Daily Mashriq

حکومت اور حزب اختلاف کی ضد، الیکشن کمیشن غیر فعال

حکومت اور حزب اختلاف کی ضد، الیکشن کمیشن غیر فعال

چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر)سردار محمد رضا کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس(ر)الطاف ابراہیم نے قائم مقام الیکشن کمشنر کے عہدے کا حلف تو اٹھا لیاہے لیکن اس کے باوجود قانونی طور پر الیکشن کمیشن فعال نہیں ۔قائمقام الیکشن کمشنر انتخابی معاملات سے متعلق فیصلے نہیں کرسکتے الیکشن کمیشن کے غیر فعال ہونے سے انتخابی فہرستوں، سیاسی جماعتوں کے فنڈز کی اسکروٹنی سمیت بہت سی اہم سرگرمیاں مکمل طور پر رک گئی ہیں جبکہ کسی بھی ضمنی انتخاب اور بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں میں بھی تعطل آگیا ہے۔ قائم مقام الیکشن کمشنر بننے کے بعد بھی ان کے پاس کسی شکایت کو سننے کے لیے بینچ تشکیل دینے کا اختیار نہیں ہے کیوں کہ قانون کے تحت بینچ 3 ارکان پر مشتمل ہونا چاہیے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ الیکشن کمیشن میں اعتراضات اور نااہلی سے متعلق کیسز نئے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی تک تعطل کا شکار رہیں گے۔یہ امر بہت دلچسپ ہے کہ الیکشن کمیشن کے سندھ اور بلوچستان کے اراکین کی نشستیں پہلے سے خالی ہیں پنجاب کے ممبرقائمقام الیکشن کمشنر بن گئے جس کے بعد الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا کے ممبر پر ہی قائم ہے۔1956ء میں وجود میں آنے والا الیکشن کمیشن پہلی مرتبہ اس قدر اپاہج اور غیر فعال ہے کہ اس کا وجود ہی نا مکمل ہے الیکشن کمیشن کے دو ممبران بشمول چیف الیکشن کمشنر کی تقرری آئین کے تحت وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان با مقصد مشاورت اور اتفاق رائے سے ممکن ہے بجائے اس کے کہ بامقصد مشاورت کے ذریعے اس اہم آئینی ادارے کو غیر فعال ہونے سے روکا جاتا معاملات کو پارلیمان میں حل کرنے کی بجائے عدالت سے رجوع کیا گیا جس کے جواب میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے عدالت کی بجائے منتخب نمائندوں کو مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرنے کا مشورہ دیاعدالت کی ہدایت پر دس روز کے اندر یہ مسئلہ حل ہوا تو فبہا لیکن حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان تعلقات کی نوعیت دیکھ کر ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ سیاستدان مل بیٹھ کر معاملہ نمٹالیں گے۔اگر دیکھا جائے تو پہلے حکومت اور وزیراعظم ہی حزب اختلاف کے قائد سے ملنے پر تیارنہ تھے خواہ اس کی وجہ سے ملکی معاملات اور آئینی تقاضے کتنے ہی متاثر کیوں نہ ہوں لیکن اب وزیراعظم کے حوالے سے حزب اختلاف کا رویہ حکومت سے زیادہ سخت ہوگیا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ حزب اختلاف یہ سمجھتی ہو کہ حکومت کے پاس ان کو دیوار سے لگانے اور بدنام کرنے کے جتنے مواقع دستیاب تھے ان کا یکے بعد دیگرے استعمال ہوچکا اب حکومتی ترکش خالی ہے اور حزب اختلاف کی ترکش میںکچھ مزید تیر آگئے ہیں اور وہ ملکی معاملات میں اپنی منوانے کی پوزیشن میں شاید آچکی ہے حزب اختلاف کے اہم رہنماوئوں کے بیانات کی ایک ہی سمت اور تقریباً متفقہ مطالبہ بلاوجہ کا محض ایک ہدف ہے یا پھر اس ہدف کو پانے کی ٹھوس منصوبہ بندی کر رکھی ہے ان کے پریقین ہونے کی وجوہات کیا ہیں بہر حال حزب اختلاف کے حکومت سے عدم تعاون سے حکومتی معاملات پر اثرات سے حکومت کا متاثر ہونا اور حکومتی امور میں انجماد کی فضا کو حزب اختلاف کے شاید مفاد میں ہو مگر یہ کسی طور بھی حکومت کے مفاد میں نہیں جہاں تک الیکشن کمیشن کو غیر فعال بنانے کا سوال ہے اس میں شاید حکومت کی پوشیدہ مرضی بھی شامل ہے تاکہ تحریک انصاف کو غیر ملکی فنڈنگ کے مقدمے میں مزید وقت ملے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک؟آئینی اداروں کے معاملات میں انجماد اور ان اداروں کے غیر فعال ہونے سے وقتی طور پر اگر کوئی مقصد حاصل ہوتا ہے یا نہیں اس کے پس پردہ عدم تعاون سے حزب اختلا ف کا مقصد کیا ہے ان سوالات سے قطع نظر یہ ایک آئینی ادارہ ہے حکومت اور حزب اختلاف بجائے اس کے کہ شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے اس ادارے کو مزید مضبوط فعال اور ٹھوس اقدامات کرنے کے ،اس ادارے ہی کے درپے نظر آتے ہیں۔حال ہی میں ایک اہم معاملے میں عدالت راستہ نہ نکالتی تو قومی بحران پیدا ہوگیا تھا اب ایک اور آئینی بحران سر اٹھا رہا ہے جس کی ذمہ داری سیاستدانوں پر عائد ہوگی۔حکومت اور خاص طور پر وزیراعظم کو اپنی آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے کم سے کم ایسی فضا پیدا کرنی چاہیئے کہ حزب اختلاف ان کے ساتھ بیٹھنے پر تیار ہو اور حزب اختلاف کو بھی حکومت کی ممانعت آئینی اداروں کو غیر فعال کرنے کی قیمت پر نہیں کرنی چاہیئے پارلیمان اور جمہوریت کی مضبوطی اسی وقت ہی ممکن ہوگی جب سیاستدان مکالمہ اور آئینی تقاضوں کو سمجھیں گے۔

متعلقہ خبریں