مشرقیات

مشرقیات

حضرت حسان بن عطیہؓ کہتے ہیں جب حضرت عمر بن خطابؓ نے حضرت معاویہؓ کو ملک شام کی گورنری سے معزول کیا تو ان کی جگہ حضرت سعید بن عامر بن خدیم جمحیؓکو بھیجا۔ وہ اپنی نوجوان بیوی کو بھی ساتھ لے گئے جو بہت خوبصورت اور قریش قبیلہ کی تھی۔ تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ فاقہ اور سخت تنگی کادور شروع ہوگیا۔ حضرت عمرؓ کو اس کی اطلاع ملی تو انہوں نے ان کے پاس ایک ہزار دینار بھیجے۔ وہ ہزار دینار لے کر اپنی بیوی کے پاس گھر گئے اور اس سے کہا‘ تم جو یہ دینار دیکھ رہی ہو یہ حضرت عمرؓ نے بھیجے ہیں۔ اس نے کہا‘ میرا دل یہ چاہتا ہے کہ آپ ہمارے لئے سالن کا سامان اور غلہ خرید لیں اور باقی دینار سنبھال کر رکھ لیں‘آئندہ کام آئیں گے۔ حضرت سعیدؓ نے کہا‘ میں تمہیں اس سے بہتر صورت نہ بتا دوں؟ کہ ہم یہ مال ایک تاجر کو دے دیتے ہیںجو اس سے ہمارے لئے تجارت کرتا رہے‘ ہم اس کا نفع کھاتے رہیں اور ہمارے سرمائے کی ذمہ داری بھی اس پر ہوگی۔ بیوی کے رضا مند ہونے پر انہوں نے سالن کا سامان اور غلہ خریدااور دو اونٹ اور دو غلام سب کچھ مسکینوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کردیا۔ کچھ ہی عرصہ کے بعد ان کی بیوی نے ان سے کہا کھانے پینے کا سامان ختم ہوگیا ہے‘ آپ اس تاجر کے پاس جائیں اور جو نفع ہواہے اس میںسے کچھ لے کر ہمارے لئے کھانے پینے کا سامان خرید لیں۔ حضرت سعیدؓ خاموش رہے۔ اس نے دوبارہ کہا۔ یہ پھر خاموش رہے۔ آخر اس نے تنگ آکر ان کو ستانا شروع کیا۔ اس پر انہوں نے دن میں گھر آنا چھوڑ دیا صرف رات کو گھر آتے۔ ان کے گھر والوں میںایک آدمی تھا جو ان کے ساتھ گھر آیا کرتا تھا۔ اس نے ان کی بیوی سے کہا تم کیا کر رہی ہو؟ تم ان کو بہت تکلیف پہنچاچکی ہو۔ وہ تو سارا مال صدقہ کرچکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت سعیدؓ کی بیوی کو سارے مال کے صدقے کرنے پر اتنا افسوس ہوا کہ وہ رونے لگی۔ ایک دن حضرت سعیدؓ اپنی بیوی کے پاس گھر آئے اور اس سے کہا‘ ایسے ہی آرام سے بیٹھی رہو۔ میرے کچھ ساتھی تھے جو تھوڑا عرصہ پہلے مجھ سے جدا ہوگئے ہیں (اس دنیا سے چلے گئے ہیں) ۔ اگر مجھے ساری دنیا بھی مل جائے تو بھی مجھے ان کا راستہ چھوڑنا پسند نہیں۔ (اخرجہ ابو نعیم)
حضرت جابرؓ لکھ پتی صحابہ میںسے ہیں۔ ایک دن گھر میںتشریف لائے تو اہلیہ محترمہ نے دیکھا کہ کچھ غمگین اور اداس ہیں۔ پوچھا کہ آج آپ اداس کیوںہیں؟ فرمایا کہ خزانے میں روپیہ زیادہ جمع ہوگیا ہے‘ دل کے اوپر بوجھ پڑ رہا ہے کہ اتنی خرافات کہاں میرے سر پر لد گئی۔ اس کی وجہ سے غمگینی ہے۔ بیو ی بھی صحابیہ تھیں۔ انہوں نے کہاکہ پھر غم کی کیابات ہے‘ اللہ کے نام پر غربامیں تقسیم کردو۔ بس تشریف لے گئے اور خزانچی کو بلاکر حکم دیا کہ غربا میںروپیہ تقسیم کیاجائے۔ یتیموںاور بیوائوںکی مدد کی جائے۔ تمام رات مدینہ کی گلیوںمیں روپیہ تقسیم ہوتا رہا۔ صبح کو جو حساب لگایا تو رات بھر میں چھ لاکھ روپیہ تقسیم ہوا۔ صبح کو گھر پہنچے بہت ہشاش بشاش۔ بیوی کے ہاتھ چومے اور کہا کہ بہت عمدہ تدبیر بتلائی تھی میرادل ہلکا ہوگیا۔ (خطبات طیب)

اداریہ