Daily Mashriq


امریکہ کی افغان پالیسی اور پاکستان

امریکہ کی افغان پالیسی اور پاکستان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پالیسی بیان سے لے کر اعترافی ٹویٹ اور پھر ٹویٹ سے لے کر اپنے اقتدار کا ایک سال مکمل ہو نے پر امریکی کانگرس میں سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں جو کچھ ٹرمپ نے کہا اس میں ہمارے لئے بہت سی نشانیاں ہیں لیکن ہمیں فکر کرنے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ نشانیاں عقل والوں کے لئے ہوتی ہیں۔بات کولیشن سپورٹ فنڈ کی ہو، طالبان کے خاتمے کی یا کابل حکومت کے استحکام کی۔ امریکی تان ہمیشہ اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ پاکستان کو جو کرنا چاہئے وہ نہیں کر رہا۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے ڈومور سن سن کر کان پک گئے ہیں۔ ستر برس میں ہم یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ ہم نے امریکہ کے ساتھ چلنا ہے یا ہمارا راستہ الگ ہوگا۔تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جب بھی امریکہ ہمارا بازو مروڑتا ہے ہمیں اپنی قربانیاں یاد آجاتی ہیں اور ہم اپنی خدمات گنوانے لگ جاتے ہیں۔ ٹرمپ بھی کیا شاندار شخصیت ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ امریکہ کی تاریخ میں اس کا نام نمایاں ترین حروف میں لکھا جائے گا۔ ہم اسے لاکھ برا بھلاکہیں لیکن امریکہ کے لئے وہ ایک اچھا صدر ثابت ہو رہا ہے۔ پوری د نیا کا میڈیا ہیلری کی جیت کے تجزیے کر کر کے بیحال ہورہا تھا لیکن ٹرمپ کی جیت کا اعلان سن کر خود ہیلری کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں داخل ہوا ہی تھا کہ اس کے مواخذے کی پیش گوئیاں شروع ہوگئیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی تاریخ میں ٹرمپ وہ پہلا صدر ہے جس نے ایک سال کے دوران سب سے زیادہ روزگار کے مواقع پید اکئے ہیں۔ اب اگر امریکی قوم اس قدر بے وقوف ہے کہ اسے گھر بھیجنے کے لئے اتاولی ہوئی پھر رہی ہے تو مجھے نہیں معلوم۔حقانی نیٹ ورک کے دہشتگردوں کو پناہ دینے اور پاکستان کے لئے امریکی امداد روکنے بارے ٹرمپ کی ٹویٹ پر پاکستان میں تنقید۔ تبصرے۔ تجزیے اور پیش گوئیاں سب کچھ ہو الیکن جو کام کرنے کا تھا یعنی عملی اقدام وہ نہیں ہو سکا۔ ملکوں کے معاملات اور بین الاقوامی تعلقات میں دوستیاں بھی مفادات کے تابع ہوتی ہیں سو امریکہ کا جب تک مفاد رہا وہ حقانی نیٹ ورک سمیت سارے افغان مجاہدین کو نہ صرف پیٹ بھر کر کھلاتا رہا بلکہ ان کو عسکری لحاظ سے بھی طاقتور بناتا گیا۔ لیکن افغانستان میں روس کی شکست کے بعد افغانستان کے یہ مجاہدین آزادی امریکہ کے لئے تو دہشت گرد بن گئے لیکن پاکستان کا مفاد کچھ اور تقاضا کر رہا تھا۔بھارت اور امریکہ سمیت ہر طاقتور ملک اپنے مفادات کے حصول کے لئے نان سٹیٹ ایکٹرز کو پالتا پوستا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ ان چیزوں کو منظر عام پر نہیں آنے دیتے اور نہ ہی اس کو اپنی پالیسی کے طور پر تسلیم کرتے ہیں (ریمنڈ ڈیوس اور کلبھوشن یادیو اس کی واضح مثالیں ہیں) یہ درست ہے کہ ان کی طاقت نے ان کے عیب چھپا رکھے ہیں لیکن ہم بھی اتنے کمزور تو نہیں کہ ستر ہزار جانیں قربان کرنے کے بعد بھی اس عظیم قربانی کا پھل کسی اور کو کھانے دیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اتنی قربانیوں کے باوجود آج بھی ہم بداعتمادی اور دھوکے کی مثال کے طورپر پیش کئے جاتے ہیں۔ اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود افغانستان میں ستر فیصد رقبے پر (بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق)طالبان کا قبضہ ہے لیکن ہمارے سفارتی ماہر دنیا کو تو چھوڑیں امریکہ کو یہ کہنے کی جسارت نہیں کر سکتے کہ جناب حقانی نیٹ ورک کی بات تو کرو لیکن اپنی کارکردگی کی کبر بھی لو۔ بین الاقوامی تعلقات اور سیاسیات کا طالب علم ہونے کے ناطے سچی بات یہ ہے کہ مجھے تو اب خوف آنے لگا ہے۔ ٹرمپ کی موجودہ افغان پالیسی کا لب لباب یہ ہے کہ بھارت کو افغانستان میں حکومتی استحکام کے لئے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ افغانستان میں اس کے مفادات پیدا ہوں جن کے تحفظ کے لئے بھارت کی وہاں موجودگی کا جواز پید اکیا جا سکے۔ صدر ٹرمپ اپنے انتخابی وعدے کے برعکس افغانستان سے فوجیں نکالنے کی بجائے اپنے جرنیلوں کے مشورے پر مزید امریکی فوجی افغانستان بھیج رہا ہے۔ اور اس پالیسی کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان اگر حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھرپور کارروائی نہیں کرتا تو پاکستان میں موجود دہشتگردوں کی پناہ گاہوں پر حملے امریکہ خود کرے گا۔ اس آخری نقطے پر اگر کوئی IDEALISTمجھے مطعون کرنا چاہے تو شوق سے کرے لیکن دو مئی کے ایبٹ آباد اورسلالہ چیک پوسٹ حملوں کو ضرور ذہن میں رکھے۔ ایک طرف امریکی حملوں کا خطرہ ہے تو دوسری طرف ہمارے سیاستدان ہیں جو ان حالات سے بے خبر دست و گریباں ہیں۔ میاں نواز شریف کی طرف سے ووٹ کی حرمت کا سوال اپنی جگہ مقدس لیکن مجھے اگر ان کے خلوص کے مستقل اور پائیدار ہونے کا یقین ہوتا تو میں دل وجان سے ایک بار پھر شیرکا نعرہ لگاتا۔ رہے عمران خان تو ان کی پالیسی ون لائنر ہے۔کہ انہین ہر صورت اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا جائے۔ میں تو حیران ہوں کہ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔

متعلقہ خبریں