Daily Mashriq


آبادی میں اضافے کے بارے میں سمپوزیم

آبادی میں اضافے کے بارے میں سمپوزیم

پانی کے بحران کی طرح آبادی میں اضافہ کے مسئلہ پر بھی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے توجہ دلائی ہے اور سپریم کورٹ کے آڈیٹوریم میں آبادی میں تشویش ناک اضافہ کے موضوع پر ایک روزہ سمپوزیم منعقد کیا ہے۔ ایسا نہیں کہ پانی کے بحران سے آگاہی نہیں تھی۔ اقوام متحدہ کے مطالعات میں بھی پانی کے بحران کی سنگینی ایک عرصہ سے بیان کی جا رہی تھی اور ملک کے عام لوگوں کے تجربے میں بھی یہ بات تھی کہ پانی جو زندگی کی بنیادی ضرورت ہے کم ہو رہا ہے۔ اسی طرح آبادی میں اضافے سے پیدا ہونے والے مسائل سے بھی ایک طرف اقوام متحدہ کے ادارے ‘ دوسری طرف حکومت پاکستان کے ادارے اور تیسری طرف ملک کے عام لوگ بھی آگاہ تھے کہ بڑھتی ہوئی آبادی مسائل میں اضافہ کر رہی ہے اور وسائل کو ہڑپ کر رہی ہے۔ لیکن جہاں چیف جسٹس آف پاکستان نے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے مہم شروع کر کے پانی کے بحران سے آگاہی میں اضافہ کیا وہاں آبادی میں اضافے سے پیدا ہونے والے سنگین مسائل جو بالعموم نظر اندازکیے جا رہے تھے ان کی طرف بھی انہوں نے توجہ دلائی ہے۔ پانی کا بحران ہو یا آبادی میں اضافے سے پیدا ہونے والے مسائل کی سنگینی‘ ایسے معاملات پر حکومتوں کو متوجہ ہونا چاہیے۔ جیسے کہ بیان کیا جا چکا ہے حکومتوں کی سطح پر بھی اور عوام کی سطح پر بھی ان مسائل سے آگاہی تھی اس کے باوجود نہ حکومتوں نے ان کی طرف کماحقہ توجہ دی اور نہ ہی عوام نے سماجی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے حکومتوں کو ان سنگین مسائل کی طرف متوجہ کیا۔

پانی کے بحران کی ایک وجہ تو پانی کے وسائل میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث کمی ہے جس کے باعث زراعت کے لیے پانی کم ہے‘ زیر زمین پانی کی کمی زمین کی صحت کو متاثر کر رہی ہے۔ حتیٰ کہ پینے کا پانی بھی ضرورت سے کم ہوجانے کا امکان ہے۔ دوسری طرف یہ کمی آبادی میں بے لگام اضافے کی وجہ سے اور بھی شدید ہو جاتی ہے۔ جب پانی کے صارفین یعنی انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس اضافے کی شرح روز بروز بڑھتی رہتی ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بدھ کے روز مذکورہ بالا سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اگر آبادی اس شرح سے بڑھتی رہی تو ملک کی آبادی تیس سال میں 45کروڑ ہو جائے گی جو آج 22کروڑ بتائی جاتی ہے۔ یہ ان کا اپنابیان نہیں بلکہ ماہرین کے مطالعے کا نچوڑ ہے جو انہوں نے بیان کیا اور ماہرین کے مطالعات میڈیا کے ذریعے اور مراسلوں کے ذریعے عوام پر بھی واضح ہیں اور حکام پر بھی۔ لیکن معاملہ کوتاہی اور بے پرواہی کے باعث ان مسائل کی طرف توجہ نہ ہونے کا ہے۔

زیرِ نظر سمپوزیم میں اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ اس حوالے سے ایک پروگرام شروع کرنے والے ہیں تاہم اس اجلاس میںبھی آبادی میں اضافے اور اس کے تدارک کے علاوہ دیگر بہت سی باتیںہوئیں جو سمپوزیم کے عنوان سے باہر تھیں۔ یہ سب باتیں یقینا اہم تھیں لیکن سمپوزیم تو آبادی میں اضافے کے موضوع پر تھا۔

آبادی میں اضافے کو کم کرنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کا محکمہ ایوب خان کے زمانے میں وجود میں آ گیا تھا۔ تب سے اب تک اس موضوع پر اشتہاروں‘ اہل کاروں اور ادویات پر کھربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں لیکن آبادی میں اضافے کی شرح اب بھی تشویش ناک ہے۔ اس ناکامی کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ مولانا طارق جمیل نے ایک نہایت اچھی بات کی کہ آبادی میں اضافہ شہروں کی نسبت دیہات میں زیادہ ہے‘ اس طرف توجہ دی جانی چاہیے۔ دیہات میں تعلیم و تدریس کی کمی ہو سکتی ہے لیکن عقل و فہم کی کمی نہیں ہے۔ البتہ دیہات میں غربت زیادہ ہے۔ آگہی کی کمی ہے‘تفریح کے مواقع نہیں ہیں۔ غربت کی وجہ سے آزردگی زیادہ ہے‘ شہروں کے کم آمدنی والوں کے علاقوں میں بھی یہی سب کچھ ہے۔ یہاں بھی آبادی میں اضافہ کی شرح زیادہ ہے۔ تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اشتہاروں ‘ اہل کاروں اور ادویات سے آگے نکل کر غربت کے خاتمہ ‘ قناعت کی آسودگی اور صحت مند تفریح بھی ضروری ہے اور سب سے بڑھ کر سماجی ذمہ داری کی آگہی کی ضرورت ہے۔ یہ کمی محض اشتہاروں اور تقریروں سے پوری نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لیے مسلسل رابطے کی ضرورت ہے۔ کسی بیماری پر اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ سنگین ہوتی جاتی ہے اور اگر علاج پر مسلسل توجہ نہ دی جائے تو یہ ناکام ہو جاتا ہے۔ ہمارے ملک میںہر محلہ میںمسجد ہے۔ سکولوں کے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد ہے۔ آئمہ اور اساتذہ کو اس نیک کام میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ آگہی یہ دینا ضروری ہے کہ والدین اولاد کی صحت اور تعلیم و تربیت کے بھی ذمہ دار ہیں اس لیے اتنے بچے ہی پیدا کرنا چاہئیں جو ان کے وسائل پر بوجھ نہ بنیں اور بڑے ہو کر مفلسوں کی تعداد میں اضافہ کا باعث نہ بنیں۔ مردوںکو اس بات کا قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ منکوحہ مفتوحہ نہیںہوتی اس کی صحت اور بہبود بھی ایک ذمہ داری ہے۔ عورتوں میں یہ آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ سجنے اور سنورنے کے ساتھ ساتھ سجانے اور سنوارنے کی ذمہ داری بھی ان کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اولاد کی صحت اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری بھی ان کی ہے۔ ان ذمہ داریوں کے نبھانے کے لیے ان کی صحت اچھی رہنی چاہیے اور ان کے پاس یہ ذمہ داری نبھانے کے لیے وقت بھی ہونا چاہیے۔ ہمارے آئمہ اور خطیب اور اساتذہ یہ کام آسانی سے کر سکتے ہیں۔ انہیں یہ ذمہ داری نبھا کر خوشی ہو گی کہ اس طرح وہ نہ صرف معاشرے کو اجتماعی خود کشی کی طرف جانے سے ‘ مفلسی اور ناداری کی طرف جانے سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں گے بلکہ اپنے وسائل پر مطمئن اور اچھے انسان پیدا کرنے والا معاشرہ قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

متعلقہ خبریں