Daily Mashriq


آئینہ کیوں نہ دوں

آئینہ کیوں نہ دوں

جرمن سفیر مارٹن کوبلر کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے حلقہ نوشہرہ میں ناقص معیار کی سڑک کی تعمیر پر سوال اٹھانا تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جرمن سفیر مارٹن کوبلر نے ازاخیل میں مقامی آبادی اور جرمن حکومت کے تعاون سے تیار کردہ سڑک کی تصویر ٹویٹ کی ہے۔جرمن سفیر نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ مقامی افراد نے ضلع نوشہرہ کے گاؤں ازاخیل بالا میں ایک کلومیٹر طویل سڑک 12 انچ کی تہہ کے ساتھ صرف 40 لاکھ روپے میں بنائی جس کے لیے مالی معاونت جرمنی کی جانب سے فراہم کی گئی۔ لیکن خیبر پختونخوا حکومت نے ایک کلومیٹر سڑک صرف 6 انچ کی تہہ کے ساتھ ایک کروڑ روپے میں بنائی۔اس کا مطلب ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 60 لاکھ روپے مہنگی سڑک بنائی اور اس کا معیار بھی مقامی آبادی کی تعمیر کردہ سڑک سے کم ہے۔ مارٹن کوبلر نے سوال کیا ہے کہ کوئی مجھے بتا سکتا ہے ایسا کیوں ہے؟۔ جرمن سفیر کی ٹویٹ پر صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر نے کہا ہے کہ وہ جرمن سفیر کی بات کی تردید نہیں کرتے تاہم ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹی اور حکومتی سطح کے منصوبے میں فرق ہوتا ہے حکومتی سطح پر ٹیکس ‘ ٹائم کاسٹ اور ٹینڈر کے مسائل ہوتے ہیں۔جرمنی پاکستان اور خصوصاً خیبر پختونخوا کے مختلف منصوبوں کو وسائل فراہم کرنے والا اہم ملک ہے۔ جرمنی کے سفیر نے جرمنی کی امداد پر بننے والی سڑک کی لاگت اور معیار کا حکومتی فنڈز سے بننے والی سڑک کی لاگت اور معیار کا تقابل کرکے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ سرکاری طور پر بننے والی سڑک ساٹھ لاکھ روپے مہنگی بنائی گئی۔ اس ضمن میں صوبائی حکومت کے ترجمان کی تاویل عذر لنگ ہی قرار پاتی ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان حکومتی سطح پر ٹیکس‘ ٹائم کاسٹ اور ٹینڈر کے معاملات کا اگر اعداد و شمار کے ساتھ جواب دیتے تو عقدہ کھلتا۔ یہ امر مضحکہ خیزہے کہ صوبائی ترجمان کے بیان کی روشنی میں یہ لوازمات اس منصوبے کی اصل لاگت سے دو گنا سے بھی زیادہ ہیں جسے اگر یوں سمجھا جائے کہ تقابل شدہ سڑک کی تعمیری لاگت جرمنی کی امداد سے کمیونٹی کی سطح پر بننے والی سڑک کی ہی جتنی تھی بقیہ ساٹھ لاکھ روپے کمیشن کے طور پر حکمرانوں اور بیورو کریسی اور ٹھیکیدار کی جیب میں چلے گئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے باوجود بھی سرکاری فنڈز سے بننے والی سڑک کی لاگت بارہ انچ کی بجائے چھ انچ ہونے کی بناء پر لاگت آدھی ہونی چاہئے تھی۔ بہر حال اس ایک تقابلی جائزے کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو جس صوبے میں اچھی حکمرانی کی مثالیں دی جاتی تھیں اس صوبے میں اور خاص طور پر حکمران وقت کے اپنے حلقے میں تعمیراتی و ترقیاتی کاموں کے معیار اور لاگت کا کیا عالم تھا۔ جرمن سفیر نے ہماری حکومت اور ہمارے سرکاری اداروں کو جو آئینہ دکھایا ہے اس میں مختلف ادوار میں گزر نے والے حکمرانوں بیوروکریسی اور اس نظام کا چہرہ صاف طور پر نظر آتا ہے۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ ہمارے ہاں کاغذوں پر منصوبے بنتے ہیں‘ کاغذوں پر مکمل ہوتے ہیں اور رقم بانٹ دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم کا بال بال قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور ہمارے مسائل حل ہونے کی بجائے جوں کے توں چلے آرہے ہیں۔ ملک اور صوبے کو گرانٹ کی مد میں جو رقوم ملتی رہیں یا قرضے لئے گئے ان کا استعمال خوف خدا اور ذمہ داری کے ساتھ کیا جاتا تو آج ہمارے صوبے کا یہ حشر نہ ہوتا۔ دعوے کی حد تک احتساب کا نظام بھی موجود ہے سیاستدان و حکمران اپنی ایمانداری کی قسمیں بھی کھاتے ہیں مگر حقیقی صورتحال یہ ہے کہ یہاں خدمت کے نام پر عوام کو دھوکہ ہی دیاجاتا رہا ہے الا ماشاء اللہ معدودے چند اداروں کو چھوڑ کرملک میں بننے والی این جی اوز کمائی ہی کا ذریعہ بنا دی گئیں۔ غریبوں کے مسائل کے حل کے نام پر بیرونی عطیہ دہندگان سے لئے جانے والے عطیات کبھی عوام تک نہیں پہنچ سکے۔ عطیہ دہندگان کو جس طرح کاغذی منصوبوں کے ذریعے نمائشی منصوبے بنا کر دھوکہ دیاجاتا رہا اس کی تحقیق ہو تو ہر بننے والی سڑک‘ سکول ‘ شفاخانہ‘ معذوروں کی بہبود کے لئے ہونے والے کام ادھورے سطحی اور نمائشی ہی نکلیں گے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اغیار کو ہمارے عوام کی مشکلات کی فکر رہی اور انہوں نے مختلف مواقع پر مختلف صورتوں میں امداد دی اور ہمارے ہم وطن حکمران اور بیورو کریسی نے غریبوں‘ معذوروں اور پسماندہ علاقوں کی خواتین کی فلاح کے منصوبے خلوص کے ساتھ مکمل کرنے کی بجائے گلچھڑے اڑائے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اگر بیرون ممالک سے ملنے والی گرانٹ اور قرضوں کا دیانتدارانہ استعمال ہوتا تو آج صوبے کے سارے نہیں تو بیشتر مسائل حل ہوچکے ہوتے اور سرکاری خزانے سے ان پر وسائل صرف کرنے کے بجائے عوام کی اجتماعی فلاح و بہبود اور سہولتوں کی فراہمی پر وسائل خرچ ہورہے ہوتے۔ حالیہ دنوں میں بننے والی بی آر ٹی ہی کی مثال لیں جس کی لاگت 49ارب سے بڑھ کر 69ارب روپے سے زیادہ کا اضافہ ہونے کے باوجود ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا۔ جب ایک میل سڑک بنانے میں نصف معیار کی سڑک بنا کر ساٹھ لاکھ روپے سے زائد رقم کا خرچ ظاہرکیا گیا ہو وہاں 26کلو میٹر بی آر ٹی کے تعمیراتی کام کا کیا عالم ہوگا؟ کیا وہ وقت نہیں آیا کہ ہم جرمن سفیر کے دکھائے گئے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ لیں اور اصلاح کا راستہ اپنائیں۔ دیانتداری کا درس جہاں سے ملے اس پر عمل درآمد ہمارا قومی و اخلاقی فریضہ ہے۔ کاش ہم سمجھی

متعلقہ خبریں