Daily Mashriq

طنز واستہزا کی بارش میں مرغی اور کٹے

طنز واستہزا کی بارش میں مرغی اور کٹے

عمران خان کے دل ونیت کا حال تو اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے لیکن باراں دیدہ یاروں کے علاوہ عام لوگ (گنگلو کھانے والے) بہرحال اس شخص سے اس کے باوجود خیر کی اُمید لگائے بیٹھے ہیں کہ ڈالر 140روپے کا ہوگیا ہے اور اس کے نتیجے میں متوقع آنے والی مہنگائی کے طوفان سے قبل ہی وطن عزیز کے اُن سیاستدانوں نے طنز و تشنیع کا ایک بہت تیز طوفان برپا کیا ہے اور عوام بے چاروں کو صبح وشام خوف میں مبتلارکھنے کا سامان کیا ہے جن کو پہلی دفعہ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا پڑا ہے ۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس سے پہلے ان میں سے اس لحاظ سے ساروں کے مزے تھے کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف والے ایک دوسرے کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ اپوزیشن میں رہ کر بھی اقتدار کے مزے لوٹتے تھے۔لیکن اس وقت صورت حال یقیناً بدل چکی ہے۔ عمران خان کسی صورت سٹیٹس کو جاری رکھنے کے حق میں دکھائی نہیں دیتے۔ اگرچہ اُن کو پارلیمنٹ میں اتحادی جماعتوں(جن میں سے بعض کوئی زیادہ مستحکم اعتبار کے لئے معروف نہیں) کے سبب سادہ اکثریت حاصل ہے جو بہر حال بعض انقلابی فیصلوں کے لئے کافی نہیں۔سینٹ میں تو سادہ اکثریت کیا، دونوں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے مواقع تلاش کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔اہل نظر سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہ موجودہ معاشی بد حالی کے سبب میں بنیادی کردار گزشتہ دو سیاسی جماعتوں کی حکومتوں کا ہے ، لیکن بہر حال اس سے نکلنے کے لئے منصوبہ بندی اور ٹھوس اقدامات اُٹھانے کی ذمہ داری عمران خان پرعائد ہوتی ہے ۔ ایک تو اس لئے کہ ان کی حکومت ہے دوسری اس لئے کہ انہوں نے بہت بلند وبانگ دعوے کئے تھے ۔ اب عوام بے چارے تو اس اُمید پر مطالبات اور تقاضے اور تنقید کرتے ہیں کہ وہ بہت پریشان حال ہیں ۔ لیکن اپوزیشن کے سیاسی رہنما تو سیاسی سکورنگ اور عمران خان سے گن گن کے بدلے لینے کے لئے طنز واستہزا ء پر مبنی وہ وہ باتیں کرتے ہیں جو یقیناً سنجیدہ سیاسی شخصیات کے شایان شان نہیں ہوتیں۔ یہاں تک کہ عمران خان کو زچ کرنے کیلئے صدر پاکستان عارف علوی جیسے شریف النفس انسان کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ عمران خان نے بے شک عوام سے وعدے کئے ہیں جو ہر سیاستدان کی انتخابی ضرورت ہوتی ہے ۔ہر سیاستدان اپنے ووٹرز کو سبز باغی دکھاتے ہیں ۔ لیکن پاکستان میں آج تک کوئی بھی سیاستدان اپنے منشور اور انتخابی وعدوں کے پچاس فیصد کو بھی عملی جامہ نہیں پہنا سکا ہے ۔اگر ایسا ہوچکا ہوتا توکیا پاکستان میں غربت کا یہ حال ہوتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت اور سیاست سے کون انکار کر سکتا ہے لیکن کیا پانچ برس حکومت میںرہ کر اور بعد میں پی پی پی وفاق میں پانچ برس اور سندھ میں گزشتہ تیس برسوں سے بر سر اقتدار رہ کر ’’روٹی کپڑا مکان‘‘ کے وعدے کو ایفا کر چکی ۔ قطعاً نہیں ۔ لیکن کیا کوئی بھٹو کی نیت ، دل سوزی اور غریبوں کے لئے کچھ کر گزرنے کے ارادوں پر شک کر سکتا ہے قطعاً نہیں ۔بس یہی حال عمران خان کا ہے ۔ بالکل اُس بزرگ کی طرح جس نے قحط کے زمانے میں لوگوں کو بھوک سے تڑپتے دیکھا تو ریت کے ایک بڑے ڈھیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔کاش یہ آٹے کا ڈھیر ہوتا اور میں اسے غریبوں میں تقسیم کرتا‘‘۔غریبوں کے مسائل فوری طور پر کم کرنے کے لئے عمران خان نے دیہاتوں میں (کہ وہاں ستر فیصد آبادی ہے جس کی اکثریت خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبورہے) اگر مال مویشی اور مرغیاں وغیرہ پالنے اور اس میں حکومت کی طرف سے تعاون کی بات کی ہے تو اس میں ہنسنے ، مذاق میں اُڑانے اور جگتیں کرنے کو ن سی بات ہے ۔ ہمارے دیہاتوں میں تو پہلے ہی یہ سلسلہ چل رہا ہے اور یہ کام اس حد تک کارآمد ہے کہ جو لوگ اس پر عمل کرتے ہیں اُن میں سے اکثر خود کفیل ہوچکے ہیں ۔ ہمارے گائوں میں کتنے غریب گھرانوں کے طالب علموں کے والدین بھیڑ بکری اور مرغی انڈہ بیچ کراُن کو پڑھا نے کی سبیل کرتے ہیں ۔ اُن طلبہ میں سے آج گریڈ بیس اور گریڈ اکیس آفیسر بنے ہیں ۔ لیکن اُن سے اکثر کو وہ دن آج بھی یاد ہیں کہ گائوں کا وہ ہفتہ وار میلہ جو منگل کو لگتا تھا اور آج بھی لگتا ہے اور پرائمری وہائی سکولوں کے پہلو میں لگتا ہے اوراُس میں دیہاتوں کے لوگ روز مرہ کی ضرورت کی اشیاء اور مال مویشی اور مرغیاں بکرے وغیرہ لا کر بیچتے ہیں ۔اس میلے پر سے ایک چھوٹا سا بچہ (پرائمری کا طالب علم) جب گزرتا تو اُس کا دل ایک ایک چیز کے لئے مچلتا تھا، لیکن اُس کی ماں نے اُسے ہاتھ میں ایک انڈہ دیا ہوتا جو ایک آنے میں بک جاتا۔ لہٰذا مرغی ،انڈہ ، بکرے کٹے کی قدرو قیمت اُن لوگوں سے پوچھ لیجئے جن کی زندگی کا اس پر دارومدار ہے ۔یار لوگ اس آوازیں کستے ہیں کہ لیڈرکوئی بڑا کام کرتے ہیں۔ بھینسیں اور کاریں بیچنے اور کٹے اور مرغیاں دینے سے حکومتیں نہیں چلتیں ۔ بجا فرمایا۔لیکن یاد رکھیئے کہ سرکار دوعالمؐ نے فرمایا ہے ’’جس نے کفایت شعاری کی وہ کبھی تنگ دست نہ ہوگا‘‘سینکڑوں کنالوں پر مشتمل گورنرہائوس کو بہترین تعلیمی اداروں میں تبدیل کرنے سے ایک طرف اخراجات کم ہوں گے دوسری طرف قوم کے بچوں کو تعلیم کے لئے نئے اضافی ادارے میسرآئیں گے اور ساتھ ہی قوم کو پیغام ملے گا کہ حکمرانوں کو اُن کا احساس ہے ۔ اور وہ اُن میں سے ہیں اس لئے استعماری دور کے گورنر ہائوس میں رہائش نہیں رکھتے ۔

متعلقہ خبریں