Daily Mashriq


پاکستان کی شناخت سے خوف زدہ بھارت

پاکستان کی شناخت سے خوف زدہ بھارت

وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی نے بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کی طرف سے پاکستان کو سیکولرہوجانے کا مشورہ مسترد کرتے ہوئے اسے بے معنی قرار دیا ہے۔شاہ محمو دقریشی کا کہنا تھا کہ نظریہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔کئی برس پہلے جنرل پرویز مشرف کے دوراقتدار کے اختتام پر پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے معنی خیز انداز میں کہا تھا کہ اسلام ہی پاکستان کا نظریہ رہے گا ۔ بھارتی آرمی چیف نے چند دن قبل ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت سے تعلقات کے لئے پاکستان کو سیکولر ہونا پڑے گا کیونکہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے اور پاکستان نے خود کو اسلامی سٹیٹ قراردیا ہے۔بھارتی فوج کے سربراہ کا یہ بیان پاکستان کی نظریاتی شناخت سے اس کے اندر کے خوف کا مظہر ہے ۔اس خوف کی بنیاد کیا ہے؟یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ بھارت پاکستان کے ایٹمی اسلحے جدید ہتھیاروں ،فوجی مشقوں سے خوف کھائے تو بات سمجھ آتی ہے مگر پاکستان کے نام سے خوف کھانا قطعی ایک عجیب معاملہ ہے ۔جس کی بہت سی نفسیاتی وجوہات ہو سکتی ہیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان عملی طور نام کا فرق ہے۔بھارت اگر ہندو شناخت او راکثریت کا حامل’’ رام لعل ‘‘ہے تو پاکستان اسلامی نام اور اسلامی شناخت کے ساتھ’’ لعل دین‘‘ہے۔پاکستان کا پورا آئینی نام ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان ‘‘۔اس سے ملتے جلتے ناموں اورشناخت کے حامل دو ملکوں اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کے ساتھ بھارت کی گاڑھی چھن رہی ہے ۔دونوں کے ناموں سے بھارت نے کبھی کوئی خوف محسوس نہیں کیا ۔بھارت میں سماجیات کی حد تک ہندو غلبہ تو ایک حقیقت تھی اب ریاستی قوانین میں بھی امتیاز برتا جانے لگا ہے۔بھارت اسی رفتار اور ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو یہ ایک مکمل ہندو ریاست کی شکل اختیار کرجائے گا ۔طویل راستوں کے دائیں بائیں مورتیوں اور مندروں کی بہتات اور گاڑیوں پر مذہبی نشانیوں کی بھر مارباہر سے جانے والے کسی شخص کو یہ بتانے کے لئے کافی ہوتا ہے کہ یہ کٹر مذہبی لوگوں کا ملک ہے جس پر سیکولر ازم کی ملمع کاری ہوئی ہے۔اس ذہنیت کواقلیتوں کا وجود ہی نہیں بھارت کی پہچان اور اس کی معیشت اور سیاحت میں اہم کردار ادا کرنے والے شاہکار بھی قبول نہیں۔بابری مسجد کی بنیادوں سے رام کی جنم بھومی تلاش کرنے کا سفر اب تاج محل جیسے دنیا کے ساتویں عجوبے کی بنیادوں میں کچھ نہ کچھ دریافت کرنے کے شوق میں ڈھل رہا ہے ۔متعصب ہندوں کی خواہش تو یہی ہوگی کہ یہ تاریخی عمارت کسی روز خود ہی زمیں بوس ہوجائے اور ایسا نہ ہوا تو پھرکسی روز یہ عمارت بابری مسجد کے مناظر سے آشنا ہو جائے گی کیونکہ اس شاہکار کی دیواروں پر منقش قرآنی آیات اور فارسی اشعار سے انتہا پسند چڑتے ہیں۔ شہروں کے نام بدلنے کی مہم پوری دیانت داری سے چلائی جا رہی ہے ۔اب جوگی ،بن باسی اور سنیاسی کی وضع قطع کا حامل یوگی آدتیہ ناتھ یوپی جیسی اہم ریاست کا وزیر اعلیٰ بناتو دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ ضروری نہیں واسکٹ اور شیروانی پوش ہی بھارت کا حکمران بنے خالص ہندوانہ وضع قطع کا حامل شخص بھی حکمرانی کر سکتاہے۔حالات یہ ہیں کہ یوگی آدتیہ ناتھ کہہ رہا ہے کہ اگر تلنگانہ میں بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو مسلمان لیڈر اسد الدین اویسی کو نظام حیدر آباد کی طرح بھاگنا ہوگا ۔ہندوستان کی اس امیر ترین ریاست پر بھارت کے قبضے کے بعد نظام حیدر آباد پاکستان منتقل ہو ئے تھے ۔یہ ایک ہندو حکمران کے اندر کی بات ہے۔ بھارت پرہندوتوا کے کنٹرول پر اب بیرونی دنیا میں بھی تشویش پائی جانے لگی ہے۔ حال ہی میں واشنگٹن میں مذہبی آزادی سے وابستہ گروپس نے نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت میں پھیلنے والی ہندوتوا شدت پسندی کو کنٹرول کریں۔اس سا ری صورت حال میں پاکستان کی اسلامی شناخت سے جو ابھی تک علامتی ہے بھارت کے خوف کی وجہ یہ ہے کہ علامتی ہی سہی اسلامی شناخت کے ساتھ پاکستان بھارت اور دوسرے مسلمانوں کے لئے باعث کشش اور باعث ڈھارس ہے۔ ایران اور افغانستان کی نظریاتی شناخت سے بھارت کو یہ مسئلہ درپیش نہیں اس لئے وہ شناخت کے ساتھ گزارا کئے ہوئے ہے ۔پاکستان کا معاملہ اس کے برعکس ہے ۔یہ بھارت کا قریب ترین ہمسایہ ہے اور دونوں کے درمیان تلخ وشیریں ماضی کا رشتہ ہے۔پاکستان کا وجود اور اس کی شناخت بھارت کی سب سے بڑی اقلیت یا دوسری بڑی اکثریت کے لئے قوت محرکہ کا کام دے سکتا ہے ۔پاکستان بھارت کے مسلمانوں کے حالات کو ایک تماشائی کی حیثیت سے ہی دیکھتا رہے یہ بھی تیزی سے بدلتے ہوئے بھارت میںمسلمانوں کو ڈھارس پہنچانے کا باعث ہے ۔ کشمیر میں بھارت اس کا مشاہدہ کر رہا ہے ۔نہ پاکستان ان کے قریب ،نہ اس کی کوئی شکل وصورت ان کے سامنے ،نہ وہ پاکستان کو دیکھ اور چھو سکتے ہیںاور اکثر کو اندازہ ہے کہ شاید وہ دیکھ اورچھو بھی نہیں سکیں گے،نہ وہ انہیں کسی عذاب اور عتاب سے بچانے کے لئے ہاتھ روکنے کو قادر اور موجود اس کے باجود ایک نام اور ایک احساس ان کی قوت کا سامان ہے اور یہی بھارت کا خوف ہے۔ اس میںقصور پاکستان کی شناخت کا نہیںمسلمان آبادی کے بارے میں بھارت کے منصوبہ سازوں کی نیت کے کسی فتور کا ہے۔

متعلقہ خبریں