Daily Mashriq

وزیر بلدیات قدم بڑھائیں

وزیر بلدیات قدم بڑھائیں

خیبر پختونخوا کی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز کے معاملات بارے صوبائی وزیر بلدیات کی برہمی سے حقیقت حال سے آگاہی اور اصلاح احوال کی سعی ظاہر ہوتی ہے جسے نہ صرف جاری رہنا چاہیئے بلکہ وزیر بلدیات کو اس طاقتور مافیا کو نکیل ڈالنے کیلئے مزید جدوجہد اور سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ بہرحال صوبائی وزیر نے تمام ٹی ایم اوز کو اپنے رویے تبدیل کرنے،عوامی شکایات کے ازالے کیلئے عملی اقدامات کرنے اور بھرتیوں سمیت ٹھیکوں کی الاٹمنٹ کو شفاف بنانے کیلئے قبلہ درست کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ پابندی کے باوجود ٹی ایم ایز میں بھرتیاں اور ترقیاں جاری رکھنے پر بھی افسوس کا اظہار کیاہے۔ صوبائی وزیر بلدیات شہرام خان ترکئی نے صورتحال کی بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ عوام کی سب سے زیادہ شکایات ٹی ایم ایز سے متعلق ہیں، تجاوزات کے خلاف آپریشنز ہوں یا آمدن بڑھانے کیلئے کئے گئے اقدامات، ٹی ایم ایز کے رویے سے عوام سب سے زیادہ نالاں ہیں۔ علاوہ ازیں بھی اپنے محکمے کے حوالے سے جن معاملات پر صوبائی وزیر نے ناپسندید گی کا اظہار کیا ہے یہ سب نوشتہ دیوار اور برسوں سے چلے آنے والے معاملات اور صورتحال ہے۔ صوبائی وزیر کا ان معاملات کا سنجیدگی سے نوٹس لینا اور ان کی نشاندہی سے ان کی اصلاح کی نیت واضح ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ کس حد تک وہ اپنے محکمے کے معاملات کو سدھار نے میں اپنے عزم پر قائم رہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلدیات کا محکمہ اگر رشوت وبد عنوانی سے پاک کر دیا جائے اور بااثر ٹی ایم اوز کو سرکاری وسائل پر ہاتھ صاف کرنے سے روکا جا سکے تو اسے صوبے میں حقیقی تبدیلی کی بنیاد قرار دینا اور تحریک انصاف کے منشور کے اہم حصے پر عملدر آمد سے تعبیر نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ صوبائی وزیر نے لگی لپٹی رکھے بغیر جس طرح جرأت کے ساتھ اپنے محکمے میں پائی جانے والی بد عنوانیوں اور کجیوں کی نشاندہی کی ہے اس کے بعد ان پر قابو پانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے صوبائی وزیر ایماندار اور اچھی شہرت رکھنے والے افراد کو ترجیح دے کر اور ان کی مدد اور تعاون کے ساتھ اس ناممکن کوممکن بناسکتے ہیں۔صوبائی وزیر کو چاہیئے کہ وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر شاہانہ زندگی گزارنے والوں اور ماضی میں ان کی کارکردگی کاجائزہ لیکر اس کے تناظر میں تقرریوں اور تبادلوں کا فیصلہ کریں۔ اچھی اور بری شہرت کے حامل افسران کی چھان بین زیادہ مشکل نہیں ۔ صوبائی وزیرعزم کریں اور عملی طور پراچھی شہریت رکھنے والے افسران اور عملے کو اہم عہدوں اور جگہوں پر تعینات کریں تو یہ دیگر محکموں کے وزراء کیلئے بھی مثال ہوگی جس کی عوام اور میڈیا کی طرف سے تحسین ہی فطری امر نہ ہوگا بلکہ ان کے محکمہ کی کارکردگی خود اس کی گواہی دے گی۔

سیاحوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت دینے کی ضرورت

صوبائی حکومت کی جانب سے صوبے کے سیاحتی مقامات کے تحفظ کیلئے ٹورازم پولیس فورس بنانے کا فیصلہ احسن اور سیاحوں کے تحفظ اور صوبے میں سیاح دوست اور ساز گار فضا بنانے کیلئے ضروری ہے ۔ اجلاس میں ٹورازم پولیس فورس کے قیام کے لئے محکمہ سیاحت اور محکمہ پولیس کو مشترکہ طور پر سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ ٹاسک فورس کے اگلے اجلاس میں ٹورازم پولیس فورس کی باقاعدہ منظوری دی جائیگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گو کہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال بہت بہتر ہے اور صوبے کی روایتی مہمان نوازی کی فضا میں سیاحوں کو کوئی دقت درپیش نہیں ہوگی لیکن مری میں پیش آمدہ واقعے کے تناظر میں دیکھا جائے تو نہ صرف سیاحوں کے جان ومال کے تحفظ کی ضرورت کا قائل ہونا پڑتا ہے بلکہ سیاحوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے بھی ایسا کرنا ضروری ہے جس کیلئے سیاحوں کو تحفظ دینے کے علاوہ ان کو ساز گار ماحول دینے کی ذمہ داری بھی اس فورس کی ذمہ داریوں میں شامل کرنے کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے ۔ سیاحوں کے تحفظ کیلئے مجوزہ فورس میں بھرتی کامعیار جسمانی اور استعدادی دونوں رکھا جائے تاکہ چاق وچوبند اور چست وچالاک تعلیم یافتہ نوجوانوں کی فورس تیار ہو ۔ اس فورس کی اخلاقی تربیت پر بھی خاص توجہ دی جائے جبکہ فورس کے جوانوں کو زیادہ سے زیادہ بولی اور زبانیں بولنے پر ترجیح معیار رکھا جائے غیر ملکی سیاحوں کی بہتر مدد وخدمت اور تحفظ کیلئے بہتر انگریزی بولنے والے نوجوان فورس میں شامل کئے جائیں۔فورس میں محولہ معیار کی حامل خواتین بھی بھرتی کی جائیں صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے مواصلات آمدورفت اور بودوباش خوراک اور دیگر ضروری سہولیات اور امور کاجائزہ لیکر درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں