Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

کا درد‘‘ بڑھتی آبادی

یہ جو بار بار کہا جارہا ہے کہ فوج اور عدلیہ حکومت کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑی ہے حکومت کے ساتھ فوج اور عدلیہ کھڑی ہی ہوتی ہیں آخر یہی ملکی ادارے ہیں۔ یہ کھڑے ہوتے ہیں مگر حکومت لیٹی ہوتی ہے یا پھر لیٹا دیئے جاتے ہیں۔سمجھ نہیں آتی کہ بار بار اس امر کایقین دلانے کی کیا ضرورت ہے ۔ کیا عدلیہ اور فوج حکومتی ادارے نہیں اور نظم وضبط اور انصاف کے پابند نہیں۔ کیا یہ ادارے پہلی حکومتوں کے ساتھ نہیں تھے جن کے عدم استحکام کی یہ وجہ ہو اور موجودہ حکومت اس لئے مستحکم ہے کہ اس کے ساتھ فوج اور عدلیہ کھڑی ہے۔

بہرحال دل خوش کرنے کو یہ غالب خیال اچھا ہے۔ اس دعوے کی بناء پر چونکہ موجودہ حکومت زیادہ پراعتماد اور مستحکم ہے۔لہٰذا اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یکسو ہو کر عوام کے مسائل حل کرے۔ فی الوقت تو حکومت انڈے ہی دے رہی ہے چارمرغیاں اور ایک مرغا تبدیلی ٹھہری مرغیاں اگردرجن بھر بھی ہوتیں تو ایک مرغا کافی تھا وزیراعظم اور چیف جسٹس آبادی پر قابو پانے کیلئے ہم خیال ہیں چیف جسٹس کے معلوم نہیں کتنے بچے ہیں عمران خان کے فی الحال دو بیٹے ہیں اور آبادی میں اضافے کا امکان ہے اس لئے بچے دو ہی اچھے کا نعرہ نہ لگایا جائے کیا تیسرا بچہ اچھا نہیں ہوگا بچے جتنے ہوں اتنے اچھے مگر چادر سے پائوں باہر نہ نکلیں۔ شہید بی بی بینظیر بھٹو کی زیر صدارت بھی بہبود آبادی کا ایک اجلاس ہونا تھا تو خاتون وزیراعظم کے تین بچے تھے جس پرچاپلوس حکام نے کم بچے خوشحال گھرانہ کا نعرہ متعارف کرایا۔ ہم بھی کیا الٹے لوگ ہیں دنیا میں جوڑوں کو ہنی مون اور بچوں کیلئے تیاری کیلئے الائونس دیا جاتا ہے جاپان میں تو لڑکا لڑکی ہم صنف ہونے لگے ہیں۔ ان کو لذت کام ودہن سے سرے سے دلچسپی ہی نہیں رہی بچے کہاں سے آئیں گے ۔

ہمارے لوگوں کو تو خوش ہونا چاہیئے کہ کم ازکم بچہ الائونس اور ہنی مون کیلئے جوڑوں کو رشوت دینی نہیں پڑتی۔ دوسرے ملکوں کی طرح جوڑوں کو بھی ذرا گزارہ کرنا چاہیئے ورنہ جوڑوں کا درد تو جوڑوں ہی کو معلوم ہوتا ہے بغیر جوڑے کو کیا معلوم کہ جوڑوں کا درد کیا ہوتا ہے ۔جوڑوں کے درد میں جوڑ جوڑ دکھتا ہے جوڑ ہلنے اور کھلنے لگتے ہیں اِینچر پنچر نکل جاتا ہے۔ ڈاکٹر کے پاس جائو تو کہتا ہے کہ دوا دوں گا مگر مرض لاعلاج ہے ۔ لاعلاج مرض سے بچنے کیلئے احتیاط کی ضرورت ہے زیادہ مصروفیت اچھی نہیں ہوتی ۔ وزیراعظم اور چیف جسٹس جس مسئلے پر لوگوں کو چیلنج کررہے ہیں یا چلیں سمجھا رہے ہیں یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں لوگ سمجھدار ہوتے تو یہ روگ پالتے ہی نہ ۔نہ ہوتا بانس تو نہ بجتی بانسری قصہ ہی ختم مگر فطرت کے ماروں کا کیا کیا جائے بھیڑ چال چل رہے ہیں اور بس۔

متعلقہ خبریں