروکر تھا۔ جنرل کی وردی اُتارنے اور شراکت اقتدار کی جزئیات سمیت اکثر معاملات امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزارائس کی زیر نگرانی طے پاتے رہے۔ نواز شریف کو پرو پاکستان اس لیے کہا جاتا رہا کیونکہ انہوں نے اقتدار میں آنے کے لیے کبھی بیرونی طاقتوں پر انحصار نہ کیا لیکن اب ان کی یہ خصوصیت رخصت ہو چکی ہے۔ اب وہ اقتدار میں آنے کے لیے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے رچرڈ باؤچر سے ’’باجماعت‘‘ امریکی سفارتخانے میں ملاقات کرتے ہیں اور 180درجے کا یوٹرن لے کر دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کو ’’اپنی جنگ‘‘ قرار دیتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی تمام پالیسیوں کو پھر اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے تاکہ بیرونی طاقتیں خاص کر مغربی ممالک کی خوشنودی حاصل ہو۔ زندگی بھر اسٹیبلشمنٹ کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر گھومنے والے اورضیاء الحق مرحوم کی قبر پر کھڑے ہو کر یہ کہنے والے کہ ’’اصلی شہید‘‘ یہ ہے جب کہ لاڑکانہ میں دفن ہونے والا تو ’’نقلی شہید‘‘ ہے۔ نواز شریف آج بقول ان کے نظریاتی ہو چکے ہیں۔اس نظریاتی ہونے کا مطلب کچھ اور نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ مخالف ہیں۔ کیا اس سوچ کو ’’نظریے‘‘ کا نام دیا جا سکتا ہے۔ بے نظیر بھٹو اقتدار میں آنے کے لیے بیرونی طاقتوںکو چکمہ ضرور دیا کرتی تھیں مگر انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد کوئی ایسا کام نہ کیا جس سے پاکستان کی ایٹمی طاقت کو نقصان پہنچا ہو یا پھر فوج کو بحیثیت ادارہ کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔ بے نظیر بھٹو کے کریڈٹ پر تو پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہے ۔ نواز شریف مگر تہیہ کر بیٹھے ہیں کہ وہ فوج کو لتاڑتے رہیں اور بحیثیت ادارہ اس کو کمزور کرکے دم لیں۔ جس فوج نے نواز شریف کو 2013ء کے الیکشن میں لیول پلیئنگ فیلڈ دی بلکہ بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق انتخابات میں بڑی حد تک سپورٹ بھی کی ‘ اُس کے بارے میں بغض رکھنا اور یہ کوشش کرتے رہنا کہ اس کو دبانے اور بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے پائے کس قدر افسوسناک روش ہے۔ نواز شریف کیمپ سے آج نہ صرف پاکستان کی مسلح افواج کے بارے میں مخاصمانہ سوچ سامنے آ رہی ہے بلکہ وہ بیرونی طاقتوں کی خوشنودی کے لیے ایسے اقدام اُٹھانے سے بھی گریز نہیں کر رہے جن کی وجہ سے اُن کا ووٹ بنک بری طرح متاثر ہو سکتا ہے اور ان کے امیج کو سخت نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ممتاز قادری کی پھانسی میں جلد بازی اور ختم نبوتؐ کے قوانین میں ہیر پھیر کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ نواز شریف ان قوتوں کو خوش رکھنا چاہتے ہیں جو انہیں اقتدار میں لے کر آئیں اور اب جن کے ذر یعے وہ دوبارہ اقتدار کا حصول چاہتے ہیں۔ عمران خان کا معا ملہ نواز شریف اور آصف زداری سے یکسر مختلف ہے ۔ اب تک ان کے حوالے سے کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی ہے جس کو بنیاد بنا کر یہ کہا جا سکے کہ وہ ایسا مغربی ممالک یا کسی اور خوشنودی کیلئے کر رہے ہیں ۔ عمران خان پاکستان کے اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی تقویت کا باعث بن رہے ہیں ۔ عمران خان کی عوامی پذیرائی ان کی پرو پاکستان سوچ اور اپنے نیشنل ایجنڈے کی وجہ سے ہے۔ عمران خان کے سیاسی حریف ایک بات سمجھنے سے قاصر ہیں اور وہ یہ کہ ان کی بل کھاتی سیاست کے مقابلے میں عمران خان کی صاف اور سیدھی سیاست عوام کے لیے کشش کا باعث بن رہی ہے۔ جس دن عمران خان نے بھی کوئی پالیسی بیان دینے سے قبل یہ سوچنا شروع کر دیا کہ بیرونی طاقتیں اس کو کس طرح دیکھیں گی تو اس دن عمران خان کی سیاست زوال پذیر ہونا شروع ہوجائے گی۔ 

متعلقہ خبریں