Daily Mashriq


سیاست اپنی جگہ ، ذمہ داری بہر حال نبھانی ہوگی

سیاست اپنی جگہ ، ذمہ داری بہر حال نبھانی ہوگی

وزیر اطلاعات شاہ فرمان کا معصوم بچیوں کے قتل کے واقعات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے عمل کو افسوسناک قرار دیاجانا بجا ہے، اے این پی کے رویئے پر ان کی تنقید بھی جائز ہے لیکن اس سب کے باوجود تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس معاملے کو دبانے کی کوشش ہورہی ہے حل کرنے کے اقدامات میں کامیابی کی فی الوقت کوئی صورت نظر نہیں آئی اور نہ ہی ابتک کے حکومتی اقدامات کار گر نظر آتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس طرح کے واقعات صرف خیبر پختونخوا میں نہیں ہوتے ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن چونکہ اس وقت ان واقعات پر پنجاب کے بعد خیبرپختونخوا میں لوگوں کی توجہ ہے جس کے باعث حکومت اور پولیس دبائو میں ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ واقعات اب تک قصہ پارینہ بن چکے ہوتے ۔ مردان میں بچی کے قتل کے واقع پر پولیس کے کردار و عمل کا جو تذکرہ بچی کے دادا نے نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس سے اس کارکردگی کی نفی ہوتی ہے جس کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ دکھی خاندان کے زخموں پر میڈیا کے نمائندوں اور سیاسی عناصر کی نمک پاشی واقعی افسوسناک ہے لیکن کیا دکھی خاندان کو انصاف دلانے میں تاخیر اور ملزموں کی گرفتاری میں ناکامی اس سے زیادہ تکلیف دہ امر نہیں، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مقتولہ اسماء کے لواحقین کس جماعت اور گروپ کے احتجاج میں شریک ہوتے ہیں اور اس خاندان کا سیاسی مئو قف کیا ہے وہ جو بھی ہو مقتولہ کے قاتلوں کی جلد سے جلد گرفتاری بہرحال ان کا اولین مطالبہ ہے اور یہی حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے جسے نبھائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ صوبائی حکومت اور پولیس کیلئے تنقید سے خود کو بچانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ جلد سے جلد قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے اور غمزدہ خاندان کو انصاف دلایا جائے جب تک اس میں کامیابی نہیں ہوتی اس وقت تک تنقید کا ہونا فطری امر ہوگا ۔ جس پرصبر و تحمل سے کام لینا زیادہ بہتر اور مصلحت کا تقاضا ہوگا ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ خیبر پختونخوا میں جن واقعات کے باعث تنقید ہورہی ہے ان واقعات میں ملوث ملزمان زیادہ دیر قانون کی دسترس سے دور نہیں رہیںگے اور ان کو جلد سے جلد گرفتار کرنے کا عمل یقینی بنایا جائے گا ۔

کے پی میں بھی نسوار پر پابندی عائد ہونی چاہئے

پنجاب فوڈ اتھارٹی نے گٹکے اور نسوار کی فروخت پر پابندی کی حتمی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے چبانے والے تمباکو بشمول نسوار کے کاروبار سے منسلک افراد کو 31 مارچ 2018تک کاروبار کی منتقلی کی ہدایت کی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ پنجاب کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی نسوار ، سگریٹ ، پان ، گٹکا ، آئس، شیشہ اور ہر قسم کے نشہ آور ونیم نشہ آور اشیاء پر نہ صرف پابندی لگائی جائے بلکہ اس پر عملدر آمد کو سو فیصد یقینی بنا کر مثال قائم کی جائے۔ ہمارے ہاں نسوار کو تو مضر صحت اور مکروہ گردانا ہی نہیں جاتا اس نشے کے برے اثرات سے تو خانہ خدا بھی محفوظ نہیں جہاں نسوار استعمال کرنیوالے کسی شخص کیساتھ کھڑاہونیوالے نمازی کو ان کی بد بو دار سانسوں سے جو تکلیف پہنچتی ہے وہ ثواب کی جگہ عذاب کمانے کا ذریعہ بن جاتا ہے مگر کسی کو اس کا احساس نہیں اور نہ ہی علماء حضرات اس طرف توجہ مبذول کراتے ہیں اور اس طرف پوری طرح توجہ دلانے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ساڑھے پانچ لاکھ افراد تمباکو کے مختلف صورتوں میں استعمال سے متا ثر ہو رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی کے باعث اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیتے ہیں۔ا س صورتحال میں نسوار اور سگریٹ پر پابندی ہی موزوں فیصلہ ہوگا۔ عام مشاہدے کی بات ہے کہ چھوٹے چھوٹے لڑکے اور نوجوان نسوار خوری،سگریٹ نوشی کی بری عادت میں مبتلا ہیں۔ اصولی طور پر کسی دکاندار کو اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو سگریٹ فروخت نہیں کرنی چاہئے اس پابندی میں نسوار کی فروخت بھی شامل کی جائے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہاں سگریٹ تو کیا چرس‘ شراب‘ آئس اور ہر قسم کی نشہ آور اشیاء بہ آسانی دستیاب ہیں۔ باآسانی دستیابی کسی نشے میں اضافے اور اس کے عام ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ والدین اپنے بچوں اور سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ اپنے شاگردوں کو ہر قسم کے نشہ آور اشیاء سے بچنے کی برابر تلقین بھی کریں اور ان پر نظر بھی رکھیں۔

متعلقہ خبریں