Daily Mashriq


افغانوں کو پاکستان کا درست مشورہ

افغانوں کو پاکستان کا درست مشورہ

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ٗ طالبان سے مذاکرات میں پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے ۔ غیر ملکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی پالیسی پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان سے مذاکرات میں پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے۔ انہوںنے واضح کیا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ٗ افغانستان میں قیامِ امن کیلئے بالآخر افغانوں کو ہی بیٹھ کر مسئلہ کا حل نکالنا ہوگا۔ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کا مشورہ کوئی نیا مشورہ نہیں بلکہ پاکستان ہمیشہ سے افغان گروپوں اور افغان حکمرانوں پر یہ زور دیتا آیا ہے کہ وہ باہم معاملات کی اصلاح کیلئے مل بیٹھیں اور اغیار پر بھروسہ کرنے کی بجائے احباب سے مشاورت کریں افغانستان کا امن بیرونی قوتوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ افغانستان کا امن داخلی قوتوں اور گروپوں کے ہاتھ میں ہے اس وقت افغانستان میں جو بظاہر اور بباطن قوتیں سر گرم عمل ہیں اس کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ افغانستان کے عوام منقسم ہیں اور جب تک منقسم رہیں گے بیرونی قوتوں کے سامنے عاجز رہنا ہی ان کی مجبوری ہوگی جس دن وہ اس امر کا ادراک کرلیں کہ انہوں نے اپنے مسائل کا حل مل بیٹھ کر مفاہمت کی فضا میں خوش اسلوبی سے حل کرنا ہے اور اس ضمن میں وہ ایک دوسرے کو وقعت اور جگہ دینے کو تیا ر ہوں گے وہ دن افغانستان میں تبدیلی اور قیام امن و استحکام امن کا آغاز ثابت ہوگا۔ جب ایک مرتبہ افغانستان کے اندرونی گروپ مذکرات اور بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل کے حل کی طرف راغب ہوںگے اس کے بعد ہی دنیا ان کی مددکرنے اور ثالثی کے کردار کی ادائیگی پر سنجید گی سے آمادہ ہوگی، افغانوں کو طویل جنگ و جدل اور باہمی مخاصمت سے اب اکتا جانا چاہئے اور ان کو اس امر کا احساس وادراک کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر کب تک وہ خود اپنے ہاتھوں اپنے ملک و قوم کا نقصان کرتے رہیں گے۔ افغانستان میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی واقعہ رونما نہ ہوتا ہو گو کہ ہر بڑے واقعے کے بعد افغان حکام آنکھیں بند کرکے ایک ہی راگ الاپتے ہیں اور ان کو اس سے آگے دیکھنے کی توفیق نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود پاکستان نے بار ہا مختلف فورمز اور مواقع پر ان کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ افغانستان میں را کا وسیع نیٹ ورک نہ صرف پاکستان کیلئے خطرات کا باعث ہے بلکہ یہی نیٹ ورک افغانستان کے اندر عدم استحکام لا کر افغانستان کو پاکستان سے بد ظن کرانے کی سعی میں ہے۔ بھارت کا ایسا کرنے کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ وہ ان غلط فہمیوں کو مہمیز دے کر افغانستان کی سرزمین پاکستان کیخلاف آسانی سے استعمال کرتا رہے۔ بھارت کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان ضروری تعلقات بھی گوارا نہیں۔ ہمیں مل کر اس امر کا جائزہ لینا چاہئے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی سے کن ممالک کا مفاد وابستہ ہے اور اس کی آڑ میں کون اپنا الو سیدھا کرتا ہے۔ یہ حقیقت کوئی ایسی پوشیدہ اور پیچیدہ نہیں کہ اس کو جانچنے کیلئے کسی بڑے فلسفے اور دانش کی ضرورت ہو لیکن اس کے باوجود چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرنیوالے ملک ہی کے بارے میں عدم اعتماد کا اظہار سامنے آتا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی اور دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا ادراک نہ کیاگیا تو خدا نخواستہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان معمول کے پڑوسیوں کے تعلقات بھی شاید نہ رہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر دو جانب سے غلط فہمیوں کے ازالے اور اعتماد سازی کے اقدامات کرنا دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں پاکستانی حکومت اور وزارت خارجہ کو گوکہ مطعون کیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے بار بار مل کر افغانستان کو قائل کرنے کی سعی کی لیکن دوسری جانب سے درشت لب و لہجہ تبدیل نہیں ہوا۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ دونوں ممالک جغرافیائی اور علاقائی طور پر ا س قدر پیوست ہیں کہ ایک دوسرے پر ان کا دار و مدار بڑھ جانا فطری امر ہے۔ افغانستان کو اس ضرورت اور اہمیت کا احساس ہوتے ہوئے بھی وہ مشکل فیصلے کرکے پاکستا ن پر انحصار کم سے کم کرنے کی سعی میں ہے۔ یہ اتنی بڑی غلطی ہے جس کا افغانستان کو بعد میں احساس ہوگا۔ افغانستان میں داعش اور را کی ممکنہ ملی بھگت اور حالیہ کارروائی کے بعد تو افغانستان کی حکومت کا امن اور بقاء ہی خطرے میں دکھائی دیتا ہے ویسے بھی افغانستان کے ستر فیصد علاقے پر کابل کی حکمرانی نہیں اس نازک ترین موڑ پر افغانستان کو اس امر کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا کہ افغانستان میں موجود امریکہ اور اتحادی افواج پر انحصار اور بھروسہ کیا جائے یا پھر افغانستان کی داخلی قوتوں کو مضبوط اور یکجا کرکے بیرونی اثرات کا مقابلہ کیا جائے۔ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار سے افغان حکام کی معاملت ایک مثبت کاوش متصور ہوتی ہے لیکن افغانستان میں قیام امن کیلئے یہ کافی نہیں۔ افغانستان میں داخلی انتشار کے خاتمے کیلئے افغانستان کو اندرونی طور پر تمام افغان قوتوں سے معاملات طے کرنے ہوں گے جس کے بعد ہی افغانستان کی حکومت اس پوزیشن میں آئے گی کہ وہ غیروں کی بیساکھیوں کو اتار پھینکے۔ جس کا تقاضا یہ ہے کہ سارے ہم وطن کسی ایسے فارمولے پر اتفاق پیدا کر لیں کہ افغانستان میں ایک نمائندہ حکومت وجود میں آئے۔ جب تک افغانستان میں ایک مستحکم حکومت کا قیام عمل میں نہیں آتا اور وہ داخلی کشاکشی سے یکسو نہیں ہوتی تب تک قیام امن اور استحکام امن کی راہ ہموارہونا دشوار ہوگا۔

متعلقہ خبریں