دھویں کی چادر میں لپٹا ہوا پشاور

دھویں کی چادر میں لپٹا ہوا پشاور

پشاور میں داخل ہوں تو ٹریفک کے ایک بے ہنگم ہجوم سے واسطہ پڑتا ہے جو بغیر کسی سیلاب کے خود ایک بہت بڑے سیلاب کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہے۔ گنج چوک ہو یا لاہوری گیٹ، رامداس چوک ہو یا ڈبگری بازار، ہر جگہ ٹریفک جام کے نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ چوک یادگار اور شعبہ بازار پشاور کے مصروف ترین بازار ہیں جہاں روزانہ کروڑوں روپوں کا کاروبار ہوتا ہے۔ چوک یادگار کے پہلو میں سنار ایک تنگ سے بازار میں اپنی دکانیں سجا کر بیٹھے ہوئے ہیں جسے اندر شہر بازار کہا جاتا ہے۔ جس دکاندار کو دیکھئے اس نے اپنی دکان کو بازار کے سینے پر پھیلا کر راہگیروں کا راستہ روک رکھا ہے اگرچہ تجاوزات کیخلاف آپریشن کے بعد صورتحال کسی حد تک بہتر ہوگئی ہے لیکن دکاندار اپنی حد سے باہر نکلنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔ اس بازار سے باہر نکلئے تو پشاور کا تاریخی ہسپتال لیڈی ریڈنگ سامنے ہی موجود ہے۔ اس ہسپتال کے سامنے ٹریفک کا اژدھام دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ چارسدہ سے ایمبولنس کو پشاور پہنچنے میں اتنا وقت نہیں لگتا جتنا ہسپتال کے سامنے موجود چوک میں ٹریفک کے ہجوم میں سے نکلنے میں لگتا ہے۔ ٹریفک پولیس وہاں بڑی چابکدستی سے اپنے فرائض سرانجام دیتی نظر آتی ہے لیکن گاڑیوں کی کثیر تعداد کے سامنے ان کی ایک نہیں چلتی۔ ہسپتال کے سامنے کچھ فاصلے پر واقع فرنٹیر گرلز کالج کی چھٹی کے وقت طالبات کو لانے لیجانے والی گاڑیوں اور رکشوں کے ہجوم کی وجہ سے یہاں حشر کے میدان جیسا سماں ہوتا ہے۔ پریشان طالبات اپنی گاڑیوں میں بیٹھی ٹریفک کھلنے کے انتظار میں ہلکان ہو جاتی ہیں لیکن ٹریفک کھلنے کا نام نہیں لیتی۔ والدین الگ سے پریشان کہ کب یہاں سے جان چھوٹے تو وہ اپنے گھر کو سدھاریں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے پہلو میں پشاور کا قدیمی فارورڈ ہائی سکول واقع ہے۔ اس کے گیٹ کے سامنے گاڑیوں کی طویل قطاریں کھڑی نظر آتی ہیں۔ چوک یادگار، جناح پارک، خیبربازار کی طرف سے آنیوالی ٹریفک کی وجہ سے سکول کے دروازے سے نکل کر بالکل سامنے اندر شہر بازار میں داخل ہونا طالبات کیلئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ سکول کے ملازمین بچوں اور بچیوں کی طویل قطاریں بنا کر کھڑے رہتے ہیں۔ جب ٹریفک کا سپاہی ایک سمت سے آنیوالی ٹریفک کو روکتا ہے تو بچوں کی قطاریں سڑک پار کرتی نظر آتی ہیں، ٹریفک کے سپاہی کیلئے ٹریفک بند کرنا زیادہ دیر تک ممکن نہیں ہوتا اسلئے ہر تھوڑی دیر بعد اسے ٹریفک کھولنی پڑتی ہے اور طالبات کو انتظار کے اذیت ناک لمحات سے گزرنا پڑتا ہے۔پشاور کے مشہور شاہی باغ کی طرف جایئے تو اس کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مالیوں کی کثیر تعداد کے باوجود اس کے چمن اُجڑتے چلے جارہے ہیں۔ کچھ عرصہ تو ٹریفک پولیس نے وہاں قبضہ جمائے رکھا اب وہاں ٹریفک پولیس کے ارباب اختیار نظر نہیں آتے شاید ٹریفک پولیس نے یہ سوچ کر شاہی باغ پر ہلہ بول دیا ہوگا کہ شاہی باغ میں دفاتر تعمیر ہو رہے ہیں اس کے چمن اور باغیچے اُجڑ چکے ہیں وہاں سبزے کا نام ونشان تک نہیں رہا۔ اس کا پرسان حال ہی کوئی نہیں ہے تو پھر ہمارا کیا قصور ہے؟ یہ وہی شاہی باغ تھا جہاں پھولوں کی بہتات تھی۔ ہرے بھرے چمن تھے۔ کھیل کے سرسبز میدان ہوا کرتے تھے۔ انہیں باقاعدگی کیساتھ پانی دیا جاتا تھا۔ فٹبال، کرکٹ، ہاکی کیلئے مختلف میدان تھے۔ شاہی باغ پشاور نوجوان کھلاڑیوں کی جنت تھا، عصر کے وقت یہ میدان آباد ہو جاتے۔ جس میدان کی طرف نظر اُٹھتی کھلاڑی مختلف کھیل کھیلتے نظر آتے۔ چارسدہ روڈ کی طرف سے شاہی باغ میں داخل ہوں تو بائیں ہاتھ پر موجود فٹ بال کھیلنے کیلئے ایک گراؤنڈ ہوا کرتا تھا جس کے ایک کونے میں پہلوانوں کا ایک اکھاڑا ہوا کرتا تھا۔ نگاہ حسین پہلوان اس اکھاڑے میں نوجوان پہلوانوں کو زور کروایا کرتے تھے۔ اُستاد اکھاڑے سے باہر بیٹھ کر ان پہلوانوں کی نگرانی کرتے، انہیں مختلف داؤ پیچ سکھاتے۔ خود بھی اکھاڑے میں اُتر کر انہیں عملی طور پر کشتی کے اسرار ورموز سکھاتے۔ پاکستان میں کشتی کا فن اس دن دم توڑ گیا تھا جب جاپان سے آنیوالے پہلوان انوکی نے رستم زماں گاماں پہلوان کے خاندان کے چشم وچراغ اکرم عرف اکی پہلوان کو چند لمحوں میں چت کر دیا تھا۔ ہم کھیل کے میدان اجاڑتے رہے تو وہ کھیل بھی ہم سے روٹھ گئے جو کبھی ہماری پہچان ہوا کرتے تھے۔ اقرباء پروری کی آندھیاں ہمیں لے ڈوبیں۔ ہم نے ہر جگہ میرٹ کو نظرانداز کیا اور اپنے منظور نظر لوگوں کو آگے لاتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے کھیل کے میدانوں میں بڑی محنت سے حاصل کی گئی عزت وآبرو کو کھو دیا۔ بات ہو رہی تھی پشاور کے باغات کی۔ یہی شاہی باغ تھا جہاں طلبہ امتحانات سے پہلے اس کے خاموش اور پرسکون باغیچوں میں بیٹھ کر مطالعہ کیا کرتے تھے لیکن اب سب کچھ اُجڑ چکا ہے۔ ہم نے باغات کی دیکھ بھال جیسے اہم فریضے کو فراموش کر دیا تو ہمارے پیارے شہر پشاور کی فضائیں گرد آلود ہوتی گئیں۔ ہم پشاور کی ٹریفک کیلئے مناسب انتظام نہیں کر سکے۔ ہماری ٹریفک پولیس رکشوں کی تعداد کو بڑھنے سے نہ روک سکی جس کی وجہ سے پشاور کے باسیوں کی زندگی اجیرن ہوتی چلی گئی۔ باغات اُجڑ چکے ہیں جس کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے ہسپتال آباد ہوتے گئے مریضوں کی تعداد بڑھتی گئی، پشاور میں میڈیکل پلازے تعمیر ہوتے چلے گئے، دوائیوں کی کمپنیوں کا کاروبار روزبروز پھیلنے لگا۔ اس وقت میڈیسن کا کاروبار ایک بہت بڑی صنعت کا روپ دھار چکا ہے۔ پشاور کیساتھ محبت کے دعوے تو سب نے کئے لیکن عملی اقدامات بہت کم اُٹھائے گئے۔

اداریہ