زندگی بے بندگی

زندگی بے بندگی

ایک پاکستانی کی اوسط عمر پینسٹھ سال ہے۔ کچھ لوگ ساٹھ کے پیٹے میں داغ مفارقت دے جاتے ہیں، کچھ ستر میں اوربہت کم ایسے ہوتے ہیں جو اسی اور نوے کو پہنچ کر دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔ اس عمر عزیز کے ابتدائی پچیس تیس سال تعلیم کے حصول میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ لگ بھگ تیس سال کی عمر میں شادی ہوتی ہے، اکتیس بتیس سال کی عمر میں بچوں کی پیدائش کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو انسان ان کے بہتر مستقبل کی تگ ودو میں جت جاتا اور پیسہ کمانے کی مشین بن کر رہ جاتا ہے۔ چالیس پینتالیس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو بیوی فکر مندی ظاہر کرتی ہے کہ بچے جوان ہو رہے ہیں کل کو ان کی شادی بھی کرنی ہے، کب تک کرائے کے مکانوں میں خوار ہوں گے۔ کچھ فکر مکان بنانے کی بھی کیجئے کہ کرائے کے گھر میں رہے تو اچھے رشتے بھی نہیں ملیں گے۔ بچوں کی بھاری فیسوں کے بوجھ تلے دبا شخص جب بیوی کے اس مطالبے کے بوجھ تلے دبتا ہے تو مشین کی رفتار بڑھ جاتی ہے جس طرح اچانک صدمے یا خوف سے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔ جیسے تیسے کچھ سرمایہ اکھٹا ہوتا ہے تو مکان کا کام شروع ہوتا ہے اور اس گھر میں ابھی چند ہی برس ہوتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ زندگی کے پچاس برس گزر گئے۔انسان حیران وششدر ہو کر سوچتا ہے پچاس برس گزر گئے اور پتہ بھی نہ چلا؟ پتہ چلتا بھی تو کیسے کہ عمر عزیز کے سرمائے میں سے کچھ حصول تعلیم کی مد میں گیا، کچھ ازدواجی ذمہ داریوں کی تکمیل میں اور کچھ اس بھاگ دوڑ میں کہ مکان بنانا اور اس کیلئے سرمایہ اکھٹا کرنا ہے۔ پچاس کے بعد کے اگلے دس برس بچوں، بچیوں کی شادی کے لوازمات پورے کرنے پر خرچ ہو جاتے ہیں اور بچوں کی شادیوں سے فراغت ملتی ہے اور بہوئیں گھر آتی ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ بیٹیاں پرائی ہو گئیں اور بیٹوں کو بہوئیں لے اُڑیں۔جب یہ سب پیش آتا ہے تو انسان ایک بار پھر حیرت کی سولی پہ ٹنگا سوچ رہا ہوتا ہے کہ زندگی نے مجھے کیا دیا؟ بچوں کو پالا پوسا، انہیں اچھی تعلیم دلائی، ان کی شادیوں پر پیسہ پانی کی طرح بہایا لیکن مجھے کیا ملا؟ وحشت ناک تنہائی، نہ ختم ہونیوالی اُداسی اور موت کا راستہ دیکھتے زندگی کے آٹھ دس برس؟یہ ننانوے فیصد سے بھی زائد لوگوں کا المیہ ہے۔ قدرت کا لکھا سکرپٹ تھوڑے سے فرق کیساتھ ایک جیسا ہے اگر کوئی سمجھے تو۔ معمولی سا فرق وہاں دیکھنے کو ملتا ہے جہاں چند لوگ رشتوں کی زنجیر سے تھوڑا آگے نکل کر زندگی کی زکوٰۃ نکالتے اور پوری ایمانداری سے بانٹتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کی خوشی کا سامان کر کے خوش ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ اُداس بیٹھ کر اس بات کا انتظار کریں کہ بیٹے بیویوں سے فارغ ہو کر کچھ وقت انہیں خیرات کریں۔ ان کی زندگی کی صبحیں، دوپہریں اور شامیں دوسروں کیلئے بھاگتے دوڑتے یوں تمام ہوتی ہیںکہ وقت کا دامن بھی تنگ دکھائی دیتا ہے۔ ایک شخص وہ ہے جو ساری ذمہ داریاں پوری کر کے سارا دن بچوں کی عدم توجہی کا رونا روتا رہتا ہے اور رات کو ٹھیک سے سو بھی نہیں پاتا اور دوسرا وہ جو عبدالستار ایدھی کی طرح بڑھاپے میں بھی اللہ کے مجبور بندوں کیلئے دن رات بھاگ دوڑ کرتا اور اس سرشاری میں صبح سے شام کرتا ہے کہ اپنی آخرت کا زاد راہ اکھٹا کر رہا ہے۔آپ نے ایدھی صاحب کو کبھی اولاد کے شکوے شکایت کرتے نہیں دیکھا ہوگا۔ صدقہ جاریہ کا جو انبار اس نے اپنے پیچھے چھوڑا قیامت کی صبح تک اس کیلئے کافی ہے۔ اس کی اولاد کو چھت بھی میسر ہے دو وقت کی روٹی بھی اور وہ عزت بھی جو کروڑوں، اربوں خرچ کر کے بھی حاصل نہیں ہوتی۔کچھ روز ہوئے میں فارمیسی سے دوا لینے گیا۔ ایک ستر سال سے اوپر کا بزرگ سٹور کے مالک کو اپنی دکھ بھری کہانی سنا رہا تھا۔ کہہ رہا تھا کہ وہ اکیسویں گریڈ کا افسر تھا۔ بے شمار لوگ اسے خوش کرنے کیلئے آگے پیچھے پھرتے تھے۔ تین بیٹوں کو خوب مہنگے تعلیمی اداروں میں تعلیم دلائی۔ گریجویشن کے بعد تینوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے ملک سے باہر بھیجا۔ ڈگریاں لے کر آئے تو بڑی پوسٹوں پر فائز ہوئے۔ دھوم دھام سے ان کی شادیاں کیں، پھرایک ایک کر کے تینوں ملک سے باہر چلے گئے۔ اسلام آباد میں بنگلہ ہے، گاڑیاں ہیں لیکن اس بنگلے میں، میں اور میری بوڑھی بیوی نوکروں کے رحم وکرم پر ہیں۔ بیٹے کئی کئی سال بعد آب وہوا کی تبدیلی کیلئے پاکستان آتے ہیں۔ کبھی بچوں کو گھمانے مری لے جاتے ہیں، کبھی سوات اور کبھی لاہور۔ ان کی یہ سیر وتفریح ختم ہوتی ہے تو سامان سمیٹ کر واپس اپنے گھروں میں چلے جاتے ہیں۔ یہ بنگلہ میں نے انہی کیلئے بنایا تھا جو آج ان کیلئے ایک سرائے سے زیادہ کچھ نہیں۔ جوانی ان کیلئے بھاگ دوڑ میں گزری اور اب بڑھاپا ہے اورگزرے دنوں کی یادیں جب میرا ایک ایک لمحہ اپنے بچوں کی خاطر خدمت میں گزرتا تھا۔بزرگ کی باتیں سن کر میں تھرا گیا۔ گھر آکر پوری رات یہ سوچتا رہا کہ اگر بزرگ نے اچھی تعلیم کیساتھ ساتھ بچوں کو دوسروں کیلئے جینا بھی سکھایا ہوتا تو سب سے زیادہ اس تربیت کا ان کی اپنی ذات کو فائدہ ہوتا۔ ایک بزرگ کو کہتے سنا اسی سال کا ہوں پوری زندگی میں کوئی ایک شخص بھی نہیں دیکھا جو خدا کے راستے میں اپنا وقت اور سرمایہ خرچ کرتا ہو اور تنگدست ہوا ہو۔ بہت سے اور لوگ بھی یہی بات کہتے ہیں لیکن اکثریت آج بھی ایسے بخیلوں کی ہے جو کسی کیلئے وقت نکالتے ہیں نہ مجبور لوگوں پر پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ صرف اپنے لئے جیتے اور اپنی آل اولاد پر ہی خرچ کرتے ہیں۔ ان سب کا انجام کم وبیش ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ جس اولاد کیلئے بخل کرتے ہیں اسی اولاد کے ہاتھوں ذلیل ہوتے ہیں ہاں مگر وہ جو ایدھی جیسے ہوتے ہیں بڑھاپا بھی شان سے گزارتے ہیں اور قبر کی تاریکیوں میں اُترنے سے پہلے ہی اُجالا ان کا منتظر ہوتا ہے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ روز جیتے روز مرتے اس شخص کی طرح رو رو کر بڑھاپا گزارنا ہے جو ساری زندگی فقط اپنی ذات کا اسیر رہا یا اس شخص کی طرح جو دوسروں کی خاطر جیا اور مرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہا؟۔

اداریہ