Daily Mashriq


پھر وہی ہم ہیں وہی تیشہء رسوائی ہے

پھر وہی ہم ہیں وہی تیشہء رسوائی ہے

لگتی کہئے تو بات اتنی غلط بھی نہیں یعنی یہ جو پرویز خٹک نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن کے ہنگام خرید و فروخت کیلئے آنیوالے خالی ہاتھ جائیں گے، گویا انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ اس معاملے میں مقدر کا سکندر بس ایک ہی ہے اور اس مصرعے کی بھی یاد دلادی ہے جوخدا جانے کب سے ایک ضرب المثل کے طور پر رائج ہے یعنی 

سکندر جب گیا دنیا سے دونوں ہاتھ خالی تھے

اگرچہ شاعر نے سکندراعظم کی دنیا سے رخصت ہونے کے بارے میں خود سکندر اعظم ہی کی وصیت کو موضوع سخن بنایا ہے کیونکہ دنیا کی بے ثباتی دیکھ کر اور نصف سے زیادہ دنیا کو فتح کر کے اپنی ملکیت بنانے کے باوجود جب سکندر نے محسوس کیا کہ اتنی دولت اور دنیا جمع کرنے کے باوجود وہ موت کا کوئی علاج دریافت کرسکا نہ ہی زندگی کا مزید ایک لمحہ حاصل کرنے میںکامیاب ہورہا ہے تو اس نے حکم دیا کہ اس کے جنازے کو لیجاتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ کفن سے باہر نکال کر دنیا کی کم مائیگی کے بارے میں لوگوں کو بتا دیا جائے۔ تاہم جہاں سکندر کا جنازہ دنیا کیلئے عبرت کی نشانی بن گیا وہیں دنیا میں ’’بہت کچھ ‘‘سمیٹ لینے والوں کو ایک اور محاورے کے مطابق مقدر کا سکندر بھی کہا جاتا ہے، اس نکتے پر اگر غور کیا جائے تو مقدر کا سکندر ایک تو مولانا سمیع الحق قرار پائے ہیں جو نہ صرف اپنے دارالعلوم کیلئے کروڑوں کی امداد سمیٹ کر خوش ہیں بلکہ اب تحریک انصاف نے انہیں سینیٹ کیلئے کنفرم ٹکٹ دے کر خوش وخرم بنا دیا ہے۔ اب اگر وہ ایم ایم اے کا حصہ بننے سے جان چھڑارہے ہیں تو اس کی وجہ بھی سامنے آہی گئی ہے، اگرچہ وہ پہلے بھی سینیٹر رہے اور ان کے فرزندارجمند قومی اسمبلی کے ممبر ہیں ۔ لیکن ایم ایم اے کی جڑوں میں پانی دینے کیلئے پرویز خٹک نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے شاید اس میں بھی مولانا کی مشاورت کا بڑا حصہ ہو، یعنی خیبر پختونخوا میں اوقاف کے زیر انتظام مساجد کے پیش امام صاحبان کو ماہانہ اعزازیہ دینے کا اعلان کر کے خود بھی مقدر کا سکندر بننے کی کوشش ہے اور سیاسی مخالفین کو مقبول عام مرحوم کا یہ شعر پڑھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ

پھر وہی ہم ہیں وہی تیشہ رسوائی ہے

دودھ کی نہر تو پرویز کے کام آئی ہے

اب اس کے بعد پرویز خٹک کی تازہ وارننگ یا تنبیہ ان لوگوں کیلئے ہو سکتی ہے جو دولت کے بل پر سینیٹ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کی سوچ لئے لنگر لنگوٹ کس کر انتخابی میدان میں اترنا چاہتے ہیں اور بطور آزاد اُمیدوار سامنے آرہے ہیں۔ یوں ان کو مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ کم از کم (بقول پرویز خٹک) ان کیلئے ان تلوں (پی ٹی آئی ممبران) میں تیل نہیں اور بہتر ہوگا کہ وہ اپنے ٹٹو یا توچھاویں بنیں یا پھر کسی اور استھان کا رخ کرین یعنی کہیں ایسے گھوڑے تلاش کرلیں جن کی ’’ٹریڈنگ ‘‘ آسان ہو ۔ تاہم اس ضمن میں پرویزخٹک جس خوش فہمی کا شکار ہیں ہمیں نہیں لگتا کہ ان کے دعوے سو فیصد درست ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ جو لوگ لاکھوں کروڑوں کے اخراجات کر کے اسمبلی میں پہنچے ہیں اور آئندہ بھی الیکشن میں اُترنا چاہتے ہیں انہیں ممکنہ اخراجات پورے کرنے کیلئے بھی تو اپنے حصے کے ’’دودھ ملائی ‘‘ کی ضرورت ہوگی اور اگر کسی کا یہ خیال ہو کہ گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران ترقیاتی فنڈز پر تصرف سے انہیں مزید’’ دودھ بالائی‘‘ کی ضرورت نہیں ہوگی تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے ۔ ویسے بھی پانچ سالہ مدت کے دوران یہی دو مواقع تو ہوتے ہیں جب سینیٹ کے الیکشن میں ’’سیاسی گھوڑوں کی منڈیاں‘‘ سجتی ہیں تو پھر اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے زیادہ اشنان کرنے کو کس کا جی نہیں چاہتا بلکہ تازہ صورتحال جو سیاسی سطح پر بھونچال اُبھارنے کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے تحریک کے سربراہ عمران خان کے خیبر پختونخوا کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے مبینہ طور پر غیر قانونی استعمال کا معاملہ اور نہ صرف عمران خان بلکہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ابرارالحق بھی اس ’’شیر مادر‘‘ کو ہڑپنے میں شامل رہا ہے اور عمران خان کیخلاف تو چیئرمین نیب نے انکوائری شروع کرنے کا حکم دے دیا ہے جبکہ ممکن ہے دیگر افراد کو بھی اس کیس میں شامل انکوائری کیا جائے۔ اگرچہ اتوار کے اخبارات میں ترجمان صوبائی حکومت نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہیلی کاپٹرز کا صرف ناگزیر سرکاری ضرورت کیلئے استعمال کیا گیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کس حیثیت سے صوبہ خیبر پختونخوا کے منصوبوں کا افتتاح کرتے رہے اور ان کے نام کی تختیاں ان منصوبوں پر لگائی گئی ہیں، وہ اگر پارٹی کے سربراہ ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں بنتا کہ انہیں کسی بھی سرکاری منصوبے کے افتتاح کا لائسنس عطا کر دیا گیا ہے، وہ اگر صوبے کی حکومت کا حصہ ہوتے تو کوئی جواز بھی تھا، مگر ان کا شناختی کارڈ پنجاب کا ہونے کے ناتے وہ کسی بھی صورت خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت کے عہدے دار نہیں بن سکتے اور یوں انہیں یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ صرف پارٹی سربراہ ہونے کے ناتے وہ یہاں کے منصوبوں کے افتتاحی تقاریب میں مہمان خصوصی بن کر افتتاحی تختیوں کی نقاب کشائی کرتے پھریں اور جب نیب نے ہیلی کاپٹرز کے غیر قانونی استعمال کے حوالے سے ان کیخلاف انکوائری کا حکم دیا تو فرمایا کہ ’’میں بڑا خطرناک ہوں، بہت برا ہوں‘‘ بہرحال اس صورتحال پر اشکر فاروق کا شعر ضرور یاد آگیا ہے کہ

خطیب شہر کی جنگ اب امیر شہر سے ہے

سو دیکھنا ہے کہانی کدھر کو جاتی ہے

متعلقہ خبریں