Daily Mashriq

حکومتی اداروں میں طاقت کی لڑائی کی تشویشناک خبریں

حکومتی اداروں میں طاقت کی لڑائی کی تشویشناک خبریں

وزیر اعظم کے ایک مشیر شہزاد اکبر کا یہ بیان تشویشناک ہے کہ حکومتی اداروں میں طاقت کی لڑائی جاری ہے کوئی چاہے بھی تو عوام سے حقائق نہیں چھپا سکتا۔ گو اس حوالے سے بعض اپوزیشن رہنما بھی دعوے کرتے رہے ہیں مگر اب تو خود سرکار کے گھر سے اداروں کے درمیان عدم تعاون اور طاقت کی لڑائی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ ہماری دانست میں اس کی ایک بنیادی وجہ پارلیمان پر غیر منتخب مشیروں کو ترجیح دینا ہے۔ بد ترین حالات میں بھی پارلیمنٹ دستور کے تقدس کو افضل سمجھتی ہے اور بہت بہتر حالات میں غیر منتخب مشیر اپنی فہم اور ذات کی بالا دستی کو افضل' لہٰذا بہت ضروری ہے کہ خود وزیر اعظم اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے اس امر کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ادارہ یا شخص دستور سے ماوراء اقدام بارے نہ سوچے۔

تعمیراتی شعبے کی ترقی کیلئے حکومتی اقدامات

حکومت کی طرف سے تعمیرات پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ،ری سٹامپ پیپر متعارف کرانا ،کیپٹل ویلیو ٹیکس میں کمی اور ری سٹامپ پیپر متعارف کرانے کے اقدامات سے بظاہر تو اس شعبے میں کشش کی توقع ہے لیکن اگر تعمیرات اور ہائوسنگ کے شعبے میں بہتری کے امکانات کا جائزہ لیا جائے تو بہ مشکل نظر آتا ہے۔حکومتی اقدامات کے حوالے سے یا تو اس شعبہ سے وابستہ افراد کی رائے ہی معتبر ہوسکتی ہے یا پھر ان اقدامات کے نتیجے میں عملی طور پر آنے والی بہتری ہی ان اقدامات کے اصابت کی گواہی دیں گی عملی طور پر اگر دیکھاجائے تو اس شعبے میں بڑھوتی کے امکانات کو جن مختلف ٹیکسوں اور شرائط عائد کر کے نقصان پہنچایا گیا ان کا ازالہ جب تک نہیں ہوتا تب تک اس جانب سرمایہ کاروں کا رجحان بمشکل ہی پیدا ہوگا حکومت بلڈرز اور ہائوسنگ سکیمز کو مراعات دے کر اگر اس شعبے میں سرمایہ کاری پر راغب کر بھی پائے تب بھی افراط کے باعث مکانات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ ہو چکا ہے کہ عام آدمی کا گھر،دکان یا فلیٹ خریدنا تقریباً نا ممکن نظر آتا ہے جو مالیاتی ادارے کم آمدنی والوں کو گھروں کی تعمیر کیلئے قرضے دے رہے ہیں ان کی جانب سے قرض کی فراہمی سے قبل مکان بنانے والے کا جو حصہ رکھا جاتا ہے یا پھر اس کی آمدنی کے مطابق اس کی جانچ کی جاتی ہے اس کا جائزہ لیا جائے تو متوسط طبقہ اب قرضے کے حصول کی شرائط پر پورا نہیں اترتا جو قرضہ مالیاتی اداروں سے تعمیرات کیلئے فراہم ہوتا ہے اس رقم میں مکان کی تعمیر نا ممکن ہے ایسے میں کم آمدنی والا طبقہ تو اس طرح کا قرضہ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور نہ ہی وہ قرضہ لیکر اس کی ادائیگی کی استطاعت رکھتا ہے۔حکومت نے خود نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کے نام سے جو منصوبہ متعارف کرایا ہے اس میں شرط تو کم آمدنی کی ضرور رکھی گئی ہے مگر مکان کی قسط ان کی تین ماہ کی کل آمدن کے برابر رکھی گئی ہے اور مدت ادائیگی بھی طویل نہیں جہاں خود سرکاری پالیسی میں اس طرح کا تضاد ہو وہاں عام آدمی چھت کا خواب دیکھ ہی نہیں سکتا ان حالات کے باوجود امید کی جا سکتی ہے کہ حکومت نے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے وہ نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اور کاروباری طبقے کے ساتھ ساتھ عام آدمی کو بھی اس سے ریلیف ملے گا حکومت اگر عام آدمی اور کم تنخواہ دار سرکاری ملازمین کو چھت کی فراہمی میں سنجیدہ ہے تو اسے کم قسطوں پر مبنی طویل المدتی قرضہ کی فراہمی کا بندوبست کرنا ہوگا۔

بی آرٹی بارے عدالت کے سوالات

عدالت عالیہ پشاور نے ایف آئی اے کو بی آرٹی منصوبے کی پنتالیس روز میں انکوائری کا حکم دے کر منصوبے کے حوالے سے جو سوالات اٹھائے ہیں ان سوالات اور حالات پر غور کیا جائے تو اس منصوبے کے حوالے سے پہلے سے پائی جانے والی مایوسی کی کیفیت میںمزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ان سوالات کا پینتالیس دن کے اندر حکومت کیا جواب دیتی ہے یہ حکومت کیلئے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں حکومت کو اس منصوبے کو مکمل کرنے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ان سوالات کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو اس کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں خود حکومت پر عائد ہوتی ہے۔عوامی نقطہ نظر اس منصوبے کے حوالے سے اب بھی یہ ہے کہ اس منصوبے کو جلد سے جلد مکمل کر کے بسیں چلادی جائیں تاکہ عوام کو آمدورفت کی سہولتیں میسر آسکیں۔

باعث عبرت واقعہ

ہمارے کرائمز رپورٹر کے مطابق یکہ توت پولیس سٹیشن کی حدود میں بیٹے کے ہاتھوں قتل ہونے والے باپ نے بھی اپنے والد کو قتل کیا تھا کسی انسان تو کیا کسی جانور اور درندے کا قتل بھی ایک ذی روح کی جان لینا ہے جس کا کوئی رحم دل شخص متحمل نہیں ہو سکتا کجا کہ کوئی اپنے ہی والد کو قتل کرے۔ملزم نے اپنے والد کو کیوں قتل کیا اس سے بحث نہیں اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ جیسا کروگے ویسا بھروگے۔یہ دنیا مکافات عمل ہے۔والدین کی عزت واحترام اور کسی معصوم کی جان لینے کا گناہ اور عذاب کتنا ہوگا اسے ہم تقریباً بھلا ہی چکے ہیں اس واقعے سے ہی عبرت حاصل کی جائے کہ انسان دنیا میں جو کچھ بوتا ہے اس کا صلہ آخرت میں تو ملنا یقینی ہے ہی بعض ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں کہ زندگی بھی گناہوں کی سزا دے رہی ہوتی ہے۔فاعتبر ویا الوالابصار۔

متعلقہ خبریں