حالات جتنے بھی مشکل ہوںہمت سے کام لینا چاہیئے

حالات جتنے بھی مشکل ہوںہمت سے کام لینا چاہیئے

نوجوانوں کے حوالے سے گزشتہ کالم کا ردعمل حوصلہ افزا ہی نہیں بھرپور تھا۔ لاتعداد برقی پیغامات کی روشنی میں آج کا کالم بھی اُمنگوں سے بھرپور لوگوں کے حوالے سے لکھنے کا ارادہ تھا لیکن دو ایسے نوجوانوں کے حوالے سے خط اور برقی پیغام موصول ہوئے کہ دکھی جذبات کیساتھ ان کو موضوع بحث بنانا پڑ رہا ہے۔ لیبیا میں کشتی کے حادثے میں نوجوانوں کی ہلاکت کا تو آپ کو علم ہی ہے اسی طرح کے ایک نوجوان کے بھائی کا خط موصول ہوا ہے۔ یہ نوجوان تلاش روزگار کیلئے ترکی گیا تھا۔ عبدالکریم لکھتے ہیں کہ ان کا چھوٹا بھائی عبدالنقیب ولد عبدالنعیم‘ شناختی کارڈ نمبر 17301-0 941165-7 پاسپورٹ نمبر AH-9331651‘ سکنہ پجگی‘ ڈاکخانہ تیرائی پایان‘ تحصیل وضلع پشاور، ترکی سے22 مئی2017ء کو ڈیپورٹ ہوا۔ میرے بھائی کا سامان بیگ وغیرہ ابھی تکFIA تھانہ میں پڑا ہوا ہے۔ وہ عدالت سےFIA دفتر جاتے ہوئے عدم پتہ ہوگیا ہے۔ ہم پانچ ماہ سے مسلسل گجرانوالہ کے تمام تھانوں اور ایدھی سینٹرز کا ہزار چکر لگا چکے ہیں جبکہ کورکمانڈر پشاور‘ ڈی جی ایف آئی اے اسلام آباد‘ ڈی جی پنجاب پولیس‘ ڈی جی آئی ایس آئی اسلام آباد اور آرمی چیف کو 25 جولائی2017ء کو بذریعہ خط آگاہ بھی کر چکے ہیں، TCS کی رسیدیں میرے پاس موجود ہیں لیکن ابھی تک کسی جگہ سے بھی دادرسی نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی رابطہ ہوا یا جواب آیا ہے۔ جو صورتحال بیان کی گئی ہے اس میں اہل خاندان کی شدید پریشانی فطری امر ہے۔ گمشدگی کے دیگر واقعات کی طرح یہ واقعہ بھی اہل خاندان کیلئے بالخصوص اور اہل وطن کے سینے پر بالعموم ایک اور بوجھ کا اضافہ ہے۔ اس طرح کے پراسرار واقعات کے بارے میں اندازے سے کسی امر کا اظہار موزوں نہیں، سوائے اس کے کہ اگر کسی حکومتی ادارے نے ان کو تحویل میں لے رکھا ہے اور اب تک کی ممکنہ تحقیقات کے مطابق عبدالنقیب کیخلاف کچھ ثابت نہیں ہوا ہے تو اسے چھوڑ دیا جائے اور اگر وہ کسی مشکوک سرگرمی میں ملوث رہا ہے تو کم ازکم ان کے اہل خاندان کو اندھیرے میں نہ رکھا جائے اور قانون کے تقاضے پورے کئے جائیں۔

ایک معذور نوجوان فاروق نے معذور افراد کے تعلیمی‘ معاشرتی اور معاشی مسائل پرکالم لکھنے اور حکومتی اداروں کی بے حسی کا تذکرہ کرنے کا کہا ہے۔ ان کا حکم سر آنکھوں پر لیکن اس بے حس معاشرے‘ بے حس حکومت اور بے حس حکمرانوں کے سامنے کیا فریاد کی جائے۔ معذور افراد ہمارے معاشرے کا سب سے قابل توجہ حصہ ہونا چاہئے لیکن ان سے جھوٹی ہمدردی کے اظہار کے علاوہ عملی طور پر کسی بھی سطح پر ان کیلئے کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ معذوری کی زندگی کی مشکلات کا ہم ناشکرے شاید اندازہ بھی نہ لگا سکیں۔ تعلیم‘ معاشرے میں عزت وتکریم اور روزگار سمیت تمام شعبوں اور مواقع پر معذور افراد کو اولیت دینا ہی ان کا حق ہے مگر یہاں ان کو خصوصی افراد کا نام دینے پر ہی اکتفا دکھائی دیتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ ان سے تحریر وتقریر میں نمائشی ہمدردی جتائی جاتی ہے جو بس اس وقت کی تحریر وتقریر کی حد تک ہی رہتی ہے۔ مہذب معاشرے کی طرح ان کو حقوق دینا ان کی ضروریات ومشکلات کا خیال رکھنا ہمارا فرض تو ہے لیکن اس فریضے کی ادائیگی کی نوبت کبھی نہیں آتی۔
صوابی سے میری بہن شائستہ خان نے جو پیغام دیا ہے اس سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا موصوفہ لکھتی ہیں کہ پختونخوا میں خواتین اساتذہ سے پولیو کے قطرے پلوانے کی ڈیوٹی لی گئی جو کہ ان کے خیال میں خواتین اساتذہ کی بے عزتی ہے اور اس سے سکولوں میں بچیوں کی تعلیم کا بھی حرج ہوتا ہے۔ ذاتی طور پر اگر شائستہ خان اس ڈیوٹی کو اچھا نہیں سمجھتی تو یہ ان کا حق بنتا ہے لیکن سرکاری ملازمت میں سب کچھ مرضی سے کرنا ممکن نہیں۔ میں خود ایک خاتون ہوں اور سرکاری فرائض کی ادائیگی کیلئے پشاور‘ لاہور اور کوئٹہ تک جانا پڑتا ہے جس سے نہ صرف مجھے، میری فیملی اور خاص طور پر بچوں کی تعلیم پر اثر پڑتا ہے۔ پولیو کے قطرے پلانا ایک قومی فریضہ ہے اور کار ثواب ہے اسے اسی جذبے کے تحت انجام دینا چاہئے۔قارئین کے ذریعے اس کالم کی وساطت سے ملنے والے آئے روز سامنے آنیوالے مسائل سے آگاہی حاصل کر کے اس امر کا اندازہ ہوتا ہے کہ مسائل ومشکلات عام طور پر ہمارے محسوسات سے کہیں زیادہ اور بڑھ کر ہیں ملکی وسائل اور حکمرانوں کی عملی خلوص وکارکردگی کو مدنظر رکھ کر دیکھا اور سوچا جائے تو یہ کسی طور ممکن نظر نہیں آتا کہ صورتحال کسی حوصلہ افزاء طرف کروٹ لے لیکن ضروری نہیں کہ ہماری سطح بینی ہی حقیقت ہو اور ہم یونہی کڑھتے اور مسائل ومشکلات میں گھرے رہیں۔ اگر ہمارے نوجوان خاص طور پر اس امر کا ادراک کریں کہ ان کے مسائل کے حل پر حکمرانوں کی زیادہ توجہ نہیں رہے گی مشاہدے کی بات ہے کہ ہمارے ہاں ہر حکمران جماعت اپنے سے وابستہ نوجوانوں کو ہی حقدار سمجھتی ہے اور سیاسی بنیادوں پر سرکاری ملازمتیں بانٹی جاتی ہیں۔ یہ ساری صورتحال اس امر کا متقاضی ہے کہ نوجوان حرکت میں برکت والا فارمولہ اپنائیں۔ ہنر سیکھیں ہنرمند بنیں اور ہنرمندی کیساتھ اپنے ملک وقوم کی خدمت کریں۔ جو نوجوان وسائل لگا کر غیر قانونی طور پر ملک سے باہر جانے کی سوچ رکھتے ہیں وہ عبرت پکڑیں اور باز آجائیں۔ یاد رکھیں کہ بنیاد ٹیڑھی رکھ دی جائے تو دیوار کبھی سیدھی نہیں ہو سکتی۔ راست کاری اپنائیں اور راست طریقے سے روزی کمائیں اور پھلیں پھولیں۔
نوٹ: قارئین اس ہفتہ وار کالم میں اپنی شکایات 03379750639 پر میسج اور واٹس ایپ کر سکتے ہیں۔ روزنامہ مشرق بلال ٹائون جی ٹی روڈ پشاور کے پتے پر بھی بھجوا سکتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی آراء اور جوابی وضاحت کا خیر مقدم کیا جائیگا۔

اداریہ