Daily Mashriq

ایک مدت ہوگئی مرغی مگر کھائی نہیں

ایک مدت ہوگئی مرغی مگر کھائی نہیں

بات بکرے کی ماں سے آگے چل کر اس کی پوری نسل تک جا پہنچی ہے کیونکہ اسے تسلی دی جارہی ہے کہ وہ گھبرائے نہیں یہ جو مہنگائی کی چھری اس کے گلے پر چل رہی ہے اسے روکنے کی کوئی نہ کوئی سبیل نکال ہی لیں گے اور یہ''وعدہ''کسی اور نے کیا خود وزیراعظم نے اپنے وعدوں کی فہرست میں اضافہ کرتے ہوئے کیا ہے،فرمایا کہ عوام گھبرائیں نہیں مہنگائی کو کم کر کے دم لیں گے گویا انہوں نے یقین دلادیا ہے کہ ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا مگر اس کم بخت اردو محاورے کا کیا کریں جو کچھ یوں ہے کہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے،ویسے بھی خود وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیاہے کہ جو یوٹرن نہیں لیتا۔۔۔ یعنی وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہونے کے مراحل طے کرے اور ان کے سابقہ کئی وعدوں کی طرح اس وعدے کے بارے میں بھی عوام کالانعام یعنی''بکروں کی نسل''ابھی سے یہ سوچ لے کہ

رات کی بات کا مذکورہی کیا

چھوڑیئے رات گئی بات گئی

ایک تو اس کم بخت مہنگائی نے بھی انہی دنوں آنا تھا جب خان صاحب نے ملک میں اقتدار سنبھالا ہے ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ اس میں بھی اپوزیشن والوں کا ہاتھ ہے جو حکومت کو بد نام کرنے کیلئے طرح طرح کے دیگر ہتھکنڈوں کے ساتھ ساتھ عوام کو پریشان بلکہ زچ کرنے کے حربے کے طور پر مہنگائی کے ہتھیار سے لیس ہو کر اثر انداز ہورہے ہیں،اگر تحقیق کی جائے تو یہ بات ممکن ہے کہ پایہ ثبوت تک پہنچ جائے کہ اس مہنگائی کے پیچھے اپوزیشن ہی کے کچھ لوگ ہیں بلکہ اگر ذراغور سے دیکھا جائے تو وہ جو نعرے لگتے رہے ہیں کہ مودی کا جو یار ہے اور صرف اسی ایک نعرے کی تہہ میں جھانکا جائے تو ٹماٹروں کی مہنگائی کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے یعنی ادھر بھارت سے ٹماٹروں کی درآمدات بند ہوئیں اور ادھر بھارت کے اندر تو ٹماٹر20روپے کلو مل رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں بھارت کے ان20 روپوں پر تین سوروپے منافع لگا کر گزشتہ ڈیڑھ پونے دو ہفتوں تک320روپے کلو میں ٹماٹر(وہ بھی ملکی فصل)عوام کو تھماتے جاتے رہے اور یار لوگوں نے یہاں تک مشورے مفت میں دیئے کہ ٹماٹر مہنگے ہیں تو دہی استعمال کیا جائے،ایسے مشورے صرف پوٹا پر اہل حکم ہی کی جانب سے دان کئے جا سکتے ہیں حالانکہ ہر ہانڈی میں ٹماٹروں کی جگہ دہی استعمال نہیں کیا جا سکتا،مگر جب دانشوری کو بگھاردینے پربعض حکمران تل جائیں تو ایسے ہی مشورے سامنے آتے ہیں،بالکل انقلاب فرانس کے زمانے کی اس ملکہ کی طرح جس نے غریب عوام کو روٹی نہ ملنے کی شکایت کے جواب میں کیک پیسٹری کھانے کا بالکل مفت مشورہ دیا تھا مگر فرانس کے عوام اس قدر نالائق اور پھسڈی تھے کہ بادشاہ اور دیگر وزراء وامراء کے ساتھ اتنا اچھا مشورہ دینے والی ملکہ کو بھی گلوٹین کا شکار بنا دیا تھا،الحمد اللہ کہ ہمارے ہاں گلوٹین کا رواج نہیں ہے ۔شاید اسی لئے طہٰ خان نے عوام کو مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا

روٹیوں کی فکر میں پھرتا ہوں میں تودربہ در

آجکل ملنے مجھے آیا نہ کرجان جگر

بلبلا اٹھتا ہوں میں ہوتا ہے دل زیر وزبر

بھوک لگتی ہے ترے گالوں کے کلچے دیکھ کر

ویسے خدا لگتی کہئے تو یہ سارا کیا دھرا اس''مافیا'' کا ہے جس کے بارے میں وزیراعلیٰ محمود خان نے بھی گزشتہ روز سخت ایکشن لینے کا حکم دیتے ہوئے انتظامیہ سے کہا تھا کہ انتظامیہ مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کو لگام ڈالے اور عوام کو ریلیف دے،یوں گویا انہوں نے واضح کر دیا کہ دراصل یہ''ٹھگوں کی بستی'' ہے جہاں بے چارے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا ہے،اس پر بھی طہٰ خان نے''ٹھگوں کی بستی'' کے عنوان سے کیا خوب کہا ہے کہ

اغوائیوں کی ٹولی بلوائیوں کا ٹولہ

''ہوشیار یار جانی یہ دشت ہے ٹھگوں کا''

جیبوں میں جھانکتے ہیں بندوں کو آنکتے ہیں

''یاں ٹک نگاہ چُوکی اور مال دوستوں کا''

صورتحال اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ مہمان نوازی کی روایت رکھنے والوں کے ہاں اگر غلطی سے مہمان''آدھمکے''(غریبی نے مہمان کی آمد کو بھی آدھمکنا بنادیا ہے)تو اس کے ہوش اڑجاتے ہیںاور وہ مہمان کو دیکھ کر ٹک ٹک دیدم،دم نہ کشیدم کی کیفیت سے دوچار ہو کر کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں کی تفسیر بن جاتا ہے۔

گھر بلا کر پپار سے بھوکا تجھے ٹرخادیا

رورہا ہوں مفلسی میں عشق فرمانے کے بعد

دو سموسے تھے مری جان دونوں میں نے کھالئے

''اک ترے آنے سے پہلے،اک ترے جانے کے بعد''

مہنگائی کے اس ہنگام اب کونسی چیز سستی ہے،یعنی پہلے وہ جو لوگ ایک روایتی جملہ ادا کر کے دل بہلالیا کرتے تھے کہ گوشت مہنگا ہے تو دال سبزی کھا کر گزارہ کرلیں گے مگر اب جبکہ ہر چیز کو آگ لگی ہے یعنی قیمتوںکو پر لگے ہیں توغریب یہی دعا کرنے پر بقول طہٰ خان مجبور ہیں کہ

کیا سنہرے دن تھے جب کھاتے تھے مرغی صبح وشام

اب کہاں سے کھائیں مرغی ویسی سستائی نہیں

یا الٰہی مرغیوں کو کوئی بیماری لگا

ایک مدت ہوگئی مرغی مگر کھائی نہیں

متعلقہ خبریں