Daily Mashriq


حضور! تقلید اور شخصیت پرستی جمہوریت ہر گز نہیں

حضور! تقلید اور شخصیت پرستی جمہوریت ہر گز نہیں

یہ امر بجا طور پر درست ہے کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی لازم و ملزوم ہیں۔ لیکن کیا طبقاتی خلیج کو کم کئے اور بلا امتیاز احتساب‘ انصاف کی فراہمی اور مساوات کے بغیر جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کی کوئی صورت بن سکتی ہے؟ بعض وعدے اور باتیں کرنے اور ہونے کی حد تک بہت خوبصورت ہوتی ہیں مگر عمل کی دنیا میں سارے معاملات یکسر مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اگلے روز سپریم کورٹ میں منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب کوئی قانون سے ہٹ کر نہیں چل سکتا۔ قانون کی حکمرانی کاجن بوتل سے باہر نکل چکا ہے اور اب کوئی بھی اسے بند نہیں کرسکتا۔ اب طاقتور کو قانون کے تحت لایا جارہا ہے کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں۔ بظاہر یہ خوش آئند باتیں ہیں جو انہوں نے کیں۔ میدان عمل میں صورتحال کیا ہے اس سے وزیر اعظم بھی بخوبی واقف ہیں۔ نہ صرف حقیقی صورتحال سے بلکہ اس امر سے بھی کہ آج بھی قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے اعلیٰ عدالتوں کو نوٹس لینا اور احکامات صادر کرنا پڑتے ہیں۔ بنیادی طورپر جو کام قانون کے دائرہ میں ایک ایس ایچ او کے کرنے کا ہوتا ہے وہ اس پر توجہ کیوں نہیں دیتا یا اس کے اعلیٰ افسران فرائض سے غفلت کا نوٹس کیوں نہیں لیتے اس کے پس منظر سے ہر شخص آگاہ ہے۔ ماضی کی حکومتوں میں جو ہوا اسے نظر انداز نہیں کیاجاسکتا مگر پچھلے ساڑھے تین ماہ کے دوران قانون کی بالا دستی کے لئے حکومت اور اس کے اداروں نے کیا کیا؟ اس سوال کو نظر انداز کرنے یا محض تنقید کہہ کر آگے بڑھنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے غور کیا جانا از بس ضروری ہے۔ مثال کے طور پر وزیر اعظم کی اہلیہ کی ایک سہیلی کے سسر کے پٹرول پمپ کی تجاوزات کے معاملہ پر ڈی سی گوجرانوالہ کی تبدیلی‘ اعظم سواتی کا معاملہ‘ گورنر سندھ عمران اسماعیل پر کاروباری حوالے سے بعض متاثرین کے الزامات کو یکسر نظر انداز کیا جانا۔ حکومت نے اگر ان معاملات میں شخصیات کو تحفظ دینے کی بجائے قانون کی بالا دستی اور شہری حقوق کو اولیت دی ہوتی تو نہ صرف روشن مثال قائم ہوتی بلکہ یہ پیغام بھی جاتا کہ اقربا پروری اور قانون پر طاقتور شخص یا خاندان کی فوقیت کے دن لد گئے۔ افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔ مندرجہ بالا چند معاملات کا ذکر مثال کے طور پر کیا ہے اس طرح کی چندمثالیں اور بھی ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اس ملک کے طاقتور طبقات کو یہ باور کروایا جانا چاہئے کہ وہ ریاست کے اسی طرح کے شہری ہیں جیسے کوئی دوسرا۔ قانون قواعد پر عمل کرتا ہے طبقاتی بنیادوں پر رعایت یا پروٹوکول نہیں دیتا۔ جمہوریت ریاستی وسائل کی مساویانہ تقسیم اور فرد کے حقوق کے احترام کے ساتھ عوام کے حق حکمرانی کو کہتے ہیں ۔ پچھلے اکہتر برسوں کے دوران اس حوالے سے کیا ہوا؟ اور مساوات کے لئے کیا خدمات سر انجام دیں۔ یہاں جس نظام کو جمہوریت قرار دیاگیا یا دیا جا رہا ہے وہ عوامی جمہوریت نہیں طبقاتی بالا دستی کا نظام ہے۔ اس نظام میں معاشرے کے سفید پوش‘ نچلے اور کچلے ہوئے طبقات کے لئے خیر کا پہلو بالکل نہیں ہے۔ انتخابی عمل انتہائی مہنگا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت اپنے عام اور نظریاتی کارکن کو کسی حلقہ انتخاب کے اکھاڑے میں اتارنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔ مہنگے انتخابی عمل میں اشرافیہ کے طبقات سے تعلق رکھنے والے ہی ارکان اسمبلی منتخب ہوتے ہیں یہ محض اس لئے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوری روایات مستحکم نہیں ہو پائیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کے منشور اور انتخابی پروگرام کو اولیت حاصل ہوتی ہے۔ شخصیت پرستی سے بندھی سیاست تو بذات خود طبقاتی آمریت کی ایک صورت ہے۔ یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ اگر حکومت نے قانون کی حکمرانی کو اولین ترجیح سمجھا ہوتا تو نہ صرف بہت سارے نا پسندیدہ واقعات نہ ہو پاتے بلکہ اعلیٰ عدالتوں کو از خود نوٹس بھی نہ لینا پڑتے۔ یہاں اس امر کی طرف متوجہ کرنا بھی ضروری ہے کہ سیاست یا اس کے کسی ادارے پر تہمت بلا وجہ نہیں لگتی۔ سو ریاست ہو یا ادارے انہیں از سر نو یہ دیکھنا اور سوچنا ہوگا کہ بد اعتمادی کی خلیج کیوں وسیع ہوئی۔ ایک ہی جیسے مقدمہ میں اگر امیر آدمی سے ایک طرح کا برتائواور غریب محنت کش سے دوسری طرح کا برتائو ہوگا تو لوگ اپنے دل کی بات کہنے سے رک نہیں جائیں گے۔ لوگوں کے جذبات کو تہمت نہیں سمجھنا چاہئے۔ اس امر پر دو آراء ہر گز نہیں کہ پاکستان میں اصلاح احوال کی واحد صورت جمہوری نظام اور قانون کی بالا دستی ہے۔ جمہوریت جمہور کے حق حکمران کے بغیر کیسے پروان چڑھے گی اور قانون کی بالا دستی پسند و نا پسند کے بغیر کیسے قائم ہوگی یہ سامری جادو گر سے دریافت کیا جانے والا مسئلہ ہر گز نہیں۔ دنیا میں وہی سماج مستحکم ہو کر آگے بڑھ پاتے ہیں جن میں وسائل کی منصفانہ تقسیم‘ مساوات‘ انصاف‘ شہری و مذہبی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے اور ریاست غربت و بیروزگاری کے خاتمے‘ تعلیم و صحت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ لیکن اگر ریاست اور فرد کے درمیان موجود بد اعتمادی ہی ختم ہونے میں نہ آنے پائے تو پھر کیسی جمہوریت اورکیسی قانون کی حکمرانی۔ خواب دکھاتے فروخت کرتے رہیں تقلید اور شخصیت پرستی میں گردن تک دھنسے سماج میں منافع بخش کاروبار یہی ہے۔

متعلقہ خبریں