Daily Mashriq


دسمبر کا مہینہ اور ستارہ شناسی

دسمبر کا مہینہ اور ستارہ شناسی

دسمبر کا مہینہ لوٹ آیا ہے۔ دسمبر کے حوالے سے اردو شاعری کا دامن بہت بھرا ہوا ہے مگر آج شاعری کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوگی بلکہ دسمبر کے مہینے میں مدتوں سے جو پیشگوئیاں اگلے سال کے حوالے سے کی جاتی رہی ہیں یا آئندہ ہوتی رہیں گی ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ سلسلہ تو مغرب سے چلا ہے کہ آنے والے سال کے لئے پہلے ہی واقعات کے بارے میں ستارہ شناس آگاہ کردیتے ہیں۔ در اصل انسان ابتدائے آفرینش سے ہی وسوسوں کا شکار چلا آرہا ہے اور آنے والے زمانوں کے بارے میں جاننے کا متمنی رہتا ہے۔ ستاروں کی چال کا مطالعہ کرتے ہوئے ان کے انسانی زندگی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات میں حد درجہ دلچسپی اس کا خاص موضوع رہا ہے۔ مستقبل بینی کی اسی انسانی خواہش نے نہ صرف ستارہ شناسی کے علم کو ایجاد کیا بلکہ دیگر مختلف قسم کے پیش بینی پر مبنی علوم بھی اس کے جذبہ تجسس کو مہمیز دیتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے ماہرین علم نجوم یعنی جوتشی‘ نقطائی‘ گنڈے تعویذوں والے‘ پامسٹ اور اسی قبیل کے دیگر لوگ اپنے کاروبار کو چمکانے میں کامیاب دکھائی دیتے ہیں‘ جدید دور میں ٹیلی کارڈ ماہرین کاایک طبقہ بھی پیدا ہوچکا ہے اور اس حوالے سے گزشتہ کئی برس سے ہمارے ہاں بھی مختلف ٹی وی چینلز پر دسمبر کے مہینے میں ان ماہرین علم نجوم‘ پامسٹوں‘ ٹیلی کارڈ ماہرین کی منڈلیاں سجتی ہیں۔ دراصل ان کی کامیابی انسان کی ضعیف الاعتقادی کی مرہون منت ہے ۔حالانکہ علامہ اقبال نے اس پر یوں تبصرہ بھی کرلیا ہے کہ

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا

وہ خود فراخئی افلاک میں ہے خوار و زبوں

امریکہ میں چند برس پہلے تک ایک خاتون آسٹرالوجسٹ جین ڈکسن نام کی ہوا کرتی تھی جو ہر سال دسمبر کے مہینے میں عالمی سطح کی پیشگوئیاں کرکے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیتی تھی۔ اس کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ بے شک وہ ستارہ شناسی کی ماہر ہوں گی مگر اس سے اصل کام امریکی سی آئی اے یوں لیتی تھی کہ جس ملک میں امریکہ اپنی پالیسیوں کے تحت حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ کرنا چاہتا یا وہاں افراتفری پیدا کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتا تو انہی خاتون سے پیشگوئیاں کروا لیتا۔ اس کے بعد سی آئی اے عملی اقدامات کا آغاز کرکے اپنے اہداف حاصل کرلیتی۔ موصوفہ کی پیشگوئیوں کا ڈنکا ہر جانب بجتا‘ نئے سال کے لئے اس کی سیاسی پیشگوئیاں دنیا بھر کے اخبارات و رسائل میں شائع کی جاتیں اس حوالے سے پاکستان کے بارے میں اس کی پیش بینی کو بھی ان ادوار میں خاص طور پر ایوبی آمریت کے زمانے میں چھان پھٹک کر ہی شائع کیا جاتا۔ یعنی پاکستان کے حق میں جو باتیں ہوتیں وہ شائع کردی جاتیں جبکہ منفی باتوں کو سنسر کرکے غائب کردیا جاتا۔ البتہ بھارت کے بارے میں منفی پیشگوئیوں کو ہائی لائٹ کیا جاتا حالانکہ بھارت میں تو قسمت کا حال بتانے والے قدم قدم پر موجود ہیں اور وہاں کے مختلف ٹی وی چینلز پر روز صبح کے وقت ان ماہرین علم نجوم کو اپنے پروگراموں میں لا بٹھاتے ہیں اور یہ عوام کو روزانہ کی بنیاد پر ان کے ستاروں کی چالوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں جبکہ بعض بہت ہی مشہور ستارہ شناس ملکی اور غیر ملکی حالات کو زیر بحث لاتے ہیں ان میں سے اکثر کے لئے سب سے زیادہ دلچسپی کا موضوع پاکستان اور بھارت کے تعلقات‘ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں اپنے عوام کے ذہنوں میں منفی باتیں بٹھا کر خوش فہمی میں مبتلا کرنا ہوتا ہے۔ ادھر ہمارے ہاں بھی لاہور سے شائع ہونے والی جنتریوں کے ذریعے پیش گوئیاں کرنے والے ایک خاندان کے افراد نے سوشل میڈیا پر ایک چینل شروع کر رکھا ہے۔ یہ خاندان ایک خاص مسلک سے تعلق رکھتا ہے اور عرصہ دراز سے قسمت کا حال بتانے‘ پورے سال کے لئے حالات کی پیش گوئی کرنے‘ ملک کو درپیش مختلف معاملات اور مسائل کے بارے میں ہر مہینے اپنے رسالوں کے ذریعے لوگوں کو آگاہ کرنے کا کام بھی کرتے ہیں جبکہ اب سوشل میڈیا پر اپنے فون نمبروں کی تشہیر کرکے لوگوں کو اس جانب راغب کرتے ہیں تاکہ ان کا کاروبار چلتا رہے حالانکہ مرزا غالب بھی بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

جیسا کہ اوپرکی سطور میں گزارش کر چکا ہوں قسمت کا حال بتانے والوں میں ایک طبقہ نقطوں کی مدد سے پیشگوئی کرنے کا کاروبار کرتا ہے۔ ان لوگوں کو نقطائی کہا جاتا ہے۔ بہت مدت پہلے پشاور کے کریم پورہ بازار میں ایک درزی ہوا کرتا تھا جس نے اپنی دکان پر نقطائی کا بورڈ آویزاں کر رکھا تھا اور لوگ اس کے پاس جا کر قسمت کا حال معلوم کرتے تھے۔ نقطائیوں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ علم ایک خلیفہ راشد سے منسوب ہے اوراسے علم جفر کا نام دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں پشاور کے ایک ادیب شاعر‘ ڈرامہ نگار‘ محقق بھی اس فن کو جانتے تھے اور وہ بھی پیشگوئیوں کے حوالے سے ستارہ شناسی کے ساتھ ساتھ علم جفر سے بھی مدد لیتے تھے۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ معلوم نہیں کہ ان کے بچوں میں سے یہ فن کسی کے پاس ہے یا نہیں۔ بہر حال اب دسمبر کا مہینہ ایک بار پھر آچکا ہے اور ہم اس انتظار میں ہیں کہ کب مختلف ٹی وی چینلز پر جوتشیوں‘ ٹیلی کارڈ ماہرین کی منڈلیاں سجتی ہیں جو ملک کو درپیش مسائل کے حوالے سے کیا اور کس نوعیت کی خبریں عوام تک پہنچاتی ہیں۔

متعلقہ خبریں